نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Tuesday, November 19, 2019

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے

ہندوستان کے حالات دن بہ دن نازک سے نازک تر ہوتے جا رہے ہیں، ملک کا ہر باشندہ تقریباً مہنگائی بے روزگاری اور بھوک مری کا شکار ہے اور اسے اس کا بخوبی ادراک و احساس بھی ہے لیکن ان سب کے باوجود اکثریتی طبقہ بخوشی ان سب مشکلات کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ اس کے پیش نظر صرف اور صرف یہ مقصد ہے کہ یہی وہ حکومت ہے جو مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ گرچہ دل سے بی جے پی سے بدگمان اور پریشان ہے لیکن پھر بھی وہ بی جے پی کے ساتھ ہے اور جب ووٹنگ کا وقت آتا ہے تو وہ صرف ہندو بن جاتا ہے اور ہندو، ہندوتوا، اکھنڈ بھارت اور مسلم مکت بھارت اسے دکھائی دیتا ہے اور پھر سارے مہنگائی بے روزگاری کے مدعے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اور بی جے پی اکثریت سے کامیاب ہوجاتی ہے
دوسری جانب اقلیتی طبقہ ہے جسے اپنی خانہ جنگیوں سے ہی فرصت نہیں، اس کے پاس اپنے وجود کی بقا کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں، وہ مستقبل سے بے نیاز ہوکر اپنے حال ہی میں مگن ہے، اسے اس بات کا قطعی احساس نہیں کہ قیامت اس کے سر پر آ چکی ہے بس اس کو شکار بنانے ہی والی ہے،
گزشتہ برسوں میں دیکھیے تو کتنی آسانی کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرکے انہیں آزما لیا گیا اور اب ہمارے دشمن کو اس بات کا بھرپور ادراک ہو چکا ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں
18 نومبر سے پارلیمانی سرمائی اجلاس کی شروعات ہو چکی ہے جس میں بطور خاص متنازعہ "شہری ترمیمی بل" (CAB) کو پاس کروانے کی موجودہ مسلم مخالف حکومت بھرپور کوشش کرے گی، جو بی جے پی کے لیے بہت اہم ہے اور آر ایس ایس کے مسلم مکت بھارت کی شروعات میں اس بل کا اہم رول ہے، اس بل کا مقصد پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن کو ہندوستانی شہریت دے کر انہیں مکمل بھارتی بنانا اور ہر وہ مراعات دینا جو ایک ہندوستانی شہری کا حق ہے، واضح ہو کہ یہ بل صرف اور صرف غیر مسلم مہاجرین کے لیے ہوگا کوئی مسلمان جس نے ترک وطن کرکے ہندوستان میں پناہ گزیں ہوا ہو وہ اس سے مستفید نہیں ہوسکتا، جیسا کہ کچھ دنوں پہلے وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان سے واضح ہے
موجودہ این ڈی اے حکومت نے اسے پچھلے شیشن میں بھی پیش کیا تھا مگر اپوزیشن کی بھرپور مخالفتوں کی وجہ سے اسے پاس نہ کیا جاسکا لیکن اس دفعہ وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے اس کو پاس کروانے کے لیے
اگر یہ بل پاس ہوگیا تو مسلمانوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہونے کی امید ہے بلکہ اب تک کے تمام بلوں سب سے مہلک اور خطرناک بل یہی ثابت ہوگا
قبل اس کے کہ یہ بل پاس ہو بچے کھچے سیکولر طبقے کو لے کر اس بل کی بھرپور مخالفت کی جائے اور احتجاجات کے ذریعے ہر حال میں اسے رد کروانے کی کوشش کی جائے ورنہ مسلمانوں کو اپنا اور اپنی نسلوں کے وجود کو بچانا سخت مشکل ہوجائے گا
بہتر ہے کہ ہم ہی لڑ جھگڑ لیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں چین و سکون سے جئیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی آسائش کے لیے اپنی نسلوں کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیں جو ان کے وجود کو ہی جلا کر خاکستر کر دے

#اختر_نور

No comments:

Post a Comment