حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط نمبر 13 Hijaz Ki Aandhi part - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Saturday, September 12, 2020

حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط نمبر 13 Hijaz Ki Aandhi part

حجاز کی آندھی
(عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 13

مبصر لکھتے ہیں کہ مسلمان جو دیکھتے ہی دیکھتے آدھی دنیا پر چھاگئے تھے او ر جنہوں نے قیصرِ روم اور کسریٰ فارس کی جنگی طاقت کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا ۔وہ اس ڈسپلن کا کرشمہ تھا کہ مسلمان اپنے امیر کی اطاعت کو مذہبی فرض سمجھتے تھے ، امیر آمر نہیں ہوتے تھے۔ ان کا کوئی فیصلہ اور کوئی حکم ذاتی نوعیت کا نہیں ہوتا تھا۔
مثنیٰ بن حارثہ ،سلیطؓ بن قیس اور سعد ؓبن عبیدنے ابو عبید کے فیصلے سے اختلاف کے باوجود ان کے حکم کی تعمیل کی، اور اپنے اپنے دستوں کو پل سے دریا پار کرنے کا حکم دیا۔علامہ شبلی نعمانی اور محمد حسنین ہیکل کچھ حوالے دے کر لکھتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے دریا عبور کیا وہ سلیطؓ بن قیس تھے۔
فارس کا لشکر جنگی ترتیب میں کھڑا تھا جیسے وہ کوئی حرکت کرے گا ہی نہیں……خاموش اور پرسکون!
مجاہدین اپنے دشمنوں کو چپ چاپ کھڑا دیکھ کر کشتیوں کے پل سے دریا پار کرتے رہے ۔ انہیں اطمینان تھا کہ وہ دریا پار کرکے جنگی ترتیب میں آجائیں گے تو لڑائی شروع ہو گی۔ یہ توقع بھی تھی کہ اس دور کے رواج کے مطابق ایک طرف کا سالار یا کوئی اور آدمی دوسری طرف کی فوج کو للکار کر کہے گا کہ اپنا کوئی آدمی انفرادی معرکے کیلئے نکالو۔پھر اس معرکے کی ہار جیت کے بعد فوجوں کی جنگ شروع ہو گی۔

ابو عبید نے اپنے سالاروں کو بتا دیا تھا کہ کون کس پوزیشن میں ہو گا۔ انہوں نے اپنے لشکر کو میمنہ، میسرہ، قلب اور محفوظہ میں تقسیم کر دیا تھا۔ مجاہدین کے لشکر نے اس ترتیب کے مطابق دشمن کے سامنے جا کھڑا ہونا تھا۔
لشکر کشتیوں کے پل سے گزر گیا۔ آخری دو چار مجاہدین بھی اس سرے تک پہنچ گئے ۔لشکر کے مختلف حصے ابھی اپنی اپنی جگہ پہ پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ بہمن جادویہ کے سوار دستوں نے دائیں اور بائیں سے حملہ کر دیا۔ ابو عبید کے لشکر کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ مجاہدین اس اچانک اور غیر متوقع حملے کیلئے تیار ہی نہیں تھے۔
یہی دشمن کی چال تھی۔
ابو عبید بہمن جادویہ کے جال میں آگئے تھے۔
مجاہدین ابھی ترتیب میں نہیں آئے تھے۔ فارسیوں کے اچانک حملے سے مجاہدین بے ترتیب ہجوم بن کے رہ گئے۔ فارسیوں کے نعرے ’’کاٹ دو ان عربوں کو……فتح عجمیوں کی ہے……گھوڑوں تلے کچل دو……فرات کو ان کے خون سے لال کر دو……پکارو اپنے اﷲ کو اپنے رسول)ﷺ( کو……‘‘بڑے ہی غصیلے اور طنزیہ نعرے تھے ۔ان میں کچھ نعرے بڑے ہی توہین آمیز اور اشتعال انگیز تھے۔

ان نعروں نے مسلمانوں کی غیرت و حمیت کی کوئی ڈھکی چھپی رگ بیدار کر دی۔ حنیفہ دینوری نے یہ لکھاہے کہ یہ لڑائی ماہ رمضان ۱۳ ہجری میں لڑی گئی۔ لڑائی کی صورت یک طرفہ تھی۔ میدان آتش پرستوں کے ہاتھ میں تھااور پچیس ہزار کے لگ بھگ نفری کی فوج میں نو ہزار مسلمان اپنی جانیں بچانے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن توہین آمیز نعروں نے ان میں روحانی قوتیں بیدار کر دیں اور وہ ایسے جوش اور ایسے حیران کن جذبے سے لڑنے لگے کہ ان کے قدم جم گئے۔ انہوں نے جوابی نعرے لگانے شروع کر دیئے:
’’آگ کے پجاری کسی میدان میں نہیں ٹھہر سکے ۔یہاں بھی نہیں ٹھہریں گے۔‘‘
’’یہ بھکاریوں کی فوج ہے۔‘‘
’’یہ کرائے کے فوجی ہیں۔‘‘
’’یہ ایک عورت کی رعایا ہے‘‘
’’نعرہ تکبیر اﷲ اکبر!‘‘
ان نعروں کا فائدہ خود مجاہدین کو یوں ہوا کہ ہر مجاہد کو پتا چل گیا تھا کہ ا س کے ساتھی زندہ و بیدار ہیں اور ان کا جذبہ قائم ہے۔ فارسیوں کو احساس ہو گیا کہ ان مسلمانوں کے جذبے کو مارنا آسان کام نہیں۔

مجاہدین کیلئے یہ زندگی اور موت کا معرکہ تھا۔ انہیں یہ احساس آگ بگولہ کر رہا تھا کہ وہ ہار گئے تو ان کی پہلی فتوحات پر پانی پھر جائے گا اور کسریٰ کی فوج پر ان کی جو دہشت طاری تھی وہ ختم ہو جائے گی۔ مگر مسلمان ایسی صورتِ حال میں پھنس گئے تھے کہ ان کیلئے پسپائی بھی ممکن نہیں رہی تھی۔ ایک نعرے نے ان میں جان ڈال دی۔
’’فتح یا موت۔‘‘
یہ ایک مجاہد کا نعرہ تھا جو ہر مجاہد کے سینے سے دھماکوں کی طرح نکلنے لگا۔ اب مسلمانوں کا قہر دیکھنے کے قابل تھا ۔وہ کلمہ طیبہ کے بلند ورد کے ساتھ دیوانگی کے عالم میں لڑنے لگے اور یہاں تک کامیابی حاصل کر لی تھی کہ فارسیوں کا گھیرا توڑ دیا اور ترتیب میں آنے لگے۔ سالار بھی سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے اور بکھرے ہوئے مجاہدین کو منظم کرنے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔


بہمن جادویہ نے ہاتھیوں کو آگے کر دیا۔ ہاتھی سیاہ چٹانوں کی طرح دوڑے آئے۔ ان کے مقابلے کیلئے گھوڑ سوار مجاہدین آگے بڑھے لیکن ہاتھیوں کے پہلوؤں سے لٹکتے ہوئے گھنٹے اتنی زور زور سے بجتے تھے کہ مجاہدین کے گھوڑے بدک بدک کر اِدھر ُادھر ہو جاتے مگر ہاتھیوں کے قریب نہیں جاتے تھے ۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ فارس کے تیر اندازوں نے بدکے ہوئے گھوڑوں کے سواروں کو چن چن کر نشانہ بنایا ۔سوار تیزی سے شہید ہوتے چلے گئے۔
مسلمان پیچھے ہٹ کر ترتیب میں آسکتے تھے ۔لیکن پیچھے دریا تھا۔ وہ دائیں بائیں پھیل سکتے تھے اور وہ پھیلنے کی کوشش بھی کر رہے تھے ۔لیکن فارسی انہیں پھیلنے نہیں دے رہے تھے۔ سالاروں نے دیکھا کہ گھوڑے سیاہ ہاتھیوں سے اور ان کے گھنٹوں کی ہیبت ناک آوازوں سے ڈر رہے ہیں اور پیادہ مجاہدین کا حوصلہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ سالار اپنے مجاہدین کو للکار للکار کر حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ فارسیوں کے گھوڑے تو ہاتھیوں اور ان کے گھنٹوں کی آوازوں سے مانوس تھے ۔مسلمانوں کے گھوڑوں نے ہاتھی پہلی بار دیکھے تھے۔
سپہ سالار ابو عبید کو اپنی غلطی کا یقیناً احساس ہو اہو گا۔ انہیں سالاروں نے روکا تھا کہ دریا کے پار نہ جائیں۔ ابو عبید نے اپنی لغزش کا کفارہ یوں ادا کیا کہ اپنے گھوڑے سے کود کر اترے ۔وہ ان سوار مجاہدین کے ساتھ تھے جو ہاتھیوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر گھوڑے بدکتے تھے۔ ابو عبید گھوڑے کو بیکار سمجھ کر اُتر آئے تھے۔
ان کی دیکھا دیکھی سوار مجاہدین بھی گھوڑے سے اتر آئے اور ابو عبید کی قیادت میں انہوں نے فارسیوں پرایسا ہلہ بولا )محمد حسنین ہیکل کے دیئے ہوئے حوالوں کے مطابق(انہوں نے تھوڑی سی دیر میں چھ ہزار فارسیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سے فارسیوں کے حوصلے پست ہو گئے لیکن ایک مشکل ہاتھیوں نے پیدا کر رکھی تھی۔ ان کے ہودوں میں تیر انداز بھی تھے اور برچھی باز بھی اور ہاتھی بذات خود خطرناک تھے کہ مستی میں دوڑتے اور جو مجاہد سامنے آتا اسے سونڈ سے اٹھا کر اوپر کو اچھال دیتے یا اسے زور سے زمین پر پٹخ کر مار ڈالتے۔
’’ہاتھیوں کے سامنے نہ جاؤ۔‘‘ ابو عبید نے چلّا چلّا کر کہا۔’’ پہلوؤں کی طرف سے ہودوں کی رسیاں کاٹ دو۔‘‘
یہ معرکہ کوئی معمولی معرکہ نہ تھا۔ جن مسلمانوں نے آتش پرستوں کو ہر میدان میں شکست دی تھی اور کسریٰ کی افواج پر دہشت بن کر غالب آرہے تھے اس روز وہ کسریٰ کے دو جرنیلوں کے پھندے میں آگئے تھے اور وہ بری طرح کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔ مؤرخوں نے اس لڑائی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ابو عبید کی دیوانگی سے پتا چلتا تھا کہ وہ اپنی غلطی کا کفارہ ادا کر رہے ہیں اور اپنی یقینی شکست کو فتح میں بدلنے کیلئے جان پر کھیل رہے ہیں۔
سوار مجاہدین نے گھوڑوں سے اتر کر ہاتھیوں پر ہلہ بول دیا۔ ہاتھیوں کے ہودوں سے ان پر تیر بھی آرہے تھے اور برچھیاں بھی۔ مجاہدین ان سے بچنے کی کوشش کرتے۔ بعض زخمی ہوجاتے اور اسی حالت میں ہاتھیوں کے پہلوؤں میں جا کر تلواروں سے ہودوں کی رسیاں کاٹ دیتے۔ جو ہودہ نیچے گرتا اس کے آدمیوں کو الٹا گراتا۔
جس ہاتھی کا ہودہ گرتا اور جو ہاتھی زخمی ہوتا۔ وہ اِدھر اُدھر بھاگتا دوڑتا بغیر مہاوت کے ہاتھی جدھر کو منہ آیا ‘دوڑ پڑے۔ انہیں یہ بھی ہوش نہ رہا کہ اپنی فوج کو روند رہے ہیں یا دشمن کو انہیں کنٹررول کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں ۔ انہیں اپنے پرائے کی پہچان نہ رہی۔
بے مہاوت اور زخمی ہاتھیوں نے بظاہر لڑائی کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔ لیکن مسلمان جو تعداد میں پہلے ہی تھوڑے تھے اور زیادہ تھوڑے ہو گئے۔اس کے باوجود وہ بکھرے رہنے کے بجائے ترتیب میں آگئے۔ ان کی تھکن کا یہ عالم تھا وہ اپنے جسموں کو بڑی مشکل سے گھسیٹ رہے تھے ۔ولیم سکاٹ لکھتاہے کہ جس ناگفتہ بہ صورتِ حال میں عرب کے مسلمان پھنس گئے تھے۔ اگر ان کی جگہ فارسی یا رومی ہوتے تو کبھی کے ہتھیار ڈال چکے ہوتے یا پسپا ہو جاتے۔
مجاہدین کو سالاروں نے ترتیب میں کرکے اپنے انداز کے حملے شروع کر دیئے۔کبھی فارسی حملے کی تاب نہ لاکر پیچھے ہٹ جاتے اور کبھی مجاہدین کو پیچھے ہٹنا پڑتا۔
ہاتھی تو تقریباً سارے کے سارے میدان سے نکل گئے تھے۔ لیکن ایک سفید ہاتھی جو جسامت میں عام ہاتھیوں سے بہت بڑا تھاابھی میدانِ جنگ میں موجود تھا اور بری طرح چنگھاڑتا پھرتا تھا ۔یہ ہاتھی دودھ کی طرح سفید نہیں تھا بلکہ اس کا رنگ دوسرے ہاتھیوں کی نسبت اتنا ہلکا تھا کہ سفید لگتا تھا ۔اسکا رنگ سفیدی مائل تھا۔
ابو عبید نے اس ہاتھی کو ختم کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے آگے چلے گئے۔ ہاتھی ان کی طرف آیا ۔ابوعبید نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس کی سونڈ کاٹ دی۔ ہاتھی بھاگا نہیں، وہ ابو عبید کی طرف قہر و غضب سے بڑھا۔ انہیں ٹکر مار کر گرایا اور اپنا ایک پاؤں ابو عبید کے اوپر رکھ کر انہیں کچل دیا۔ سپہ سالار ابو عبید شہید ہو گئے۔
محمد حسنین ہیکل اور علامہ شبلی نعمانی نے طبری، بلاذری اور دیگر مستند مؤرخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابو عبید کی تلوار کا وار اتنا زوردارتھا کہ سفید ہاتھی کی سونڈ مستک سے صاف کٹ گئی تھی۔ ایک یورپی مؤرخ لکھتا ہے کہ سونڈ پوری نہیں کٹی تھی کیونکہ اس ہاتھی کی جسامت ایسی قوی ہیکل تھی کہ سونڈ ایک وار سے کٹ ہی نہیں سکتی تھی ۔یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سونڈ آدھی سے زیادہ کٹ گئی تھی۔
زخمی شیر، چیتا ،ہاتھی اور اونٹ انتقام ضرور لیتے ہیں ۔ہاتھی اور اونٹ کا کینہ مشہور ہے۔ فارس کا یہ ہاتھی تو تھا ہی خونخوار۔ اس نے ابو عبید کو پہلے گرایا۔ وہ پیٹھ کے بل گرے اور ہاتھی نے ان کے سینے پرپاؤں رکھ کر اپنے جسم کا وزن ڈالا۔تصور کیا جا سکتا ہے کہ ابو عبید کا جسم کس طرح کچلا گیا ہو گا۔
ابو عبید کا ایک بھائی حکم قریب ہی تھا۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ ہاتھی کی ٹانگ پر تلوار کا وار کیا۔ ہاتھی کا ہودہ گرا ہوا تھا۔ ہاتھی پیچھے ہٹا ۔حکم نے ابو عبید کا پرچم اٹھا کر اوپر کیااور چلّا کر نعرہ لگایا:
حکم کی توجہ پرچم پر تھی کہ اسے اونچا رکھا جائے تاکہ مجاہدین کے حوصلے بلند رہیں۔ سفید ہاتھی پہلے سے زیادہ غضب ناک ہو گیا تھا۔ اس نے حکم کو ٹکر مار کر گرایا اورجس طرح ابو عبید پر پاؤں رکھ کر کچلا تھا ۔اسی طرح حکم کو بھی کچل ڈالا۔
ایک اور مجاہد آگے بڑھا اور اس نے پرچم اٹھا کر اوپر کیا ۔پرچم خون آلود ہو گیا تھا۔ اس مجاہد نے پرچم بلند کیا تو سفید ہاتھی نے اسے بھی گرا کر کچل ڈالا۔
ابو عبید کی شہادت کے بعد یکے بعد دیگرے سات مجاہدین نے پرچم اٹھا کر بلند کیا اور ہاتھی نے ہر ایک کو کچل ڈالا۔ مشکل یہ تھی کہ ہاتھی سے بچنے کیلئے بھاگنے کی جگہ نہیں تھی۔ وہاں کی زمین لاشوں اور بیہوش زخمیوں سے اٹی پڑی تھی۔ زخموں سے گرے ہوئے گھوڑے بھی پڑے ہوئے تھے ۔چلا نہیں جاتا تھا۔
یہ ساتوں مجاہدین جنہیں ابو عبید کے بعد ہاتھی نے کچلا تھا ابو عبید کے ہم نسب اور ہم قبیلہ تھے۔ بلکہ ابو عبید کے ہی خاندان بنو ثقیف کے تھے۔
ابو عبید کی بیوی دومہ کا وہ خواب پورا ہو چکا تھا جس میں اس نے دیکھا کہ آسمان سے ایک آدمی ہاتھ میں شرابِ طہور لیے ہوئے اُترا ۔ابو عبید اور چند اور اہل ثقیف نے صراحی سے شراب طہور پی۔ دومہ نے یہ خواب اپنے شوہر ابو عبید کو سنایا تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ شہادت کا اشارہ ہے……دومہ نے خواب میں ابو عبید کے ساتھ ہی ان سات آدمیوں کو شرابِ طہور پیتے ہوئے دیکھا تھا۔
مثنیٰ بن حارثہ کچھ دور تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ اپنا پرچم اٹھتا اور گرتا ہے تو وہ دوڑتے آئے اور پرچم اٹھا کر ایک مجاہد کو دیا اور وہاں سے دور چلے گئے ۔چند ایک مجاہدین نے سفید ہاتھی کو گھیر کر برچھیوں سے گرادیا۔ اس کے سامنے کوئی نہیں جاتا تھا ۔پیچھے سے اور پہلوؤں سے اسے برچھیاں مارتے تھے۔
مثنیٰ بن حارثہ نے پرچم تو اونچا کر دیا لیکن مجاہدین میں بھگدڑ والی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ابو عبید کے بعد جو سات مجاہدین پرچم بلند کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے وہ سب کے سب سردار تھے۔ مثنیٰ حقیقت پسند اور تجربہ کار سالار تھے۔ انہوں نے دیکھ لیا کہ لڑتے رہنے کا مطلب خودکشی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔اب یہی کام بہت بڑا کارنامہ ہو گا کہ جو مجاہدین ابھی زندہ ہیں انہیں زندہ ہی اس میدانِ حشر سے نکال کر دریا کے پار لے جایا جائے اور مروحہ چلا جائے۔
مثنیٰ ایسا حکم دینا نہیں چاہتے تھے کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ۔ وہ منظم طریقے سے اپنے لشکر کو پسپاکرانے کی سوچ رہے تھے ۔چونکہ مجاہدین تھک کر شل بھی ہو چکے تھے اور کثیر تعداد دشمن ان پر غالب بھی آچکا تھا۔ اور ان کی آدھی نفری شدید زخمی ہو چکی تھی ۔اس لیے مجاہدین کا جذبہ اور حوصلہ ماند پڑ گیا تھا۔ شہادت کی رفتار تیز ہو گئی تھی۔
اتنے میں دیکھا گیا کہ کچھ مجاہدین جن میں سوار تھے اور پیادے بھی ، خود ہی کشتیوں کے پل پر پہنچ گئے اور پسپا ہو رہے تھے۔ ادھر مثنیٰ بن حارثہ نے اپنے قاصدوں سے کہا کہ لڑائی سے بچ بچا کر سرداروں تک پہنچو اور انہیں میرا پیغام دو کہ اپنے آدمیوں کو کشتیوں کے پل سے پیچھے نکالو لیکن بھگدڑ کی صورت میں نہیں۔
مستند تاریخوں میں یہ واقعہ تفصیل سے لکھا ہے کہ ابو عبید کے قبیلہ ثقیف کا ایک مجاہد عبداﷲ بن مرثد ثقفی کہیں قریب کھڑا تھا ۔ایک تو اس نے یہ دیکھا کہ کچھ سور اور پیادہ مجاہدین پل کے راستے بھاگ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ سن لیا کہ مثنیٰ بن حارثہ سرداروں کو پسپائی کا حکم دے رہے ہیں۔عبداﷲ بن مرثد بڑا ہی جوشیلا مجاہد اور رسول اﷲﷺ کا دیوانہ وار شیدائی تھا۔ وہ دوڑا گیا اور تلوار سے کشتیوں کے پل کے رسّے کاٹ دیئے۔ پل کے اس سرے کی ابتدائی پانچ چھ کشتیاں پل سے الگ ہو گئیں۔
’’ابنِ مرثد!‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے غصے سے پوچھا۔ ’’یہ کیا کیا تو نے؟ خدا کی قسم !تو چاہتا ہے کہ ہم سب آتش پرستوں کے ہاتھوں کٹ مریں۔‘‘
’’ہاں ابنِ حارثہ!‘‘عبداﷲ بن مرثد نے جواب دیا۔’’ میں نے واپسی کا راستہ بند کر دیاہے۔ ابو عبید اور اس کے بعد سات سردار شہید ہو گئے ہیں۔ یہ سب ثقفی تھے ۔میں بھی ثقفی ہوں۔جس طرح ہمارا سپہ سالار شہید ہوا ہے اور جس طرح ہمارے سردار شہید ہوئے ہیں اس طرح ہم سب بھی لڑتے ہوئے شہید ہوں گے۔‘‘
عبداﷲ ثقفی گھوڑے پر سوار ہوا اور بڑی ہی بلند آواز سے اعلان کرنے لگا:
’’عرب کے لوگو! اﷲ کے رسول )ﷺ(کی اطاعت گزارو!اپنے سالاروں اورسرداروں کی طرح لڑتے ہوئے جانیں دے دو۔ واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے۔‘‘
مجاہدین کا حوصلہ پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا ۔ انہوں نے جب سنا کہ پل توڑ دیا گیا ہے تو رہا سہا حوصلہ بھی نہ رہا۔ بعض دریا کی طرف دوڑے اور دریا میں کود گئے۔ دریا پورے جوش میں تھا۔ عرب کے ریگزار میں پل کر جوان ہونے والے مجاہدین تیرنا جانتے ہی نہیں تھے۔ وہ ڈبکیاں کھانے لگے اور تین چار ڈوب گئے۔
مثنیٰ نے جب یہ بھگدڑ اورافراتفری کا عالم دیکھا تو ان پر گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ وہ پریشان ہو گئے تھے۔ ان کی گھبراہٹ یہ تھی کہ لشکر نے پسپائی کا یہ راستہ اختیار کیا تو بہت سے ڈوب جائیں گے اور جو تیرنے کی کوشش کریں گے انہیں فارسی تیر انداز دریا میں ہی ختم کر دیں گے۔
مثنیٰ نے اپنے اوسان خطا نہ ہونے دیئے۔ ایسی صورتِ حال سے وہ پہلے کبھی دوچار نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے پرچم اپنے ہاتھ میں لے کر اونچا کیا۔ اس وقت لڑائی پل سے کچھ دور ہو رہی تھی۔ مثنیٰ نے چند ایک مجاہدین کو جو اس وقت ان کے باڈی گارڈ بنے ہوئے تھے ۔یہ کام سونپا کہ وہ کسی طرح ان کشتیوں کو جو پل سے سرک گئی ہیں ، رسّوں سے پرو دیں اور پل کو مکمل کر دیں۔
ایسی قیامت خیز صورتِ حال میں یہ کام ناممکن کی حد تک محال تھا۔لیکن مجاہدین دریا میں اتر گئے۔ انہیں یہ سہولت مل گئی تھی کہ کنارے کے قریب دریا گہرا نہیں تھا۔ انہوں نے رسّے سے الگ یا ڈھیلی ہوجانے والی کشتیوں کو پکڑ لیا اور کٹے ہوئے رسّوں کو گانٹھیں دیکر کشتیوں کو باندھ دیا۔
’’مجاہدو!‘‘مثنیٰ نے خود اعلان کیا۔ ’’دریا میں مت کودو ۔پل بن گیا ہے۔ میں دشمن کو روکے رکھوں گا۔ آرام سے پل پر سے گزر جاؤ۔‘‘
یہ اعلان تمام میدانِ جنگ میں پہنچایا گیا ۔مجاہدین سے کہا گیا کہ وہ بھاگیں نہیں۔ لڑتے ہوئے پیچھے ہٹتے آئیں اور پل تک پہنچیں ۔
مثنیٰ بن حارثہ نے اپنے محافظ دستے کے مجاہدین اور چند اور مجاہدین کو اپنے ساتھ رکھا۔ کچھ تیر انداز بھی اپنے دائیں بائیں کھڑے کر دیئے ۔مجاہدین میدان سے نکل کر پل پر آنے لگے۔ فارسی ان کے تعاقب میں آتے تھے تو مثنیٰ اور ان کے ساتھ کھڑے مجاہدین انہیں روک لیتے تھے۔ مسلمان تیر انداز انہیں تیروں کا نشانہ بناتے تھے ۔اس طرح پیچھے ہٹنے والے مجاہدین پل پر سے گزر جاتے تھے۔
مثنیٰ اور ان کے جانباز اور تیر انداز پل سے ذرا آگے دشمن سے لڑتے رہے اور مجاہدین دوڑ دوڑ کر پل سے گزرتے رہے ۔فارس کے تیر انداز پل پر جانے والے مجاہدین پر تیرچلاتے تھے ۔لیکن مسلمان تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑوں سے انہیں پیچھے ہٹا دیا۔
فارسیوں نے پل کا راستہ روکنے کی بہت کوشش کی لیکن مثنیٰ اور ان کے جانباز جس قہر و غضب سے لڑ رہے تھے اس سے فارسی آگے نہیں آسکتے تھے ۔مثنیٰ بن حارثہ نے پرچم بلندرکھا۔
اس دوران عبداﷲ بن مرثد ثقفی آگے ہو کر جوش و خروش سے لڑ رہا تھا۔ا س کے جو ساتھی انتہائی خونریز معرکے سے زندہ نکل آئے تھے‘ انہوں نے بتایا کہ عبداﷲ پسپائی کے حق میں نہیں تھا۔ وہ ایسے عتاب سے لڑ رہا تھا جیسے وہ پاگل ہو گیا ہو۔ اس کے سامنے جو آیا وہ ہلاک ہو گیا۔ ایک مسلمان اور ایک فارسی گھوڑ سوار ایک دوسرے سے الجھے ہوئے تھے ۔ان کی تلواریں ٹکرا رہی تھیں ۔دونوں کے گھوڑے بڑی تیزی سے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ہو رہے تھے۔ ایک گھوڑا پیچھے ہٹا۔ پیچھے عبداﷲ ثقفی ایک فارسی فوجی کو گرا چکا تھا۔ گھوڑے کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ گھوڑا اتنی تیزی سے پیچھے ہٹا کہ عبداﷲ ثقفی سے ٹکرایا اور اسے گرادیا۔ گھوڑا بھی پیچھے ہٹ رہا تھا۔ عبداﷲ ثقفی اس قدر تھک چکا تھا کہ وہ فوراً اٹھ نہ سکا ۔گھوڑے سے پچھلے دونوں پاؤں اس کے پیٹ پر پڑے اور پیٹ پھٹ گیا۔ پھر اس پر گھوڑے کے اگلے پاؤں پڑے۔ عبداﷲ ثقفی بری طرح کچلا گیا اور شہید ہو گیا۔
مجاہدین تیز دوڑتے ہوئے پل تک پہنچ رہے تھے ۔وہ ایک ایک دو دو کرکے آتے تھے۔ مثنیٰ اپنے مجاہدین کے ساتھ دشمن کا راستہ روکے کھڑے تھے اور غیر معمولی دلیری سے لڑ رہے تھے۔
’’انہیں بھاگنے نہ دو۔‘‘یہ للکار بہمن جادویہ کی تھی۔’’ آگے ہو کر پل توڑ دو۔‘‘
فارسی پل تک پہنچنے کیلئے جانیں قربان کر رہے تھے۔ لیکن آگے مجاہدین قہر برساتی دیوار بنے ہوئے تھے۔
’’ان کا جھنڈا گرانے کی کوشش کرو۔‘‘ یہ للکار جالینوس کی تھی۔
مسلمانوں کا پرچم مثنیٰ کے پاس کھڑے ایک مجاہد نے اٹھا رکھا تھا ۔مثنیٰ نے جالینوس کی للکار سنی اور پرچم مجاہد کے ہاتھ سے لے کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اونچا کر دیا۔
’’یہ عَلَم نہیں گرے گا۔‘‘ مثنیٰ بن حارثہ نے نعرہ لگایا۔
معاً بعد کسی فارسی نے برچھی پھینکی جو مثنیٰ کے پہلو میں بغل کے قریب لگی۔ برچھی کی انّی تو جسم میں نہ گئی، کیونکہ مثنیٰ نے کسی فارسی کی زرہ پہن رکھی تھی۔ یہ زنجیروں والی زرہ تھی۔ جس سے صرف سینہ اور پیٹھ ڈھکی ہوئی تھی۔ برچھی سے زرہ کی ایک کڑی ٹوٹ گئی اور مثنیٰ کے جسم میں اتر گئی ۔یہ اچھا خاصا زخم تھا۔ مثنیٰ نے اس کی پرواہ نہ کی اور پرچم کو بلند رکھا۔
مثنیٰ بن حارثہ کے دائیں بائیں دو ایسے مجاہد تھے جنہوں نے جان کی بازی لگا رکھی تھی۔ انہو ں نے دراصل مثنیٰ کو حفاظت میں لے رکھا تھا۔ ایک تھے سلیطؓ بن قیس اور دوسرا ایک عیسائی ابو زبید الطائی تھا۔ یہ دونوں فارسیوں کو روکنے کیلئے ایسی بے جگری بلکہ دیوانگی سے لڑے کہ ابو زبیدالطائی شدید زخمی ہو کر گرپڑااور سلیطؓ بن قیس شہید ہو گئے۔
آخر تمام زندہ مجاہدین پل سے گزر گئے۔ مثنیٰ بن حارثہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا اور زخم تکلیف بھی دے رہا تھا۔ لیکن انہوں نے زخم کی طرف دھیان ہی نہ دیا اور اپنے ساتھیوں کو پل پر لے آئے۔ تیر اندازوں کو پیچھے رکھا تاکہ وہ فارسیوں پر تیر برساتے رہیں اور پیچھے بھی ہٹتے رہیں ۔مسلمانوں کا جانی نقصان تو ہوشربا تھا لیکن فارسیوں کا نقصان بھی کچھ کم نہیں تھا۔ البتہ ان کے تیر انداز تیر پھینک رہے تھے ۔مسلمان دوڑتے ہوئے پل پار کر گئے۔
پیچھے دیکھا۔ پل کے اس سرے پر فارسیوں کا ہجوم تھا۔ وہ مسلمانوں کا شاید تعاقب کرنا چاہتے تھے۔ مثنیٰ بن حارثہ کے کہنے پر پل کے رسّے کاٹ دیئے گئے اور چند ایک کشتیوں کو توڑ دیا گیا۔
مجاہدین کی گنتی کی گئی۔نو ہزار میں سے صرف تین ہزار زندہ واپس آئے۔ شدید زخمیوں کو واپس نہ لایا جا سکا۔ سلیطؓ بن قیس ، ابو زید انصاریؓ، عقبہ بن قبطی، یزیدؓ بن قیس الانصاری، عبداﷲؓ بن قبطی اور ابو امیہؓ انفرازی جیسے نامور صحابیؓ
اس لڑائی میں شہید ہو گئے۔
جس دن یہ تین ہزار مجاہدین واپس آئے‘ وہ ہفتے کا دن تھا اور ۱۳ ہجری کا ماہ رمضان تھا ۔
مثنیٰ بن حارثہ پر بہت بڑی اور بڑی ہی خطرناک ذمہ داری آپڑی تھی۔ ان کے تجربہ کار ساتھی سالار اور سردار شہید ہو گئے۔ وہ خود زخمی تھے ۔ان کے ساتھ لشکر کا صرف تیسرا حصہ رہ گیا تھا۔ یہ حصہ یعنی تین ہزار آدمی لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ جسمانی طور پر تو وہ شل ہو ہی چکے تھے۔ ذہنی طور پر بھی وہ لڑنے کی ہمت چھوڑ بیٹھے تھے ۔کہیں سے بھی کمک ملنے کی توقع نہیں تھی۔
مثنیٰ پر ذمہ داری آپڑی تھی کہ ان تین ہزار تھکے ماندے شکست خوردہ آدمیوں کو بچانا تھا۔ جس کا ایک ہی ذریعہ تھا کہ انہیں کہیں دور لے جائیں اور بہت جلدی لے جائیں کیونکہ مثنیٰ اس خطرے کو یقینی سمجھتے تھے کہ بہمن جادویہ ان کے تعاقب میں آئے گا۔ بہمن جادویہ پہلا فارسی جرنیل تھا جس نے مسلمانوں کو شکست دی تھی۔ وہ ملکۂ فارس اور رستم کی آنکھوں کا تارا بن گیا تھا ۔مثنیٰ جانتے تھے کہ بہمن جادویہ مسلمانوں کا جانی دشمن ہے اور وہ اس موقع سے پورا فائدہ اٹھائے گا اور ان تھکے ہارے مجاہدین کے تعاقب میں آکر انہیں بھی ختم کر دے گا۔
’’میرے عزیز ساتھیو! ‘‘مثنیٰ نے ان تین ہزار مجاہدین سے خطاب کیا۔’’ سپہ سالار ابو عبید کی غلطی کی سزا ہم سب کو ملی ہے۔ یہ تمہاری بہادری ہے کہ تم زندہ واپس آگئے ۔ فتح اور شکست اﷲ کے اختیار میں ہے۔ یہ بھی تمہاری فتح ہے کہ تم نے دشمن کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ تم اﷲ تبارک و تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو۔ ہم انشاء اﷲ اس شکست کا انتقام لیں گے……یہاں رکنے کا وقت نہیں۔ فارسی ہمارے تعاقب میں آرہے ہوں گے۔ وہ ضرور آئیں گے۔ ہم ابھی لڑنے کے قابل نہیں اس لیے یہاں رکنا بڑا ہی خطرناک ہے۔ تمہیں چلنا ہی پڑے گا۔ گھوڑ وں پر سب باری باری سوار ہوں گے۔ ہم نے کسی منزل پر پہنچ کر اگلی لڑائی کی تیاری کرنی ہے۔‘‘
وہاں سے چلے توحیرہ جا پہنچے۔ وہاں بھی مثنیٰ تعاقب کا خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ وہاں انہوں نے مجاہدین کو آرام اور کھانے پینے کا وقت دیا اور اگلی صبح حیرہ سے کچھ دور جنوب کی طرف اُلیس کے مقام پر جا پہنچے۔ مثنیٰ نے اپنے نئے نائبین مقرر کر دیئے جو پوری طرح تجربہ کار تو نہیں لیکن اناڑی اور نوآموز بھی نہیں تھے ۔ان میں خوبی یہ پیدا ہو گئی تھی کہ ان کے دلوں میں انتقام کا بڑا ہی شدید جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔
’’دن رات بیدار اور چوکنے رہو۔‘‘ مثنیٰ نے انہیں کہا تھا۔’’آتش پرست ہمارے تعاقب میں آرہے ہوں گے……میں حیران ہوں کہ وہ ابھی تک آئے کیوں نہیں؟‘‘
مثنیٰ بن حارثہ کو یہ خطرہ پریشان کر رہا تھا کہ آتش پرست ان کےتعاقب میں آرہے ہوں گے۔ لیکن آتش پرستوں کے سالار بہمن جادویہ کو تعاقب کی ہوش ہی نہیں رہی تھی۔ ہوا یوں تھا کہ جس وقت مثنیٰ اپنے بچے کچھے مجاہدین کو واپسی کیلئے دریا پار کروارہے تھے اور بہمن جادویہ اپنی فوج کو للکار رہا تھا کہ عربوں کا پرچم گرا دو۔ انہیں بھاگنے نہ دو۔ اس وقت مدائن سے اس کا ایک ذاتی جاسوس آیا اور اسے اطلاع دی کہ مدائن میں فوجی افسر اور شہری دو دھڑوں میں بٹ گئے ہیں اور اب اعلانیہ ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
’’یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ ایک گروہ رستم کا حامی ہے اور دوسرا فیروزان کا۔‘‘ جاسوس نے کہا۔’’ فیروزان بھی آخر جرنیل ہے۔ اس کے گروہ کی تعداد زیادہ ہے۔ ملکۂ فارس تو برائے نام ملکہ ہے۔ وہ پہلے ہی تمام اختیارات رستم کے حوالے کر چکی ہے۔‘‘
’’پوران ہے تو ملکہ!‘‘بہمن جادویہ نے کہا۔’’ لیکن عملاً رستم کی داشتہ ہے۔‘‘
’’جالینوس!‘‘بہمن جادویہ نے کہا۔’’ زیادہ سے زیادہ دستے اکٹھے کرو اور میرے ساتھ مدائن چلو۔ مجھے خانہ جنگی کا خطرہ صاف نظر آرہا ہے۔ ادھر ہم نے عربوں کو کچلنا شروع کر دیا ہے اور ادھر خانہ جنگی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کیاہو گا کہ عرب ہمیں کچل کر رکھ دیں گے۔‘‘
’’یہ پوران کے حسن کا جادو ہے۔‘‘ جالینوس نے کہا۔ ’’اسے شاہی خاندان کے کسی آدمی کے ساتھ شادی کر لینی چاہیے تھی۔ پھررستم اس کے اتنا قریب نہ ہو سکتا۔‘‘
’’چلو ‘چل کے دیکھتے ہیں وہاں کیا ہو رہا ہے۔‘‘ بہمن جادویہ نے کہا۔’’ اِدھر اتنا موٹا شکار میرے ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔میں ان مسلمانوں کا تعاقب کر کے انہیں ختم کرنا چاہتا تھا……وہ میرے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔‘‘
اس کے ساتھ جابان نام کا ایک اور جرنیل بھی تھا۔ اس جرنیل کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے۔ نمارق کی لڑائی میں ا س نے ابو عبید سے شکست کھائی اور پکڑا گیا تھا۔ پکڑنے والا کوئی عام مجاہد تھا جسے معلوم نہیں تھا کہ وہ جرنیل ہے ۔جابان نے اس مجاہد کو یہ جھانسہ دیا کہ وہ سپاہی ہے، اسے پکڑ کہ وہ کیا کرے گا۔ جابان نے اسے اپنی رہائی کیلئے بڑا ہی قیمتی معاوضہ پیش کیا۔ مجاہد نے وعدہ کیا کہ وہ اسے اس معاوضہ پر رہا کر دے گا۔ کسی اور مجاہد نے اسے پہچان لیا اور یہ معاملہ سپہ سالار ابو عبید تک گیا کہ یہ فارسی جرنیل ہے اسے رہا نہیں کرنا چاہیے ۔ابو عبید کو جب یہ بتایا گیا کہ ایک مجاہد جابان سے وعدہ کر چکا ہے کہ وہ اسے رہا کر دے گا تو ابوعبید نے فیصلہ دیا کہ ایک مسلمان اس سے وعدہ کر چکا ہے۔ اس لیے اسلامی دستور کے مطابق اسے رہا کیا جائے ۔چنانچہ جابان نے اس مجاہد کو معاوضہ دیا اور رہا ہو گیا۔
اب وہی جابان بہمن جادویہ کے ساتھ اس لڑائی میں شامل تھا۔ بہمن جادویہ نے اسے بلا کر مدائن کی صورت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ جالینوس اور وہ مدائن جا رہے ہیں۔
’’تم چاہو تو مسلمانوں کے تعاقب میں جا سکتے ہو۔‘‘ بہمن جادویہ نے کہا۔’’ ہم تمہارے پاس بہت تھوڑی فوج چھوڑ کر جا رہے ہیں۔‘‘
’’عربوں کی جو نفری یہاں سے نکلی ہے وہ تو اور زیادہ تھوڑی ہے۔‘‘ جابان نے کہا۔’’ تم چلے جاؤ، میں عربوں کے پیچھے جاتا ہوں۔ ان کا ایک بھی آدمی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
تاریخوں میں آیا ہے کہ بہمن جادویہ اور جالینوس فوج کے زیادہ تر دستے اپنے ساتھ مدائن لے گئے اور کچھ دستے جابان کو دے گئے۔ جابان مثنیٰ بن حارثہ کے تعاقب میں ایک دن اور ایک رات کے بعد روانہ ہوا۔ یہ وقت کشتیوں کا پل بنانے میں صرف ہو گیا تھا۔ اتنے میں مثنیٰ اپنے لشکر کے ساتھ دور نکل گئے تھے ، پھر وہ الیّس جا پہنچے۔
الیّس پہلے ہی مسلمانوں کے فتح کیے ہوئے علاقوں میں شامل تھا۔ وہاں کے دو سرداروں نے مثنیٰ کو بتایا کہ مدائن میں کیا صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے اور یہ بھی کہ بہمن جادویہ اور جالینوس فوج لے کر مدائن چلے گئے ہیں۔ الیّس کے امراء مسلمانوں سے متاثر تھے اور انہیں یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ اندرونی گروہ بندی ،منافرت اور مسلمانوں کی پے در پے فتوحات کی وجہ سے سلطنتِ فارس کا سوال شروع ہو چکا ہے ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے الیّس کے اُمراء اور دیگر سرکردہ لوگ مسلمانوں کے وفادار ہو گئے تھے۔
ایک روز الیّس کے ہی ایک آدمی نے مثنیٰ کو اطلاع دی کہ مدائن کی فوج آرہی ہے۔ یہ جابان کے دستے تھے۔ قبل از وقت اطلاع مل جانے سے مثنیٰ نے یہ فائدہ اٹھایا کہ اپنے مجاہدین کو تیار کر کے اس راستے کے دونوں طرف پھیلا دیا جس راستے سے جابان کی فوج آرہی تھی۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ الیّس کے کئی لوگ مجاہدین سے جا ملے تھے۔
جابان بڑھتا آیا اور پھندے میں آگیا ۔اس کے دستوں پر دونوں طرف سے حملہ ہو گیا۔ مجاہدین نے اپنی شکست کا انتقام یوں لیا کہ کسی ایک بھی فارسی کو زندہ نہ چھوڑا۔ جابان کو زندہ پکڑ کر مثنیٰ بن حارثہ کے سامنے پیش کیا گیا۔
’’مجھے یاد ہے جابان!‘‘ مثنیٰ نے کہا۔ ’’نمارق میں تم ہمارے ایک سادہ لوح مجاہد کو دھوکہ دے کر رہا ہو گئے تھے۔ اب نہیں……‘‘
مثنیٰ کے اشارے پر جابان کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔
مدائن میں ایک اور ڈرامے کا پردہ اٹھ رہا تھا۔
مدینہ میں حضرت عمر ؓمسجد میں داخل ہو نے لگے تو ان کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو سر جھکائے ہوئے مسجد کی طرف آرہا تھا ۔محمد حسنین ہیکل اور بلاذری نے اس کا نام عبداﷲ بن زید لکھا ہے۔ حضرت عمرؓ رک گئے۔
’’ابنِ زید!‘‘حضرت عمرؓ نے عبداﷲ سے پوچھا۔’’ کیا تم مثنیٰ کے ساتھ عراق نہیں گئے تھے؟تمہاری حالت بتاتی ہے کہ تم محاذ سے آرہے ہو……کیاخبر لائے ہو؟‘‘
عبداﷲ بن زید قریب آکر کھڑا ہو گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ ان آدمیوں میں سے تھا جو مروحہ کی لڑائی سے بھاگ کر مدینہ پہنچ گئے تھے۔ عبداﷲ نے حضرت عمرؓ کو سارا حال سنایا کہ ابو عبید کی غلطی سے کس طرح اپنا لشکر فارسیوں کے ہاتھوں کٹ گیا ہے۔
حضرت عمرؓ مسجد کے دروازے پر یوں کھڑے رہے جیسے ان پر سکتہ طاری ہو گیا ہو۔
عبداﷲ بن زید کھڑا کانپ رہاتھا کہ حضرت عمرؓ جیسے سخت مزاج اور جلالی خلیفہ کا رد عمل نہ جانے کیا ہو گا!
ابوعبید کے غلط فیصلے سے جس لڑائی میں مسلمانوں کو بری طرح پسپا ہونا پڑا تھا اور جس میں نو ہزار مجاہدین میں سے صرف تین ہزار رہ گئے تھے۔ اسے تاریخ میں معرکہ جسر لکھا گیا ہے۔ مثنیٰ بن حارثہ نہ ہوتے تو تین ہزار بھی زندہ واپس نہ آسکتے تھے۔
ہم جسر کے میدانِ جنگ میں واپس چلتے ہیں جہاں لاشوں کے انبار پڑے تھے۔ خون سے زمین لال ہو گئی تھی۔ چھوٹے بڑے کھڈ لاشوں سے بھر گئے تھے ۔عربی اور عجمی کی پہچان ختم ہو گئی تھی۔ مرے ہوئے گھوڑوں کے نیچے آدمی دبے ہوئے تھے ۔گھوڑوں کے اوپر لاشیں پڑی تھیں۔زخمی گھوڑے بے لگام دوڑتے اور گرتے پھر رہے تھے ۔کٹی ہوئی سونڈوں والے ہاتھی خون بہہ جانے سے آخری سانسیں لے رہے تھے۔ سفید ہاتھی جس نے ابو عبید اور ان کے سات ساتھیوں کو پاؤں تلے کچل کر مار ڈالا تھا‘ دریا کے کنارے مراپڑا تھا۔سونڈ کٹنے کے علاوہ ا س کے جسم پر اور بھی بہت سے زخم تھے ۔جن کے راستے اس کا جسم خون سے خالی ہو گیا تھا۔ وہ شاید دریا پار پر پانی پینے گیا تھا لیکن وہاں پہنچتے ہی مر گیا۔
ان لاشوں میں زندہ فارسی اور عربی بھی گرے پڑے تھے جو شدید زخمی تھے۔ ان میں سے بعض اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ اٹھتے تھے ‘لڑکھڑاتے تھے اور گر پڑتے تھے ۔اپنے آپ کو پیٹ کے بل گھسیٹتے تھے اور ان میں بیشتر ایسے تھے جو بیہوش پڑے تھے ‘ اور آہستہ آہستہ مر رہے تھے۔ مسلمان اپنے رفیقوں کی لاشیں یوں میدان میں پڑی رہنے نہیں دیا کرتے تھے۔ زخمی رفیقوں کو میدانِ جنگ سے اٹھا لانے پرتو مجاہدین اپنی جانیں قربان کر دیا کرتے تھے لیکن معرکہ جسر کے زخمیوں اور شہیدوں کو پیچھے لانے کی کسی کو مہلت ہی کہاں ملی تھی۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی جانیں بچائیں اور دریا پار کر کے آئے تھے۔
فارسی بھی اپنے زخمی نہیں اٹھا سکے تھے۔ لاشیں اٹھانے کا تو ان کے یہاں رواج ہی نہیں تھا۔ ان کے فوجی تنخواہ پانے والے ملازم تھے۔ فارس ایک بادشاہی تھی۔ فوج کے ساتھ شاہی خاندان کا سلوک ویسا ہی ہوتا تھا جیسا ذاتی ملازموں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کی نگاہ میں ایک گھوڑے اور ایک انسان کا مرجانا برابر تھا۔
فارس کی فوج اپنے تڑپتے ہوئے زخمیوں کو اس لیے بھی نہ اٹھا سکی کہ بہمن جادویہ اور جالینوس فوج کے بیشتر دستوں کو اپنے ساتھ مدائن لے گئے تھے۔ کیونکہ مدائن میں چوٹی کے دو جرنیلوں رستم اور فیروزان کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور فوج دو حصوں میں بٹ گئی تھی‘ اور وہاں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیاتھا۔ بہمن جادویہ اپنے ایک جرنیل جابان کوتھوڑی سی فوج دے گیا تھا اور جابان مسلمانوں کے تعاقب میں چلا گیا تھا۔ اس لیے فارسی فوج کے زخمیوں کو اٹھانے والا کوئی نہ رہا۔
سورج غروب ہو گیاتو گیدڑوں، بھیڑیوں، جنگلی کتوں اور دیگر گوشت خور جانوروں نے لاشوں پر ہلّہ بول دیا۔ یہ تو ہر لڑائی کے بعد کامعمول تھا کہ دن کو گدھ اور رات کو گیدڑ ،بھیڑیئے وغیرہ میدان ِجنگ میں لاشوں کو کھانے کیلئے پہنچ جاتے تھے۔ ایک معمول اور بھی تھا۔ لڑائی اگر آبادیوں کے قریب ہوتی اوردونوں طرف کی فوجیں وہاں سے چلی جاتیں تو قریبی بستیوں کے لوگ میدان میں پہنچ جاتے اور لاشوں کی تلاشی لے کر جو ہاتھ آتا لے جاتے۔ ہتھیار بھی اٹھا لے جاتے۔
جسر کے معرکے کے بعد فارس کی فوج بھی مسلمانوں کی پسپائی کے بعد چلی گئی تو اس کے فوراً بعد سورج غروب ہو گیا تھا۔ قریبی بستیوں کے لوگ میدان میں پہنچنے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں ۔ان میں بار سماء کے لوگ بھی تھے ۔زوابی کے لوگ بھی تھے اور قس الناطف سے بھی کئی لوگ آگئے تھے ۔ان میں عورتیں بھی تھیں ۔جواں سال لڑکیاں بھی تھیں اور ان میں کچھ عورتیں بوڑھی تھیں۔ ان میں مائیں تھیں ، بیویاں تھیں، بہنیں اور بیٹیاں تھیں۔
ان میں اکثر لوگ لاشوں کو لوٹنے کیلئے آئے تھے۔ انہوں نے ہتھیار بھی اٹھا لے جانے تھے اور گھوڑے ملنے کی بھی توقع تھی۔ لیکن بہت سے لوگ لاشوں میں اپنے ان عزیزوں کی لاشیں ڈھونڈنے آئے تھے جو فارس کی فوج میں تھے۔ ان میں بعض کو تو معلوم تھا کہ ان کے بیٹے یا بھائی اس لڑائی میں شامل تھے اور بعض محض شک میں لاشیں دیکھنے آئے تھے ۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ کئی زخمی ابھی زندہ ہوں گے۔
یہ عورتیں بھی اسی خیال سے آئی تھیں۔ کسی کا باپ ،کسی کا خاوند، کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا اس لڑائی میں شامل تھا..
جاری ہے

No comments:

Post a Comment