ستارہ جو غروب ہو گیا - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Saturday, April 4, 2020

ستارہ جو غروب ہو گیا

تاثرات

مولاناڈاکٹرغلام ربانی فداؔ



ستارہ جو غروب ہو گیا
۔۔۔ روشنی جو باقی رہے گی 



ہمارے درمیان سے آل رسولﷺ مولاناسیدنورباشاپ علیہ الرحمہ رخصت ہوگئے۔آل رسولﷺ مولاناسیدنورباشاپ علیہ الرحمہ  ان نابغۂ روزگارہستیوں میں سے تھے جن کے حوالے سے کبھی اقبال نے کہا تھا
ہزاروں سال  نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
مولانااپنے کرداروعمل  اور دینی وملی خدمات ، دعوتی و تبلیغی دوروں کے وجہ سے پہچانے گئے ۔انسان کا چہرہ اس کے باطن کاآئینہ دار ہوتاہے،آپ چہرہ اتنا روشن تھا کہ میں نے اس سے بہ آسانی یہ اندازہ لگالیا کہ ان کا باطن نہایت صاف وتابناک ہے۔انہوں نے کبھی تخریبی ذہانت نہیں اپنائی ہمیشہ تعمیری کام کرتے تھے اور اسی کو پسند کرتے تھے۔۔ایک بے باک خطیب کا جماعتِ اہل سنت میں خلا پیدا ہوگیا۔جب تقریر کرتے تولفظوں سے کھیل رہے ہوتے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ماہ و سال کی گردشیں تھم گئی ہیں۔ ماضی نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی ہے اور یادوں کا کارواں رواں دواں ہیں۔ قبلہ کی کئی خوبیوں اور خصوصیتوں کے مالک تھے۔۔ ایک خوبصوت چہرہ ، بلند پیشانی، گرجدار آواز، لطیف لہجہ، آلِ رسولﷺ کی خوشبو سے مالا مال حضرت سیدنور باشاہ صاحب سے ملاقات ہوئی، یہ تعلقات کافی عرصہ تک ساتھ رہے۔کئی اجلاس میں ایک ساتھ شرکت ہوتی، طبیعت میں مزاح بھی وافرمقدار میں تھا۔
ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے 
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ ء احباب میں تھے


No comments:

Post a Comment