حسا س ودردمندشاعر۔۔۔۔ عرفان شانوری Hassas Wa Dard Mand Shayed Irfaan Shahnoori - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Wednesday, May 20, 2020

حسا س ودردمندشاعر۔۔۔۔ عرفان شانوری Hassas Wa Dard Mand Shayed Irfaan Shahnoori

حسا س ودردمندشاعر۔۔۔۔ عرفان شانوری

حسا س ودردمندشاعر۔۔۔۔ عرفان شانوری Hassas Wa Dard Mand Shayed Irfaan Shahnoori
حسا س ودردمندشاعر۔۔۔۔ عرفان شانوری Hassas Wa Dard Mand Shayed Irfaan Shahnoori

آج کے اس دور پُرفتن میں یہ چلن عام ہے کہ لوگ نیکیوں کو اخبارات وٹیلیویژن میں نمایاں کرتے ہیں کبھی کبھی نیکیوں سے زیادہ بڑھا چڑھاپیش کیا جاتاہے۔نیکی کراور دریا میں ڈال یہ محاورہ بن کر رہ گیا ہے۔اس خودنمائی وریاکاری کے عہد میں بھی کچھ لوگ ہیں جو نیکیوں کو حاشیے پر ڈال دیتے ہیں ان بخت آوروں میں ایک نام عرفان شاہ نور ی بھی ہے۔
عرفان شاہنوری کا نام جب بھی میرے ذہن میں ابھرتا ہے تو دل ودماغ میں خوشیوں کا جھونکا گزرجاتاہیْ۔ اس نام سے مجھے انسیت محض اس لیے نہیں عرفان اور مجھ میں شعروشاعری کے جراثیم پائے جاتے ہیں، اس لیے بھی نہیں کہ ہم دونوں ہم پیشہ ہیں بلکہ یہ نام مجھے میری ماضی کے دریچوں کو وا کرتا ہے ۔عرفان شاہنوری کے نام کے ساتھ ساتھ مجھے اس کی مدرسہ کی بھی یاد آجاتی ہے جہاں میں تقریباً ۵۳ سال قبل مختصر وقت کے لیے اپنی تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔ یہی ریاست مہاراشٹرا ضلع رتناگیری کے شہرچپلون کے مہاراشٹرا ہائی اسکول کاذکر کر رہا ہوں جہاں سے عرفان نے ابتدائی تعلیم حاصل کر چکے ہیںغالباً اس وقت عرفان پانچویں جماعت کے طالب علم تھے اور یہ وہی شہر چپلون ہے جس کی فضاؤں نے نہ صرف عرفان شاہنوری کو ادبی ذوق بخشا بلکہ میرے اپنے ذوق کو بھی یہیں سے جلا ملی۔ عرفان سے میرا تعلق اس وقت سے ہے جب یہ پہلی دفعہ مشاعرہ پڑھنے میرے وطن ثانی بلگام آئے تھے۔ یہ وہی شاعر ہیں جو تقریباً دیڑھ عشرہ قبل کچھ جھجھکے جھجھکے سے کچھ دبے دبے سے اپنا کلام سنایاتھا اور آج وہی عرفان اپنی کتاب شاعری کے ہرہرصفحے کے حاشیے میں شعریت، غنائیت، کمالِ فکر وپروازِ تخیل کی نیکیاں سمیٹے بڑے پرتباک انداز میں اپنا کلام، اپنی شاعری سناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، عرفان بنیادی طور پر تو گلشن کرناٹک کے پھول ہیں مگر عرصۂ دراز سے یہ پھول مہاراشٹرا کی ادبی فضاؤں کو معطر کرنے میں لگا ہے۔ ولادت ریاست کرناٹک ضلع بلگام کے قصبہ ’کرویش‘ میں ہوئی۔ سرزمین کرویش کی فضاتوحیدورسالت کی خوشبو سے معطر دراصل وہاں شیخ دکن حضرت شیخ شاہ محمدسراج الدین جنیدی کی آمد سے ہوئی۔ شیخ دکن کی آمد کے بعد قصبہ کرویش ایک ایسے مردِ مجاہد کی تلاش میں رہا جواسے اپنا مسکن بنا سکے اور یہ تلاش حضرت سیدنا شیخ راجی نور شاہ المعروف شاہ نور بابا کی جلوہ افروزی پر مکمل ہوئی۔ آپ نے کرویش میں علم وعرفاں کی ایک ایسی شمع روشن کی جو یہاں کے ذرہ ذرہ کو منور گئی۔ اس قصبے کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ استاد شعرا راجی نثار اختر صاحب اور راجی محبوب پاشاہ سحر اسی مٹی سے تعلق رکھتے ہیں، یہاں کی شمع علم و ادب کے پروانوں میں سلیم ساقی، عطامحمدقاضی، شاہد شاہنوری، آفتاب عالم آفتاب، ناظم شاہنوری کا شمارہوتا ہے۔کرویش میں جل رہی شمع علم وادب اور شعر وسخن کا عرفان شاہنوری بھی ایک وہ پروانہ ہیں ، جس کے تعلق سے راجی نثار احمد اخترنے کبھی فرمایا تھا کہ۔۔۔
علم و عرفاں کے یہاں تابندہ ہیں شمس وقمر
معرفت کے لہلہاتے ہیں چمن کرویش میں
عرفان جب چلنے پھرنے کی عمرکو پہنچے تو براہِ راست ریاستِ مہاراشٹرا ضلع رتنا گری کا رخ کیا۔ یس یس سی اور ڈی ایڈ پاس کر لینے کے بعد اس پیشے سے منسلک ہو گیے جسے پیشۂ پیغمبری کہا جاتاہے ۔ پارچہ بانی کی صنعت میں شہر اچل کرنجی ریاست مہاراشٹرا میں جتنی اہمیت کا حامل ہے اردو ادب کے لیے اتنا ہی بے یارومددگار رہاہے، اسی شہر اچل کرنجی کو عرفان نے اپنا وطن ثانی بنا لیااوع اس سنگستان میں اردو ادب کے گل بوٹے کھلانے کی کاوشوں میں اپنی زندگی کے قیمتی ماہ وسال وقف کردیئے۔
ہم محنت کش اس دنیا سے جب اپنا حصہ مانگیں گے
ایک باغ نہیں ایک کھیت نہیں ہم ساری دنیا مانگیں گے
کے مصداق عرفان نے اپنی محنتوں وکاوشوں کا لوہا کچھ اس طرح منوایا کہ دنیائے ادب انہیں عرفان شاہنوری کے نام سے جاننے ، ماننے، پہچانے اور پکارنے لگی۔ اور یہی عرفان شاہنوری آج اپنے اولین شعری مجموعہ ’’حاشیے میں نیکیاں‘‘ کے ساتھ افق ادب پر ایک درخشاں ستارے کی مانند چمکنے کے لیے اپنی کمرکس رہے ہیں۔ کس کیا رہے ہیں بلکہ کس چکے ہیں۔ملک کے درون وبیرون مشاعروں میں ان کا بحیثیت شاعر مدعو کیے جاتے رہنا اسی بات کی دلیل ہے۔
خواجہ بندہ نوازارشاد فرماتے ہیں۔ لیلیٰ کے مکان کے جھروکہ کے نیچے ایک پتھرپڑاہوا تھا مجنوں اس پتھر پر بیٹھ کر جھروکے پر نظریں جمائے رہتا۔ رقیبوں نے ایک روز اس پتھر پر خوب آگ روشن کی۔ مجنوں وقت مقررہ پر آکر بیٹھ گیا۔ مجنوں کا بدن جل گیا۔مجنوں کی حالت دیکھ کر رقیبوں کو رحم آیا کہنے لگے ۔ اے دیوانے تو تو بالکل جل گیا۔ کیا تجھے پتھر کے گرم ہونے کاا حساس تک بھی نہیں ہوا؟۔
مجنوں نے دل کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ پہلے ہی جل چکا ہے جسم جل گیا تو کیا ہوا؟۔ یہ واقعہ ذکر کرنے کے بعد حضرت بندہ نواز نے فرمایا کہ عاشق کے دل میں جو عشق کی آگ روشن ہوتی ہے اس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔ اس واقعہ کے تناظر میں جب میں عرفان صاحب کو دیکھتا ہوں تو عرفان اور ان کی شاعری کو بالترتیب مجنوں اور لیلیٰ سے تشبیہ دینے کو جی چاہتا ہے اور وہ اس لیے کہ عرفان نے اپنی تدریسی ذمہ داریوں کو عبادتوں کی طرح نبھاتے ہوئے شاعری اور مشاعروں کے لیے دنوں کا چین ،راتوں کی نیندیں قربان کی ہیں اور مشاعروں کی توسل سے کاکلِ اردو سنوارنے کا دقت آمیز کام سر انجام دے رہے ہیں۔ جس کا اعتراف وہ خود کچھ اس طرح کرتے نظرآتے ہیں۔
ہر حال میں اردو کی خدمت کے لیے حاضر
عرفان کی طرح کوئی پاگل بھی نہیں باقی
عقلمندوں نے یہی سوچ کے بخشا مجھ کو
کام آجا ئے گا اک دن یہ دیوانہ شاید
شاعر اور عاشق میں فرق ہوتا ہے ۔کوئی شخص یا تو شاعر ہوتا ہے یا عاشق ، لیکن جب ہم عرفان شاہنوری کی جناب میں پہنچتے ہیں تو ہمیں ان میں شاعر اور عاشق اکھٹے دکھائی دیتے ہیں۔ اور جب شاعر اور عاشق ایک فرد واحد میں اکھٹے ہوجاتے ہیں تو شاعری اردو ادب کی آن، بان  اور شان بنتی نظرآتی ہے۔ یہی کچھ عرفان شاہنوری کے ساتھ ہو رہا ہے۔
شاعری کیا ہے؟۔ شاعری محض بعض محدود خیالات وتخیلات کو لفظی جامہ پہنا کر صفحہ قرطاس پر اتارنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اپنی سوچ و فکر کے رنگوں سے قاری وسامع کے ذہنی صفحات پر دلکش لکیریں بنانے کا نام شاعری ہے، روح کو جھنجھوڑنے کا نام شاعری، کائنات کی حقیقتوں کو اجاگرکرنے کا نام شاعری ہے، معاشرے میں پھیلی بے راہ روی کو ختم کر ایک نئی صبح پیدا کرنے کا نام شاعری ہے اور ایسی سچی شاعری عرفان شاہ نوری کے قلم سے صفحۂ قرطاس  پر اتر رہی ہے ۔ مانو ان کا قلم۔ قلم نہیں بلکہ جادو کی چھڑی ہو۔ عرفان کے اس شعری مجموعہ ’’حاشئے میں نیکیاں‘‘ کی ابتدا حسب روایت حمدونعت سے ہوئی ہے۔ پھر اس کے بعد تقریباً۹۰ غزلیات کو عرفان صاحب نے جاذب نظر کتاب کے صفحات کے وسط میں ایک مکمل کہکشاں سے پھوٹ پڑنے والی روشنی کی طرح بکھیرا ہے۔ غزلیات کی تعداد بتاتی ہے کہ عرفان خالصتاً غزل کے شاعر جیسے مضامین سے اجتناب کرتے ہوئے زندگی کے کڑوے حقائق کواجاگر کرتے ہوئے ، رہِ حیات کے اتار چڑھاؤ کو آشکارکرتے، تنگ دلی ، تنگ دامنی کو نمایاں کرتے ، رشوت ، شراب، نفرت، جوروجفا، دھوکا فریب، جھوٹ،غیبت، چوری جیسے سنگین سماجی عیوب کو واضح کرتے ، منصف ، قاتل مقتول ، ملزم ، مجرم ، عدالت میں موجود تفرقہ کو منکشف کرتے نظرآتے ہیں۔
تمثیلاً ان چند اشعار کو دیکھ لیں۔
جب ظرف کے مطابق ہاتھوں میں جام ہوتا
میں بھی حدوں میں رہتا، میرا بھی نام ہوتا
رشوت، شراب، نفرت،جوروجفا ودھوکا
مسلک میں ان کے یارب کچھ توحرام ہوتا
یاد آتی ہم کو اکثر اجڑئے ہوئے چمن کی
جب تنگ ہوتا دامن، جبب وقت شام ہوتا
عرفان نے احسان جتانے والے مرض سے سماج کو چھٹکارا دلانے کی کوشش کچھ اس طرح کی ہے کہ۔۔۔۔
ساقی تو محبت سے دو گھونٹ پلائے گا
لیکن بھری محفل میں احسان جتائے گا
ریا کاری واقعتاً ایک بڑا گناہ ہے۔ وہ عبادت جس میں ریاکاری کا ایک فی صد عنصر بھی شامل ہو غارت ہوجاتی ہے۔ احسان جتانا، عبادات کی قمری سطح پر ریاکاری کے داغ نمودارکرنا ہرگز ہرگز بھی درست نہیں ہے۔
عرفان صاحب مظلوم کی آہکے خالی نہ جانے کی جانب اشارہ بھی بڑے خووبصورت اشاروں میں کرتے ہیں۔
اس بات کے شاید یہی بستی میں گھنڈراب تک
مظلوم کی آہوں میں باقی ہے اثراب تک
ثمر کے نہ پانے کی شکایت میں ان کا اپنا انداز تو دیکھئے
مالی کی ہے غفلت یا بدنیتی عرفاں کی
اشجار ہزاروں ہیں آئے نہ ثمر اب تک
درختوں کے ہونے کے باووجود پھلوں کے نصیب نہ ہونے کی بدنصیبی میں عرفان نہ صرف مالی ہی کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں بلکہ خود اپنی بدنیتی کوبھی خاطر میں لا رہے ہیںگویا دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ برا ہونے پرخوواپنا بھی جائزہ لازمی ہے کہ کہیں یہ اپنے گناہوں کی پاداش میں تو ہو نہیں رہا ہے؟۔ اس شعر اور اس توضیح کو ملک عزیز کے موجودہ حالات کی تناظر میں دیکھئے۔
عرفان شاعری میں کبھی کبھی ناصحانہ انداز بھی اپنا جاتے ہیں۔ رہ حیات میں ملنے جلنے والوں کے رویہ سے متاثر  ہو کر میں نے کبھی کہا تھا۔۔
کڑی نصیحتوں کا اثر جب نہ کچھ ہوا 
ناصح نے خامشی کا صحیح فیصلہ لیا
مگر عرفان ہیں کہ نصیحتوں والے اس امرسے چوکتے نہیں ،کہتے ہیں۔۔۔
میری باتوں کو دھیان میں رکھنا
تیر ہر دم کمان میں رکھنا
جب کسی سے کلام کرنا ہو
اک صداقت بیان میں رکھنا
ماں کی عظمت وتقدس کا اعتراف بھی ان کے یہاں بدرجۂ اتم پایاگیا ہے۔
اپنی اماں کے حسیں تبسم کو
زندگی کی تھکان میں رکھنا
عرفان نہ صرف دوسروں ہی کو نصیحت کرنے کے قائل ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو بھی نصیحت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
پاؤں رکھنا زمین پر عرفاں
فکر لیکن اڑان میں رکھنا
تم پہ کھل جائے گا غزلوں کا بھی عرفاں ، عرفاں
مشورہ یہ ہے کہ اب اہلِ زباں تک پہنچو
موت آنی ہے تو آئے گی یقیناً عرفاں
ہاں مگر عشق ضروری ہے شہادت کے لیے
الفاظ کے پردے میں ہر بات چھپا عرفاں
؎کیا کیا ہے تیرے دل میں یہ لہجہ بتائے گا
جو سوچ عراں تیری وہ سوچ بدل دے
ہے کس کو ملا اپنی ہی قسمت سے زیادہ
مجموعۂ کلام ’’حاشیے میں نیکیاں‘‘ میں ایسے بے شمار اشعار ملیں گے جہاں عرفان اپنے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔ اور خود کو نصیحت کرنا جگر گوشے والا کام ہے۔ اس لیے آج کی اس بے حس دنیا میں قدم قدم پر ہمیں ایسے کئی لوگ ملتے ہیں جن کے قول وفعل میں بلا کا تضاد ہوتا ہے۔ ایسے کئی افراد ہمیں ملتے ہیں جن کے گفتار وکردارمیں غضب کا تفرقہ پایا جاتاہے اور شاید اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا۔۔۔
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا
عرفان صاحب دوستی کے قائل تو ہیں مگر ''Old Is Gold'کی طرح نئے دوستوں کی بہ نسبت پرانے دوستوں کو ترجیح دینے کو کارِ ثواب سمجھتے ہیں ۔ نئے دوستوں کے عوض پرانے دوستوں کو اپنی زندگی کی خوشیوں کا ضامن تصور کرتے ہیں۔
آج عرفاں ترے گھر میں ہے یہ رونق کیسی
ہو نہ ہو آیا ہے کوئی یار پرانا شاید
اب یہ اپنے نئے دوستوں کو دل کے کس خانے میں رکھتے ہیں یا رکھے ہوئے ہیں یہ بہتر طورپر وہی بتائیں گے۔ ورنہ دوتوں اور رفیقوں ے متعلق میری رائے تو کچھ اور ہی ہے۔
وہ جو ہاتھوں کو اپنے مل رہا ہے
رفاقت سے ساتھ لے کر چل رہا ہے
کہانی پھر نئی لکھنی ہے راہیؔ
مرا کردار سب کو کھل رہا ہے
بہرکیف عرفان شاہنوری نے اپنے اس اولین شعری مجموعہ ’’حاشیے میں نیکیاں‘‘ میں اپنی شاعری کو ’’ادب برائے ادب‘‘نہ رہنے دے کر سے ’’ادب برائے زندگی‘‘ کا اثاثہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے، اخلاقیات میں گراوٹ ، زندگی کی بے راہ روی اور اپنے تجربات، احساسات وتخیلات کو جدید لب و لہجہ میں پیش کرنے کی حتی الامکان سعی کی ہے۔ غزل کو نیا اسلوب ، نئی فکر ، نیا رنگ عطا کرتے ہوئے عرفان نے غزل کے دائرے کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے، عرفان اپنی شاعری کے آئینے میں صرف ایک شاعری ہی نہیں بلکہ ایک ناصح بھی نظرآتے ہیں جو اپنے خطاب وبیان سے قارہ وسامع کے دلوں میں ایک نئی امنگ پیدا کرنے میں درپیش ، تجرباتوحوادثات کو اشارات وکنایات میں پیش کرنے کاہنر جانتے ہیں۔ من جملہ عرفان شاہنوری نے شاعری کی عرفانی منزل تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور ان کی یہی کوشش انہیں دورِ حاضر کے شعرا میں ایک الگ مقام مہیا کر رہی ہے۔
عرفان شاہنور ی اور عرفان کے اس اولین شعری مجموعہ’’حاشیے میں نیکیاں‘‘ کی پذیرائی کے حق میں راقم الحروف یٰسین راہیؔ اس سے زیادہ کیا کہے گا کہ۔۔۔
بخشش ان سے یقیناہوں گی عرفاں جو ترے
نامۂ اعمال کے ہیں ’’حاشیے میں نیکیاں‘‘

ڈاکٹریٰسین راہیؔ

میرمدرس اسلامیہ پی یو کالج بلگام (کرناٹک)

No comments:

Post a Comment