حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط نمبر 12 Hijaz Ki Aandhi Part - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Friday, September 11, 2020

حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط نمبر 12 Hijaz Ki Aandhi Part

حجاز کی آندھی
(عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 12

اس ایک آواز کے ساتھ ہی بستی کے لوگوں نے شوروغل بپا کر دیا۔ پتا چلا کہ جالینوس کے بھگوڑے فوجیوں کو اس نے اپنی بستی میں پناہ دی تھی اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ان فوجیوں کو تقسیم کرکے اپنے گھروں میں رکھیں۔ یہاں بھی فوجیوں نے ہوس کاری کے مظاہرے کیے اور لوگوں کو بہت پریشان کیا۔
سلیطؓ بن قیس نے سترہ اٹھارہ فوجیوں کے سر تن سے جدا کر دیئے اور باقی سب کو جنگی قیدی بنا لیا۔ فراونداد نے اطاعت قبول کر لی۔
مثنیٰ بن حارثہ اور سلیطؓ بن قیس مختلف سمتوں کو دور دور تک چلے گئے اور فارس کے چھپے ہوئے فوجیوں کو پکڑ لائے ۔میدانِ جنگ سے بھاگے ہوئے یہ فوجی اس ڈر سے مدائن نہیں جاتے تھے کہ ان کا کمانڈر انچیف رستم انہیں سزا دے گا۔
محمد حسنین ہیکل اپنی کتاب فاروق اعظمؓ میں ایک واقعہ لکھتا ہے ۔اس وسیع و عریض علاقے کے جاگیرداروں اور رئیسوں کو یقین ہو گیا کہ ان کے علاقے سلطنتِ فارس سے نکل کر مسلمانوں کے قبضے میں آگئے ہیں اور انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ مسلمان خوشامد پسند نہیں اور یہ بادشاہ بھی نہیں اور یہ عزتیں لوٹنے کے بجائے عزتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔یہ لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ابو عبید اور ا س کے سالاروں کو اپنے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔


محمد حسنین ہیکل مستند مؤرخوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ابو عبید اپنے سالاروں کے ساتھ بارسماء میں تھا۔ ایک روز فرخ اور فراونداد ان کیلئے نہایت مرغن اور پر تکلف کھانا لائے جس میں انواع اقسام کے کھانے تھے ۔یہ ان کی عقیدت مندی کاا ظہار تھا۔
ابو عبید نے یہ شاہانہ کھانا دیکھا ۔پھر اپنے سالاروں کی طرف دیکھا۔
’’کیا یہ کھانا میرے پورے لشکر کیلئے کافی ہو گا؟‘‘ ابو عبید نے پوچھا۔
’’نہیں!‘‘ایک جاگیر دار نے کہا۔’’ یہ صرف آپ کیلئے ہے……سالاروں کے لیے……‘‘اس نے ہنس کر کہا۔’’ سپاہیوں کو ایسا کھانا کون دیتاہے؟‘‘
’’پھر یہ کھانا واپس لے جاؤ۔‘‘ ابو عبید نے کہا۔’’ ہمارے لشکروں میں سالار بھی وہی کھانا کھاتے ہیں جو سپاہی کھایا کرتے ہیں ۔ یہ ہمارے سپاہی نہیں اﷲ کے سپاہی ہیں۔ اگر تم پورے لشکر کر ایساکھانا دے سکتے ہو تو ہم بھی کھا لیں گے ورنہ نہیں۔‘‘
فاروق اعظمؓ میں لکھا ہے کہ جاگیرداروں نے بڑی عجلت میں مجاہدین کے پورے لشکر کیلئے ایساہی کھانا تیار کرایا جو سالاروں نے مجاہدین کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھایا۔


انہی تاریخ نویسوں نے یہ بھی لکھاہے کہ مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کیلئے مدینہ بھیجا گیا تو اس کے ساتھ اس علاقے کی ایک خاص قسم کی کھجور بھی حضرت عمرؓ کے لیے بھیجی گئی۔ اس کھجور کا نام نرسیان تھا۔ یہ فارس کے صرف شاہی خاندان اور جرنیل کھاتے تھے ۔عام لوگوں کے نصیب میں یہ کھجور نہیں تھی۔ ابو عبید نے یہ کھجور اپنے لشکر میں تقسیم کرنے کے علاوہ اس علاقے کے غریب کسانوں میں تقسیم کی اور حکم جاری کیا کہ آئندہ یہ کھجور ہر خاص و عام کھا سکتا ہے۔
مدینہ میں خوشیاں ناچ رہی تھیں اور مدائن پر شکست و مایوسی کی کالی گھٹائیں چھا گئی تھیں۔
رستم نے مسلمانوں کے خلاف ایک خوفناک جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔
رستم نے جنگ کی تیاریاں تو شروع کر دیں لیکن اس کے انداز اور چال ڈھال سے شک ہوتا تھا جیسے وہ اندر سے ہل گیا ہو۔ وہ غصے سے گرجتے گرجتے اچانک چپ ہو جاتا اور خلاء میں گھورنے لگتا ۔ ابھی جالینوس اس کے سامنے نہیں آیا تھا۔ سقاطیہ کی شکست کی وہ تفصیل سن چکا تھا۔
’’زرتشت کی قسم!‘‘ اس نے کہا۔ ’’سلطنتِ فارس کا یہ انجام نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ اس نے اپنے آپ سے باتیں کرنے کے انداز سے دبی دبی آواز میں کہا۔’’ یہ کیا ہو رہا ہے؟……شکست……ہرمیدان میں شکست……کیا ہم میں غدار تو نہیں پیدا ہو گئے؟……کیا مسلمان رومیوں سے زیادہ طاقتور ہیں؟……نہیں ‘ان کی تعداد تو بہت ہی تھوڑی ہے……‘‘


اس نے کمرے کے وسط میں کھڑے کھڑے سر جھکا لیا اور ہاتھ پیٹھ پیچھے کر کے کمرے میں اس طرح قدم گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے لگا جیسے وہ بھی سقاطیہ سے شکست کھا کر آیا ہو۔
’’رستم!‘‘اسے ملکۂ فارس پوران کی آواز سنائی دی‘ جو کمرے میں موجود تھی۔’’ کیا تم یقین سے کہتے ہو کہ سلطنتِ فارس انجام کو پہنچ رہی ہے؟‘‘
’’اوہ!‘‘رستم نے چونک کر کہا۔’’ ملکہ ٔفارس! معلوم نہیں……‘‘
’’ملکۂ فارس نہیں رستم!‘‘ پوران نے کہا۔’’پوران کہو۔ کئی بار کہہ چکی ہوں کہ مجھے ملکۂ فارس نہ کہا کرو……اور سنو رستم !آئے دن شکست کی خبریں سن کر تمہاری جذباتی حالت ٹھیک نہیں رہی۔ کچھ وقت کیلئے شکست کو ذہن سے نکال دو ۔ دل سے یہ بوجھ اٹھا دو۔ غصے اور غم کی حالت میں نہ سوچو۔ میرے پاس آجاؤ۔ اس وقت تمہیں میری ضرورت ہے۔‘‘


رستم نے پوران کی طرف یوں دیکھا جیسے ڈرا ہوا بچہ ماں کو دیکھتا ہے۔ پوران پیالے میں شراب انڈیل رہی تھی۔ رستم اس کی طرف یوں آہستہ اہستہ چلنے لگا جیسے پوران نے اس پر سحر طاری کر دیا ہو۔ پوران نے پیالہ دونوں ہاتھوں میں لے کر رستم کی طرف بڑھایا ۔ رستم جیسے اس پیالے کا ہی منتظر تھا۔ اس نے لپک کر پوران کے ہاتھ سے وہ پیالہ لے لیا اور پیالہ اس کے ہونٹوں سے جا لگا۔ دو تین گھونٹ پی کر ا س نے پیالہ تپائی پر رکھ دیا۔
پوران کرسی سے اٹھ کر دیوان پر بیٹھ گئی ۔ اس نے رستم کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف گھسیٹ لیا۔ دوسرے لمحے رستم پوران کے بازوؤں کی لپیٹ میں تھا اور اس کے جسم کی تپش پوران کے صحت مند جسم کی حرارت میں گھل مل رہی تھی۔
فارس جو بعد میں ایران کہلایا تین چیزوں کی بدولت مشہور تھا ۔نسوانی حسن، بہترین شراب، اور جنگی طاقت۔ جنگی طاقت کی دہشت جنگی ہاتھیوں کی وجہ سے تھی مگر اب فارسیوں کے پاس دو ہی چیزیں رہ گئی تھیں۔ایک نسوانی حسن، اور دوسری شراب۔ مسلمانوں نے انہیں جنگی طاقت کے زعم اور گھمنڈ سے محروم کر دیا تھا۔


مؤرخ لکھتے ہیں کہ جس رستم کا نام سن کر ہی اس کے دشمن چونک اٹھتے تھے ۔وہ رستم اب ایک بڑی ہی حسین عورت اور شراب کے نشے میں پناہ گزیں ہو گیا تھا۔ وہ ڈر نہیں گیا اس نے شکست قبول نہیں کرلی تھی ۔ اس کا یہ عزم متزلزل نہیں ہو گیا تھا کہ اپنی فوج کی پے بہ پے شکستوں کو فتح میں بدلے گا اوروہ فارس کی زمین پر کسی ایک بھی مسلمان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہو گا ۔اس نے دو تین بار کہاتھا کہ میں اپنی سر زمین پر صرف اس مسلمان کا وجود برداشت کروں گا جو مردہ ہوگا اور وہ فارس کی تلواروں اور برچھیوں سے کٹا ہواہوگا۔
رستم سقاطیہ کی شکست کی خبر سن کر خوفزدہ نہیں ہو گیا تھا۔ وہ شراب اور پوران کے توبہ شکن حسن اور اس کی خود سپردگی میں حقائق سے مفرور ہو کر گم نہیں ہو گیا تھا۔ اسے حیرت پریشان کر رہی تھی۔تعجب نے اس کا دماغ ماؤف کر دیا تھا ۔ ایک یورپی تاریخ نویس ولیم سکاٹ نے رستم کی اس وقت کی جو ذہنی اور جذباتی کیفیت لکھی ہے ۔اس سے یہ منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے کہ پوران نے حسن و جوانی سے دمکتا دہکتا جسم رستم کے حوالے اس مقصد سے کر دیا تھا کہ فارس کا یہ عظیم جرنیل نارمل ذہنی حالت میں لوٹ آئے اور سلطنتِ فارس کی ڈولتی ڈگمگاتی کشتی کو بھنور کی لپیٹ میں جا گرنے سے بچا لے۔
’’پوران!‘‘ رستم نے پوران کے سینے پر سر رکھے ہوئے کہا۔’’ میں ان بدوؤں سے بہت برا انتقام لوں گا۔ ‘‘وہ ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بول رہا تھا۔’’ لیکن میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ مسلمانوں میں وہ کون سی طاقت ہے جو ہم میں نہیں۔‘‘


’’سنا ہے وہ شراب نہیں پیتے۔‘‘ پوران نے کہا۔
’’وہ جاہل اور گنوار ہیں۔‘‘ رستم نے طنز کی۔’’ شراب ہم جیسی بادشاہ قوم پیا کرتی ہے۔‘‘
’’اور سنا ہے۔‘‘ پوران نے کہا۔’’ وہ جس شہراور جس بستی کو فتح کرتے ہیں وہاں کی عورتوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ۔خواہ کوئی نوجوان لڑکی کتنی ہی حسین کیوں نہ ہو۔‘‘
’’وہ صحرائی جانور ہیں۔‘‘ رستم نے کہا۔’’ حسن کی پرستار ہم جیسی شہنشاہ قوم ہی ہوا کرتی ہے۔‘‘
وہ یکلخت اُٹھ بیٹھا اور بولا۔’’ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے بارسماء کے دو جاگیرداروں فرخ اور فروانداد نے مسلمانوں کے لشکر کو شاہانہ کھانا کھلایا ہے ۔یہ ہیں وہ غدار جو سلطنتِ فارس کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ میں مسلمانوں کو تہس نہس کرکے اپنے ان جاگیرداروں کے خاندانوں کی تمام عورتوں کو اپنی فوج کے حوالے کر دوں گا۔‘‘
’’تم نے ابھی تک کسی لڑائی میں ہاتھی کیوں نہیں بھیجے؟‘‘پوران نے پوچھا۔
’’ہر لڑائی میں ہاتھی استعمال نہیں کیے جاتے۔‘‘ رستم نے کہا۔’’ ہاتھی ہر لڑائی میں بھیج دیئے جاتے تو اب تک ہمارے پاس ایک بھی ہاتھی نہ ہوتا۔ ہر لڑائی میں ان کی کچھ نہ کچھ تعداد ماری جاتی یا زخمی ہوجاتی۔ہاتھیوں کو لڑانے کا وقت اب آیا ہے۔ ہاتھی فیصلہ کن معرکے میں لڑائے جاتے ہیں……ہندوستان کے یہ ہاتھی مسلمانوں کو کچل ڈالیں گے……جالینوس نہیں آیا؟‘‘

’’وہ تمہارے سامنے آنے سے ڈر رہا ہے۔‘‘ پوران نے کہا۔’’ وہ شرمسار ہو گا۔‘‘
’’میں اُسے سزا نہیں دوں گا ۔‘‘ رستم نے کہا۔’’ میں اس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے عربوں میں کون سی ایسی طاقت دیکھی ہے جس کا وہ مقابلہ نہیں کر سکا۔‘‘
ولیم سکاٹ متعدد مؤرخوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ رستم کی فطرت میں غرور اور تکبر بھر گیا تھا۔ اس نے ایسی فتوحات حاصل کی تھیں جن سے وہ مغرور ہو گیا تھا۔ اب مسلمانوں سے شکست پہ شکست کھا کر اس کے تکبر میں کمی نہیں آئی تھی۔ لیکن اس کا ذہن اس سوال میں الجھ گیا تھا کہ مسلمانوں میں وہ کون سی طاقت ہے کہ اتنی تھوڑی سی تعداد اور معمولی ہتھیاروں سے فارس کے ہر جرنیل کو وہ میدان سے بھگاتے چلے آرہے ہیں۔
وہ انہی سوچوں میں غرق تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ ایک بزرگ اس سے ملنے آیا ہے۔ رستم کو یاد آیا کہ یہ وہ ہی بزرگ دانشور ہے جس نے اس سے کچھ دن پہلے پوچھا تھا کہ علمِ نجوم کے ذریعے پتہ چل گیا تھا کہ سلطنتِ فارس کا زوال شروع ہو گیا ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتاتو پھر اس نے سلطنت کی ذمہ داریاں کیوں اپنے سر لی ہیں؟ رستم نے جواب دیا تھا اقتداد کی ہوس اور حکومت کے لالچ میں۔


رستم نے اطلاع ملتے ہی کہ شاموز آیا ہے ، اسے اندر بلا لیا اور پوران کے قریب سے اٹھ کر کرسی پر جا بیٹھا ۔شاموز اندر آیا تو وہ ملکہ ٔفارس پوران کے آگے جھکا ۔رستم نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا اور احترام سے بٹھایا۔
’’اب تمہارے ستارے کیا کہتے ہیں رستم؟‘‘ شاموز نے پوچھا۔
’’گردش میں ہیں میرے بزرگ!‘‘ رستم نے جواب دیا۔’’ ستارے دھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘
’’انسان جب اپنے آپ کو دھوکادینے پر آجاتے ہیں تو ان کے ستارے آسمان کی وسعت میں بھٹک جاتے ہیں۔‘‘ شاموز نے کہا۔
’’آپ بزرگ اور دانشور ہیں۔‘‘ رستم نے کہا۔’’ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ مسلمانوں میں کوئی غیبی یا کوئی پراسرار طاقت تو نہیں؟‘‘
’’یہ نظریئے اور عقیدے کا معاملہ ہے۔‘‘ بوڑھے شاموز نے کہا۔’’ تم ستاروں سے آنے والے وقت کی بات پوچھتے ہو اور مسلمان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اﷲ کی عبادت کرتے ہیں جو سورج چاند اور ستاروں کو آسمان میں گھماتا پھراتا ہے اور ان کی گردش کے راستے ذرا بھی تبدیل نہیں ہوتے۔‘‘
’’تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم بھی ان کے اس عقیدے کو تسلیم کر لیں؟‘‘رستم نے پوچھا اور کہا۔’’ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان کے عقیدے سے متاثر ہیں اور……‘‘


’’نہیں! ‘‘شاموز نے رستم کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔’’ میں ان کی بات سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں یہودی ہوں؟اسلام کی بیخ کنی ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ اتنی زیادی شکستیں کھا کر حوصلہ نہ ہار بیٹھنا ۔ میں تمہاری حوصلہ افزائی کیلئے آیا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ مسلمانوں کے لشکر میں عیسائیوں کی بھی کچھ تعداد ہے؟‘‘
’’میں نے سنا ہے۔‘‘ رستم نے کہا۔ ’’اور میں حیران ہوں کہ عیسائی مسلمانوں کے ساتھ کیوں مل گئے ہیں؟‘‘
’’عرب ہونے کے ناطے سے۔ ‘‘شاموز نے کہا۔’’ تم شاید نہیں جانتے کہ ہم نے کتنے ہی عیسائی قبیلوں کو مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہونے سے روک رکھا ہے۔ کچھ عیسائی مالِ غنیمت کے لالچ میں مسلمانوں سے جا ملے ہیں لیکن ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عیسائی تمہاری بادشاہی سے ڈرتے ہیں۔ مسلمانوں میں بادشاہی کا رواج نہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ بادشاہی اﷲ کی ہے اور جو لوگ حاکم بنائے جاتے ہیں وہ اﷲ کے احکام کی پیروی کرتے اور لوگوں سے پیروی کرواتے ہیں ۔ وہ لوگوں پر ذاتی فائدے کیلئے کوئی حکم نہیں چلا سکتے۔
’’کیا یہ ہمارا فرض نہیں کہ اس عقیدے کو توڑ دیں؟‘‘ پوران نے پوچھا۔


’’ہاں ملکۂ فارس!‘‘ شاموز نے کہا۔’’ یہ آپ کا فرض ہے……اور یہی فرض ہمارا ہے۔ ……آپ میدانِ جنگ میں اپنا فرض ادا کریں اور ہم یہودی زمین کے نیچے اپنا فرض دا کر رہے ہیں۔‘‘
شاموز یہودی تھا۔ یہودیت اور ابلیسیت میں سوائے نام کے اور کوئی فرق نہیں۔ اس نے پوران اور رستم کا یہ عقیدہ اپنے پر اثر استدلال سے پختہ کر دیا کہ شہنشاہیت ان کا آبائی حق ہے اور انہیں اپنی سلطنت کے تحفظ اور توسیع کیلئے ہر طرح کی قربانی دینی چاہیے ورنہ مسلمان ان پر فتح حاصل کرکے غلام بنا لیں گے۔
’’ستاروں کی گردش سے نکلو رستم !‘‘شاموز نے کہا۔’’اور مسلمانوں کو اپنی جنگی قوت دکھا دو ……اور انہیں یہ بھی بتا دو کہ ان کا مذہب ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں……یہ کام صرف تم کر سکتے ہو۔‘‘
اور جب جالینوس رستم کے سامنے آیا تو رستم کو جیسے پتا ہی نہیں چل رہا تھا کہ اسے کیا کہے اور کیانہ کہے۔ جالینوس کا سر جھکا ہوا تھا۔
’’جالینوس!‘‘کچھ دیر بعد رستم نے وہ سکوت توڑا جو کمرے میں طاری ہو گیا تھا ۔’’ اگر شکست کھاکر بھاگنے والے تم اکیلے ہو تے تو آج تم اس کمرے سے زندہ نکل کر نہ جاتے۔ افسوس یہ ہے کہ تم پر مجھے جو اعتبار تھا وہ مجروح ہو گیا ہے۔ تمہیں عربوں کے مقابلے میں بھیج کر میں فتح کی خبر کے انتظار میں تھا ……کیا تم بتاسکتے ہو کہ مسلمانوں میں وہ کون سی طاقت ہے جو ہم میں نہیں؟‘‘


’’دہشت!‘‘جالینوس نے کہا۔’’ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہماری فوج میں ہے مسلمانوں میں نہیں۔ یہ دہشت ہمارے ان سپاہیوں نے پھیلائی ہے جو مسلمانوں سے شکست کھا کر بھاگ آتے ہیں……میں سقاطیہ کے میدانِ جنگ سے اس وقت نکلا تھا جب میرے سپاہی گیدڑوں کی طرح بھاگ نکلے تھے ۔ میرا جذبہ اور حوصلہ قائم ہے ۔ میں نے شکست کھائی ہے لیکن میں نے شکست کو قبول نہیں کیا، میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک شکست کا انتقام نہیں لے لوں گا۔
رستم نے جالینوس کے ساتھ کوئی اور بات نہ کی۔ اس نے حکم دیاکہ اس کے جو اعلیٰ فوجی افسر یہاں موجود ہیں۔ اُنہیں محل کے باہر بلایا جائے ۔اس نے فوج کے چھوٹے بڑے عہدیداروں کو بھی بلایا۔
رستم باہر نکلا۔ رستم کی پوزیشن تو کمانڈرانچیف جیسی تھی لیکن عملاً فارس کا بادشاہ وہی تھا۔پوران چونکہ شاہی خاندان کی عورت تھی اس لیے ملکہ اسی کو بننا تھا ۔اس نے تمام کے تمام امورِ سلطنت رستم کے حوالے کر دیئے تھے۔ فوج کے جرنیل اور ان سے چھوٹے عہدوں کے افسر رستم کی اس حیثیت اور اختیارات سے آگاہ تھے ۔اس لیے اسے بادشاہ سمجھ کر اس کی تعظیم کرتے تھے۔


رستم جب باہر نکلا تو ملکۂ فارس پوران اس کے ساتھ تھی اور ان کے پیچھے جالینوس تھا۔
’’کیا اسے تم ملکہ کہو گے؟‘‘ ایک فوجی افسر نے اپنے ساتھ کھڑے افسر کے کان میں کہا۔’’ رستم نے اسے بیوی بنا رکھا ہے۔‘‘
’’کون نہیں جانتا!‘‘دوسرے افسر نے کہا۔’’ رستم اب وہ رستم نہیں رہا جو میدان ِجنگ کا بادشاہ تھا۔ یہ اب فارس کا بادشاہ بن گیا ہے۔‘‘
رستم جب قریب آیا تو تمام فوجی افسر تعظیم میں جھک گئے۔
’’یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آدھا فارس مسلمانوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔‘‘ رستم نے کہا۔’’ صرف ان ہی جرنیلوں نے عرب کے مسلمانوں سے شکست نہیں کھائی جو ان کے مقابلے میں لڑے نہیں……جابان،مروان، نرسی، جالینوس……کیا یہ شکست کھانے والے جرنیل تھے؟ ‘‘رستم نے خاموش ہو کر ایک سرے سے دوسرے سرے تک سب پر نظریں دوڑائیں۔ پھر کہا۔’’اب میں خود کسی جرنیل سے نہیں کہوں گا کہ وہ فوج کی کمان لے اور عربوں کو فارس سے نکالے، تم بتاؤ اب کون جائے؟‘‘تاریخ میں رستم کے یہ الفاظ تحریر ہیں۔ ’’تمہارے خیال میں کون عجمی عربوں پر غالب آسکتا ہے؟‘‘
’’بہمن جادویہ!‘‘بہت سی آوازیں اٹھیں۔ ’’ہاں ہاں! عربوں پر بہمن جادویہ ہی غالب آسکتا ہے۔‘‘

بہمن جادویہ کا نام ذوالحاجب تھا۔ بہمن ایک خطاب تھا جو اسے جارحانہ اور جرأتمندانہ قیادت کے صلے میں ملا تھا۔ رستم بھی اس کی بہادری کا قائل تھا۔ بہمن وہاں موجود تھا۔ رستم نے اُسے آگے بلایا۔
’’مسلمانوں کی نفری دس ہزار سے کم ہو سکتی ہے زیادہ نہیں ہوگی۔‘‘ رستم نے کہا۔’’ تم اس سے تین گنا چار گنا نفری لے جاؤ۔ وہ تمہیں دریاکے کنارے ملیں گے۔ اُنہیں فرات میں ڈبو کر دم لینا تمہارا کام ہے۔‘‘ رستم نے جالینوس کی طرف دیکھا اور کہا۔’’ تم بھی بہمن کے ساتھ جاؤ گے جالینوس!……اور یاد رکھو……اب اگر تم نے میدان میں پیٹھ دکھائی تو میرے سامنے نہ آنا۔ اپنی تلوار اپنے پیٹ میں گھونپ لینا ورنہ میری تلوار تمہاری گردن کاٹ دے گی۔‘‘
’’زرتشت کی قسم!‘‘ جالینوس نے بلند آواز سے کہا۔’’ اب مدائن میں میری فتح کی خبر آئے گی یا موت کی۔‘‘
ایک مسلمان مؤرخ ابو حنیفہ دینوری لکھتے ہیں کہ رستم نے ان تمام جرنیلوں اور دیگر افسروں کو جانے کی اجازت دے دی اور پوران کے ساتھ محل میں چلا گیا۔ افسر وہاں سے ہٹے تو ٹولیوں کی شکل میں بٹ گئے۔ ان میں بعض رستم کے حق میں باتیں کر رہے تھے اور بعض رستم کے خلاف اور پوران کے حق میں بول رہے تھے۔ صاف پتا چلتا تھا کہ فوج کے افسروں کے دو ٹولے بن گئے ہیں ۔ایک ٹولہ رستم کے حق میں اور دوسرا اس کے خلاف تھا۔ اس طرح کچھ افسر پوران کے حامی اور باقی اس کے خلاف تھے۔

ابو عبید کے لشکر کی تعداد دس ہزار سے کم رہ گئی تھی۔بعض مؤرخین نے آٹھ ہزار سے ذرا زیادہ لکھی ہے۔ کئی مجاہدین شہید ہوئے اور ایسے زخمیوں کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔ جن کے زخموں نے انہیں لڑنے سے معزور کر دیا تھا۔ سقاطیہ کی لڑائی کے بعد ابو عبید اپنے لشکر کو دریائے فرات کے کنارے قس الناطف کے مقام پر لے گئے تھے۔ لشکر اگلی لڑائی کیلئے آرام اور تیاریاں کر رہا تھا۔
طبری اور تین چار اور مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ابو عبید کی بیوی دومہ ان کے ساتھ تھی۔
’’ایک پر نور چہرے والے آدمی کو میں نے آسمان سے اترتے دیکھا۔‘‘ ایک روز دومہ نے اپنا خواب ابو عبید کو سنایا۔’’ اس کے ہاتھ میں شرابِ طہور کی صراحی تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ نے اور بہت سے ال ثقیف نے اس صراحی سے شرابِ طہور پی۔ اس کے فوراً بعد میری آنکھ کھل گئی۔‘‘
’’اشارہ صاف ہے۔‘‘ابو عبید نے اپنی بیوی سے کہا۔’’ میں اور وہ اہلِ ثقیف جنہوں نے شرابِ طہور پی ہے‘ جامِ شہادت نوش کریں گے۔ اﷲ نے یہ واضح اشارہ اس لیے دیا ہے کہ میں اپنی سپہ سالاری کے جانشین مقرر کردوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شہادت مجھے جانشین مقرر کرنے کی مہلت ہی نہ دے۔‘‘


انہوں نے اسی روز جانشین مقرر کر دیئے کہ وہ شہید ہو جائیں تو فلاں کمان اور پرچم سنبھال لے۔ اس کے بعد فلاں اور اسی طرح انہوں نے متعدد سالاروں کو بتا دیا کہ کون کس کے بعد کمان سنبھالے گا۔
بہمن جادویہ بڑی شان سے فوج لے کر مدائن سے نکلا۔ مدائن کی ساری آبادی باہر نکل آئی تھی اور بازو لہرا لہرا کر اور نعرے لگا لگا کر اپنی فوج کو رخصت کر رہی تھی۔ ملکہ پوران او ر رستم گھوڑوں پر سوار شہر کے دروازے کے باہر کھڑے فوج کو الوداع کہہ رہے تھے ۔دونوں مسکرا رہے تھے۔
’’مسلمان تم سے زیادہ بہادر نہیں۔‘‘ ملکہ پوران اپنے سامنے سے گزرتی ہوئی فوج سے بار بار کہہ رہی تھی۔’’ تم فاتح واپس آؤ گے۔‘‘
مؤرخ لکھتے ہیں کہ مدائن سے فوجیں مختلف محاذوں پر جاتی رہتی تھیں اور بار ہا گئی تھیں لیکن ایسی شان و شوکت سے پہلی بار فوج کو رخصت کیا گیا جس طرح بہمن جادویہ اور جالینوس کے دستوں کو رخصت کیا جا رہا تھا۔ رستم اور پوران کچھ دور تک اس فوج کے ساتھ گئے اور ایک ٹیکری پر کھڑے ہو کر ان دستوں کو رخصت کیا۔
ان دستوں میں گھوڑ سوار زیادہ تھے اور ان کے ساتھ ہاتھی بھی تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں کے خلاف ہاتھی لے جائے جا رہے تھے ۔کسی بھی مؤرخ نے ہاتھیوں کی تعداد نہیں لکھی۔ کچھ ایسا اشارہ ملتا ہے کہ ان کی تعداد ہزاروں میں نہیں سینکڑوں میں تھی۔ یہ تو تقریباً ہر مؤرخ نے لکھا ہے کہ ان میں ایک ہاتھی سفید تھا جو عام ہاتھی سے ڈیڑھ گنا قوی ہیکل تھا۔


ان ہاتھیو ں کی شان ہی نرالی تھی۔ ان پر ہودے کسے ہوئے تھے ۔جن میں تیر انداز اور نیزہ بازکھڑے تھے اورہر ایک کی گردن پر ایک ایک مہاوت بیٹھا تھا ۔ہر ہاتھی کے ساتھ بڑے بڑے گھنٹے بندھے ہوئے لٹک رہے تھے جو بجتے تھے تو بہت اونچی آواز دیتے تھے ۔ سینکڑوں ہاتھیوں کے گھنٹوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ گھنٹوں کی آوازوں سے کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ ہر ہاتھی کے دونوں پہلوؤں سے لوہے کی زنجیریں لٹک رہی تھیں ۔ان زنجیروں کی وجہ سے ہاتھی کے پیٹ پر تلوار کا وار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان ہاتھیوں کو جنگی تربیت دی گئی تھی اور انہیں خوراک اتنی زیادہ دی جاتی تھی کہ یہ ہر وقت مستی کی حالت میں رہتے تھے۔
یہ ہاتھی سندھ کے اس وقت کے راجہ نے فارسیوں کو بھیجے تھے ۔اس کے کچھ عرصے بعد فارس کے بادشاہ کی فرمائش پر راجہ داہر نے بھی کچھ ہاتھی بھیجے تھے۔
’’ذوالحاجب! ‘‘جالینوس نے بہمن جادویہ سے پوچھا۔ ’’رستم اور ملکۂ فارس کے گٹھ جوڑ کے متعلق تمہارا کیاخیال ہے؟‘‘
’’میرے خیال کی کیا پوچھتے ہو جالینوس!‘‘بہمن جادویہ نے کہا۔’’ میں نے فوج میں ایک بہت ہی خطرناک تبدیلی دیکھی ہے۔ کچھ لوگ رستم کے حامی ہیں اور کچھ پوران کے۔ رستم کے حامی پوران پر اور پوران کے حامی رستم پر شکست کا الزام لگاتے ہیں۔‘‘


’’میں نے بھی یہی دیکھا ہے۔ ‘‘جالینوس نے کہا۔ ’’مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ مدائن میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ میں ذاتی طور پر پوران کو پسند کرتا ہوں۔ کسریٰ کے خاندان کی عورتوں میں یہ واحد عورت ہے جس نے سلطنتِ فارس کے تحفظ اور تو سیع کی طرف توجہ دی ہے، اور شاہی خاندان میں تخت و تاج پر جو لڑائیاں شروع ہو گئی تھیں وہ بند کرائی ہیں۔‘‘
’’میں بھی مدائن میں خانہ جنگی کے آثار دیکھ رہا ہوں۔‘‘ بہمن جادویہ نے کہا۔’’ شاہی خاندان میں کچھ اور ہی سیاست چل پڑی ہے ۔پوران کے خلاف یہ شکایت ہے کہ وہ رستم کی ہو کر رہ گئی ہے۔‘‘
’’ہمیں اپنا فرض ادا کرنا ہے۔‘‘ جالینوس نے کہا۔
’’لیکن ہمیں مدائن پر نظر رکھنی پڑے گی۔‘‘ بہمن جادویہ نے کہا۔’’میں پیچھے اپنے دو جاسوس چھوڑ چلا ہوں۔ وہ مجھے مدائن کے حالات سے آگاہ رکھیں گے۔‘‘
ابو عبید قس الناطف کے قریب خیمہ زن تھے۔ قس الناطف قلعہ بند قصبہ تھا۔ ابو عبید اپنے لشکر کو اس قلعے میں لے گئے۔ وہیں انہیں اطلاع ملی کہ مدائن سے فارسیوں کی فوج آرہی ہے۔ ابو عبید نے اپنے سالاروں مثنیٰ بن حارثہ اور سلیطؓ بن قیس کو بلایا اور انہیں بتایا کہ آگے جاکر دیکھ بھال کرنے والے اپنے آدمیوں نے بتایا ہے کہ مدائن سے فوج آرہی ہے۔ جس کا رخ اِدھر ہی ہے۔

’’……اور میرے رفیقو!‘‘ابو عبید نے کہا۔’’ اس فوج کے ساتھ ہاتھی بھی ہیں۔ میں صرف ہاتھیوں سے ڈرتا ہوں۔ ڈر یہ ہے کہ ہمارے آدمیوں نے ابھی تک ہاتھی دیکھے ہی نہیں ۔وہ ڈر جائیں گے۔‘‘
’’ہم اپنے آدمیوں کو بتا دیں گے کہ ہاتھی کی جسامت اور شکل و صورت سے نہ ڈریں۔‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’ اور انہیں یہ بھی بتا دیں گے کہ ہاتھیوں کی سونڈیں کاٹنے کی کوشش کریں۔‘‘
’’تیر انداروں کو آگے کریں گے ۔‘‘سلیطؓ بن قیس نے کہا ۔’’جو ہاتھی زخمی ہو گا وہ پیچھے کو بھاگے گا اور اپنی فوج کو روندتا پھرے گا۔‘‘
’’اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ ابو عبید نے کہا۔’’ سب کو بتا دینا کہ ہاتھی آرہے ہیں‘اور ان سے ڈریں نہیں……دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں قلعہ بند ہو کر نہیں لڑنا چاہیے۔ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ قلعہ چھوٹا ہے اور مضبوط بھی نہیں۔ دروازے ہاتھیوں کی ٹکر سے ٹوٹ جائیں گے۔ فارسی اندر آگئے تو ہمارے لیے لڑنے کی جگہ تنگ ہو گی۔‘‘
’’اور خطرہ یہ بھی ہے۔‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’ کہ اس جگہ کے لوگوں کا کچھ بھروسہ نہیں۔ اب ہمارے وفادار بنے ہوئے ہیں ۔ہو سکتا ہے اپنی فوج کو دیکھ کر ہمارے دشمن ہو جائیں اور برچھیاں تلواریں لے کر ہماری پیٹھ پر وار کرنے شروع کر دیں۔‘‘
’’لشکر کو فوراً باہر نکالو۔‘‘ سپہ سالار ابو عبید نے کہا۔ ’’اور شہر کے دروازے بند کر دو۔ سارے شہر کو حکم سنا دو کہ شہرکا کوئی آدمی عورت یا بچہ شہر سے نہ نکلے۔‘‘
شہر میں کچھ دیر بعد ہڑبونگ سی مچ گئی۔ مجاہدین کا لشکر بھاگم بھاگ تیاریوں میں مصروف ہوگیا اور شہر کے لوگ اپنا قیمتی ساز و سامان سونا اور اپنی جوان بیٹیاں اِدھر اُدھر چھپانے لگے ۔ شام تک مجاہدین کالشکر قلعے سے نکل گیااور دریائے فرات کے کنارے قیام پزیر ہوا۔ اس مقام کا نام مروحہ تھا اور وہاں کشتیو ں کا پل بھی تھا۔

بہمن جادویہ کے متعلق تاریخوں میں لکھا ہے کہ وہ مسلمانوں کو صرف اس لیے ہی دشمن نہیں سمجھتا تھا کہ انہوں نے اس کے ملک پر حملہ کیا تھا۔ بلکہ اس کے دل میں پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری ہوئی تھی۔ جسے وہ مذہب کا رنگ دیا کرتا تھا۔
’’جالینوس!‘‘اس نے راستے میں یہ الفاظ کہے تھے جو تاریخ میں محفوظ ہیں۔’’ میں یہ لڑائی ملکۂ فارس اور رستم کے حکم سے لڑنے نہیں آیا۔ یہ میری ذاتی لڑائی ہے۔ میں نے ان کے سالار خالد سے جو شکستیں کھائی ہیں ،۔ان کا انتقام ان مسلمانوں سے لوں گا۔‘‘
’’انتقام تو میں نے بھی لینا ہے۔ ‘‘جالینوس نے کہا۔’’ میں ان کے خون سے فرات کو لال کر دوں گا۔‘‘
پھر فارس کی یہ فوج مسلمانوں کے بالمقابل دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئی۔ چونکہ سورج غروب ہو رہا تھا اس لیے اسی روز لڑائی شروع نہیں ہو سکی تھی۔ عربوں نے ہاتھی کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے پہلی بار ہاتھی دیکھے تو دریا کے کنارے کھڑے ہو کر اندھیرا گہرا ہونے تک دیکھتے رہے۔ رات کو سالاروں نے انہیں بتایا کہ ہاتھیوں کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے۔
حسبِ معمول فارس کی فوج کی نفری مسلمانوں کی نسبت اڑھائی تین گنا زیادہ تھی۔ سوار دستے بھی زیادہ تھے اور ہاتھی ایک اضافی جنگی قوت تھی۔

رات گزر گئی۔ فجر کی نماز کی امامت ابو عبید نے کی اور سورہ انفال کی یہ آیت پڑھ کر مختصر سا خطبہ دیا کہ’’ آج کے دن جس نے پیٹھ دکھائی بجز اس کے کہ وہ کسی مصلحت سے پیچھے ہٹا ‘اس پر اﷲ کا غضب نازل ہو گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ پھر کہا کہ’’ آج تک باطل کی اس جنگی قوت کو تم نے ہر میدان میں شکست دی ہے۔ ہر میدان میں ان کی تعداد تم سے کہیں زیادہ اور بہت زیادہ رہی ہے۔ اﷲ نے تمہیں ہر میدان میں فتح عطا فرمائی لیکن اﷲ اپنے کرم سے اسی کو نوازتا ہے جو اس کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں۔ اب ایسانہ ہو کہ ہم شکست کی سیاہی اپنے چہروں پر مل کر مدینہ جائیں۔ تمہاری اپنی بیویاں اپنی بہنیں اور اپنے بچے تمہاری صورت دیکھنا گوارا نہیں کریں گے۔ان ہاتھیوں سے نہ ڈرنا۔ ان چلتی پھرتی چٹانوں کو انہیں کے لہو میں ڈبو دو۔‘‘
صبح کی روشنی ذرا سفید ہوئی تو دریا کے پاس سے فارسیوں کی للکار سنائی دے رہی تھی۔ ابو عبید نے اس طرف کے کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھا ۔بہمن جادویہ پکار رہا تھا۔
’’کیاتم دریا پار کر کے اس طرف آؤ گے یا ہم ادھر آئیں؟‘‘بہمن جادویہ بلند آواز سے پوچھ رہا تھا۔
ابو عبید نے اس خیال سے کوئی جواب نہ دیا کہ اپنے سالاروں سے مشورہ کرکے جواب دیں گے۔
’’تم عرب کے بدو اس طرف آنے کی جرات کر ہی نہیں سکتے ۔‘‘ بہمن جادویہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’تمہارے چہرے بتاتے ہیں کہ تم اِدھر آنے سے ڈرتے ہو۔‘‘ جالینوس نے طعنہ دیا۔
’’ہم آرہے ہیں۔‘‘ ابو عبید نے کہا اور دریا کے کنارے سے ہٹ آئے۔


’’خدا کی قسم!‘‘ ابو عبید نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’ میں یہ طعنہ برداشت نہیں کر سکتاکہ ہم ان آتش پرستوں سے ڈرتے ہیں۔ جنہیں ہم ہر لڑائی میں شکست دے چکے ہیں ……کشتیوں کا پل موجود ہے۔ لشکر دریا کے پار جا کر لڑے گا۔‘‘ تاریخ عمر فاروقؓ میں ابو عبید کے یہ الفاظ تحریر ہیں ۔’’آتش پرست موت پر ہم سے زیادہ دلیر نہیں ہیں۔ دریا ہم ہی عبور کریں گے۔‘‘
‘‘
’’ابو عبید!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’ خدا کی قسم ! مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم لشکر کو دریا کے پار لے جا کر لڑاؤ گے۔‘‘
’’تمہیں یقین کیوں نہیں آرہا ابن حارثہ؟‘‘ ابو عبید نے کہا۔ ’’انہوں نے ہمیں للکارا ہے ۔ہم دریا کے پار جا رہے ہیں۔‘‘
’’کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ ان کی تعداد کتنی زیادہ ہے؟‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’ وہ ہاتھی بھی لائے ہیں ۔ان کی تیاری دیکھو……ہمیں دریا کے پار نہیں جانا۔ انہیں للکارو کہ وہ اِدھر آئیں۔‘‘
مؤرخ طبری اور بلاذری نے لکھا ہے کہ ابو عبید بہمن جادویہ اور جالینوس کی طعنہ آمیز للکار پر اس قدر مشتعل ہو گئے تھے کہ وہ مثنیٰ بن حارثہ کی کسی بات اورکسی دلیل کو قبول نہیں کر رہے تھے۔
’’اوریہ بھی دیکھ ابو عبید!‘‘سالار سلیطؓ بن قیس نے کہا۔ ’’ہماری تعداد مشکل سے نو ہزار ہے اور ان کی تعداد تو دیکھو ۔پچیس ہزار ہو گی۔ میدان کے زیادہ حصے میں تو انہوں نے اپنی فوج کو پھیلا دیا ہے اور ہاتھیوں کو انہوں نے قلب میں رکھا ہے۔ انہوں نے ہمارے نو ہزار مجاہدین کیلئے جو جگہ چھوڑی ہے وہ کافی نہیں ہے۔ ہمارے سواروں کیلئے گھوڑے گھما پھرا کر لڑنے کیلئے یہ جگہ تنگ ہے۔ پیچھے دریا ہے۔ دائیں بائیں کی زمین کٹی پھٹی ہے ، کھڈ بھی ہیں……ہمیں پار نہیں جانا چاہیے۔‘‘

’’خدا کی قسم! ‘‘ابو عبید نے کہا۔’’ یہ ہماری بزدلی ہو گی کہ ہم پار نہ جائیں۔‘‘
’’میں تمہیں پھر کہتاہوں۔‘‘ سلیط ؓبن قیس نے ذرا درشت لہجے میں کہا۔’’ اپنے ارادے سے باز آجاؤ‘ پچھتاؤ گے۔‘‘
’’تم بزدل ہو۔‘‘ ابو عبیدنے زیادہ درشت لہجے میں کہا۔’’میں اپنی زبان سے نہیں پھروں گا۔ میں نے انہیں کہہ دیا ہے کہ ہم آرہے ہیں۔‘‘
’’خدا کی قسم!‘‘ سلیطؓ بن قیس نے کہا۔’’ میں تم سے زیادہ دلیر ہوں۔ میں نے اپنی رائے دے دی ہے۔ تمہیں خطروں سے خبردار کر دیا ہے۔ تم سپہ سالار اور ہمارے امیر ہو۔ تمہاری اطاعت ہم پر فرض ہے۔‘‘
’’پھر تم میرا حکم مانو! ‘‘ابو عبید نے کہا۔
محمد حسنین ہیکل نے اپنی کتاب عمر ؓ فاروق اعظم میں مختلف مؤرخوں کے حوالوں سے یہ واقعہ تفصیل سے لکھاہے۔ اس نے لکھا ہے کہ مثنیٰ بن حارثہ پر خاموشی طاری ہو گئی۔ ابو عبید کو یاد نہ رہا کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے ابو عبید کو مدینہ میں بوقت رخصت نصیحت کی تھی کہ کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہ کرنا۔ تمہارے ساتھ رسولﷺ کے صحابی جا رہے ہیں۔ ان کے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ اورکوئی بڑی کارروائی نہ کرنا۔ سلیطؓ بن قیس کی رائے کو اہمیت دینا۔


حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ مدینہ سے جو لشکر جا رہا ہے اس کا سپہ سالار مثنیٰ بن حارثہ کو ہونا چاہیے یا سلیطؓ بن قیس کو۔مثنیٰ بن حارثہ کو اس لیے سپہ سالار ہونا چاہیے تھا کہ انہوں نے خالدؓ بن ولید کی قیادت میں فارس کی فوج کے خلاف کئی معرکے لڑے تھے۔ اس طرح وہ تجر بہ کار اور ہوشمند سالار بن گئے تھے۔ سلیطؓ بن قیس کو اس لیے سپہ سالار ہونا چاہیے تھا کہ وہ صحابی رسولﷺ تھے۔ انہوں نے رسولﷺ کی قیادت میں کئی جنگیں لڑی تھیں۔ لیکن حضرت عمرؓ نے ابو عبید کو سالاری کا رتبہ صرف اس لیے دیا تھا کہ حضرت عمرؓ کے کہنے کے باوجود کوئی ایک بھی آدمی عراق کے محاذ پر جانے کیلئے تیار نہیں ہوا تھا۔مثنیٰ بن حارثہ کمک لینے کیلئے مدینہ آئے ہوئے تھے۔ اُنہو ں نے لوگوں کو ایسا اشتعال دلایا کہ ابو عبید اٹھے اور کہا کہ وہ عراق کے محاذ پر جائیں گے۔ ان کے اٹھنے کی دیر تھی کہ وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں نے محاذ پر جانے کیلئے اپنے نام پیش کر دیئے ا ور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہزار رضا کار عراق کے محاذ پر جانے کیلئے تیار ہو گئے۔
پہلے تفصیل سے بیان ہو چکا ہے کہ رضاکاروں کی تعداد کس طرح چار ہزار ہوئی‘اور جب ابو عبید محاذ پر پہنچے تو رضاکار مجاہدین کی تعداد دس ہزار تھی۔ جیسے ابو عبید نے سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کر کے دروازہ کھول دیا تھا۔ مدینہ میں ہی جب امیر المومنین حضرت عمر ؓنے دیکھا تھا کہ ابو عبید کے پیچھے ایک ہزار رضاکار تیار ہو گئے ہیں تو انہو ں نے اس کا سہرا ابو عبید کے سر باندھا اور انہیں مجاہدین کے اس لشکر کا سپہ سالار بنا دیا تھا۔

ابو عبید صحابی نہیں تھے۔ پھر بھی حضرت عمر ؓنے انہیں اس لشکر کا سپہ سالار اور امیر مقرر کر دیا تھا۔ جس میں صحابہ کرامؓ بھی تھے۔ حضرت عمرؓ کے اس فیصلے پر اعتراض بھی ہوا تھا جس کے جواب میں حضرت عمر ؓنے کہا:
’’خدا کی قسم! میں کسی مدنی یا کسی صحابی کو سپہ سالار نہیں بناؤں گا۔ اﷲ نے تمہیں سر بلندی اس لیے عطا فرمائی تھی کہ تم نے دین کے دشمنوں کے سر کچلنے کیلئے ہمت اور شجاعت کے جوہر دکھائے تھے ۔مگر میں تین دن سے دیکھ رہا ہوں تمہارے چہروں پر بزدلی لکھی ہوئی تھی ۔تم دشمن کے سامنے جانے سے ڈر رہے تھے۔ تو کیا سالاری اور امارت کیلئے اس شخص نے برتری حاصل نہیں کرلی جو اپنے دین کی حفاظت اور فروغ کیلئے سب سے پہلے آگے آیا؟……خدا کی قسم‘ ا س لشکر کا امیر یہی شخص ہو گا ……ابو عبید!اٹھو۔ میں نے تمہیں اس لشکر کا امیر مقرر کیا جو مثنیٰ بن حارثہ کے ساتھ جا رہا ہے ۔‘‘ حضرت عمر ؓنے وہاں بیٹھے ہوئے دو صحابہ کرامؓ سعد ؓبن عبید اور سلیطؓ بن قیس سے کہا تھا۔ ’’تم دونوں ابو عبید کے بعد بولے تھے کہ تم محاذ پر جاؤ گے ۔ابو عبید سے پہلے تم اٹھتے تو لشکر کے امیر تم ہوتے۔‘‘

پھر حضرت عمرؓ نے ابوعبید کو دو واضح نصیحتیں کیں اور ہدایات دی تھیں جن کا لب لباب یہ تھاکہ انہیں جو رتبہ دیا گیا ہے اس کا غلط استعمال نہ کریں اور بغیر مشورے کے اپنا کوئی فیصلہ نہ ٹھونسیں۔ مگر ابو عبید امیر المومنینؓ کی ہدایات کو ذہن سے صاف کر چکے تھے اور وہ اپنا ذاتی فیصلہ ٹھونسن رہے تھے کہ ہم دریا کے پار جا کر لڑیں گے..

No comments:

Post a Comment