حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط نمبر 20... Hijaz Ki Aandhi Inayatullah Altamish Part 20 - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Saturday, October 17, 2020

حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط نمبر 20... Hijaz Ki Aandhi Inayatullah Altamish Part 20

 حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 20

سعدؓ بن ابی وقاص نے پیغام لکھوایا نہیں بلکہ بالا خانے کے نیچے کھڑے ایک قاصد سے کہا کہ’’ خالد بن عرطفہ سے کہو کہ آندھی کو اﷲ کی طرف سے کمک اور مدد سمجھو۔ دیکھو کہ آندھی کا رخ تمہارے حق میں اور دشمن کے خلاف ہے ۔اﷲ کا نام لو اور دشمن کے پہلوؤں پر ہلّہ بول دو۔‘‘

تاریخ نویسوں نے اس آندھی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رستم کا محل نما خیمہ اس طرح اڑا کہ پورا کا پورا دریائے عتیق میں جا پڑا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رستم کے تمام ہاتھی اسی دریا میں ڈوبے تھے اور اس کا خیمہ جو کپڑے کا وسیع و عریض محل تھا اُڑ کر اسی دریا میں جا پڑا۔اس کے اندر جو بیش قیمت اشیاء اور فرنیچر وغیرہ تھا وہ سب کچھ دریا کی نذر ہو گیا۔

مسلمانوں نے اپنے سپہ سالار کا حکم ملتے ہی فارسیوں پر حملہ کر دیا۔ اگر دونوں فوجوں کی تعداد اور جنگی سازوسامان دیکھا جاتا تو یہ حملہ ایسے ہی تھا جیسے ایک بلّی نے ہاتھی پر حملہ کردیا ہو۔ مسلمانوں کا زیادہ تر زور فارسیوں کے پہلوؤں پر تھا۔ فارسیوں کو توقع نہیں تھی کہ مسلمان اتنی خوفناک آندھی میں بھی حملہ کر دیں گے۔ وہ ذہنی طور پر اس کیلئے تیار نہیں تھے۔ آندھی کارُخ اُنہی کی طرف تھا۔ ریت اور مٹی ان کی آنکھوں میں پڑ رہی تھی لیکن یہ رکاوٹ صرف ان کیلئے نہیں تھی ۔لڑائی کے دوران پینترے بدلتے ہوئے اور آگے پیچھے دائیں بائیں ہوتے اور ہٹتے مسلمانوں کے منہ بھی آندھی کے رُخ میں آجاتے تھے اور ریت اُن کی آنکھوں میں بھی پرتی تھی۔ اس لحاظ سے آندھی دونوں فریقوں کے لیے رکاوٹ تھی ۔فرق صرف یہ تھا کہ فارسی تنخواہ کیلئے یا اپنے جرنیلوں کی خوشنودی حاصل کرکے انعام و اکرام کیلئے لڑتے تھے اور اس کے برعکس مسلمانوں کو صرف اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کا مطلوب تھی۔پھرایک فرق یہ تھا کہ فارسی آندھی کو قدرتی آفت سمجھتے تھے لیکن مسلمانوں نے اس آندھی کو اﷲ تعالیٰ کی نعمت اور غیبی مدد سمجھا۔

ایک بار پھر میدانِ جنگ کی صورتِ حال ایسی ہو گئی تھی کہ اُدھر رستم کو اور اِدھر سعدؓ بن ابی وقاص کو پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کون کس پر غالب آرہا ہے ۔البتہ رستم یہ محسوس کر رہا تھا کہ اس کے دائیں اور بائیں پہلو گڈمڈہو گئے ہیں اور فوج کی کوئی ترتیب نہیں رہی۔

رستم کے پاس ایک طاقت ایسی تھی جس پر مسلمانوں کے جوش و جذبے کا کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا اور یہ طاقت مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی تھی یہ وہ خاص دستہ تھا جو یزدگرد نے کمک کے طور پر رستم کو بھیجا تھا۔ اس کا ہر سوار زرہ پوش تھا۔ مجاہدین کی تلواریں زرہ پر پڑتی تھیں تو بیکار اُچھل کر واپس آتی تھیں۔ کسی قبیلے کے دو سرداروں نے دیکھا تو انہوں نے مجاہدین کو بتایا کہ وہ غلط طریقہ استعمال کر رہے ہیں ۔ان میں سے ایک سردار نے ایک زرہ پوش سوار کی ناف کے نیچے برچھی ماری تو برچھی سوار کی کمر میں سے بھی پار ہو گئی۔

’’تمہیں معلوم نہیں۔‘‘ اس سردار نے مجاہدین سے کہا۔’’ یہ زرہ ناف تک ہی ہے ۔یہ صرف سینے اور پیٹ کا ہی بچاؤ کر سکتی ہے۔ تم اس کی ناف کے نیچے برچھی مارو یا تلوار برچھی کی طرح استعمال کرو۔‘‘

اس کے بعد مجاہدین نے یہی طریقہ اختیار کیا اور زرہ پوش سواروں کو گرانا شروع کر دیا۔

آندھی کی شدت میں کمی آگئی اور آہستہ آہستہ آندھی کم ہوتی گئی ۔پھر فضا صاف ہونے لگی اور نظر کچھ دور تک کام کرنے لگی۔ تب دیکھا کہ فارسیوں کا خاصا نقصان ہو چکا تھا اور اُن کی کوئی ترتیب نہیں رہی تھی۔ سعدؓ بن ابی وقاص کی طرف سے یہ پیغام آیا کہ دباؤ جاری رکھو اور رستم تک پہنچو۔

یہ پیغام جب قعقاع تک پہنچا تو انہوں نے اپنے قبیلے کے کچھ منتخب مجاہدین کو ساتھ لیا اور اس طرف چل پڑے جس طرف انہیں رستم کی موجودگی کا شک تھا۔

ان مجاہدین کو زیادہ دور نہ جانا پڑا۔ انہیں رستم کی تخت بردار بگھی نظر آگئی لیکن رستم تخت پر نہیں تھا۔ اس وقت فارس کی فوج کے پاؤں اُکھڑ چکے تھے۔ سعدؓ بن ابی وقاص کی طرف سے پیغام آیا کہ پل کی طرف دیکھو، فارسی بھاگ رہے ہیں۔

حضرت عمرؓ اور مثنیٰ بن حارثہ کی دانشمندی اس وقت سامنے آئی جب فارسی پسپا ہونے کیلئے پل پر ہجوم کیے ہوئے تھے۔ گھوڑے اور انسان آپس میں اس طرح پھنس گئے تھے کہ ایک قدم چل نہیں سکتے تھے ۔کچھ فارسی فوجیوں کو دریا میں چھلانگیں لگاتے دیکھا گیا ۔لیکن لڑائی ابھی تک جاری تھی۔

پہلے ایک باب میں بیان ہو چکا ہے کہ حضرت عمرؓ نے سعد ؓبن ابی وقاص کو یہ ہدایت بھیجی کہ تم دریا کے پار نہ جانا بلکہ فارسیوں کو دریا کی طرف لانے کی کوشش کرنا ۔مثنیٰ بن حارثہ نے بھی شہادت سے پہلے یہی وصیت کی تھی کہ جو کوئی بھی میرا جانشین ہو گا اسے بتا دینا کہ دریا کے پار جا کر لڑائی نہ لڑنا۔ دشمن کو اپنی طرف گھسیٹ لینا تاکہ دریا اس کی پشت پر رہے۔

اب جب کہ فارسی پسپا ہو رہے تھے تو حضرت عمر ؓاور مثنیٰ کی رائے کے فائدے سامنے آرہے تھے۔ دریا عبور کرنے کیلئے ایک تو پُل تھا اور پُل سے تھوڑی ہی دور ایک عارضی پشتہ تھا ۔فارسیوں کی پوری فوج ایک ہی بار پل سے نہیں گزر سکتی تھی۔ اس دریا کا ایک فائدہ پہلے ہی مسلمانوں کو حاصل ہو چکا تھا ۔وہ یہ کہ فارسیوں کے تمام ہاتھی بھاگ کر دریا میں اُترے اور دریا انہیں بہا کر لے گیا تھا۔پھر ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ پسپا ہونے والے بیشتر فارسی دریا میں اترنے سے ڈرتے تھے ،اس لیے وہ دریا کے کنارے ڈرے ہوئے ہجوم کی صورت اکٹھے ہوتے اور اِدھر اُدھر دوڑتے تھے۔

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اب لڑائی کی صورتِ حال ایسی ہو گئی تھی جیسے عام سے لوگ ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہوں۔ سالار بھی سپاہیوں کی طرھ لڑ رہے تھے اور دونوں طرف کسی کا کنٹرول نہیں رہا تھا۔ قعقاع اپنے منتخب آدمیوں کے ساتھ رستم تک پہنچ گئے لیکن رستم اپنے حفاظتی دستے کے حصار میں تھا اور اس دستے کی تعداد زیادہ تھی۔ اس کے مقابلے میں قعقاع کے ساتھ آدمی تھوڑے تھے۔ حفاظتی دستے کا ہر آدمی اپنی جان پر کھیل کر لڑ رہا تھا، جس سے مجاہدین کو خاصی دشواری پیش آرہی تھی۔

اس کے مقابلے میں قعقاع کے ساتھ آدمی تھوڑے تھے۔ حفاظتی دستے کا ہر آدمی اپنی جان پر کھیل کر لڑ رہا تھا، جس سے مجاہدین کو خاصی دشواری پیش آرہی تھی۔

یہاں مؤرخوں میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے ۔زیادہ تر مؤرخ لکھتے ہیں کہ جب آندھی میں مسلمانوں نے حملہ کیا تھا تو سوار مجاہدین بھی گھوڑوں سے اُتر آئے تھے اور سب نے پیادہ حملہ کیا تھا کیونکہ انہوں نے اسی میں سہولت سمجھی تھی ۔ایسے مؤرخوں کی تعدادکم ہے جنہوں نے لکھا ہے کہ جو مجاہدین سوار تھے، انہوں نے گھوڑوں پر ہی سوار ہو کے حملہ کیا تھا۔ بہر حال اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ مجاہدین پیادہ تھے یا سوار۔ قابلِ توجہ حقیقت یہ ہے کہ اتنی کم تعداد مجاہدین نے اپنے سے تین گنا زیادہ اور بہتر ہتھیاروں سے مسلح فوج کو بے بس کر دیا تھا۔

٭

قعقاع اوران کے جانباز رستم کا حصار توڑنے کیلئے جان کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ ان میں سے بعض زخمی ہو گئے تھے مگر پھر بھی لڑ رہے تھے ۔ایک تو یہ معرکہ بڑا ہی شدید اور خونریز تھا، دوسرے یہ کہ فارسیوں کے گھوڑوں کی اڑاتی ہوئی گرد میں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رستم نکل گیا۔جانباز مجاہدین کو پتا ہی نہ چلا۔ انہیں اس وقت پتا چلا جب رستم کے بچے کچھے محافظ اِدھر اُدھر بھاگ نکلے۔ مجاہدین نے رستم کو بہت ڈھونڈا لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔

دریا کے قریب ہی بہت سی خچریں کھڑی تھیں جن پر سامان لدا ہوا تھا اور سامان پر چمڑے کے ترپال پڑے ہوئے تھے ۔کچھ سامان زمین پر پڑا ہوا تھا۔ یہ ایک ڈھیر کی صورت تھی ۔ رستم اس سامان میں چھپ گیا تھا۔ مجاہدین وہاں تک جا پہنچے پھر وہ رستم کی تلاش میں بکھر گئے۔

ہلال بن علقمہ نام کا ایک مجاہد سب سے الگ تھلگ رستم کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اسے سامان کے ایک اور ڈھیر میں حرکت سی محسوس ہوئی۔ اس سامان کے اردگرد رسّی بندھی ہوئی تھی۔ ہلال بن علقمہ نے اتنے زور سے تلوار ماری کہ رسی کٹ گئی اور سامان گر پڑا ۔ہلال کو اس میں کوئی انسان نظر نہ آیا۔

مؤرخوں کی تحریروں کے مطابق رستم سامان کے اسی ڈھیر کے اندر چھپا ہوا تھا ۔یہ لوہے اورلکڑی کے بکس تھے ۔ہلال نے جب تلوار سے رسی کاٹ دی تھی تو ایک بڑا وزنی بکس رستم کی پیٹھ پر گرا تھا۔ جس سے اس کی ریڑھ کی ہڈی کو بڑی شدید ضرب لگی۔ ہلال کو پتا نہ چلا۔ وہ وہاں سے ہٹ گیا۔

رستم چھپا ہوا ہلال بن علقمہ کو دیکھ رہا تھا۔ جب ہلا ل کچھ دور چلا گیا تو رستم سامان میں سے پیٹ کے بل رینگتا ہوا نکلا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی پر ضرب لگنے سے وہ اُٹھ کر کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر وہ اٹھا بھی تو تیز نہ چل سکا۔ اسے صرف دریا پناہ دے سکتا تھا۔ دریا چند قدم دور تھا۔ رستم زیادہ دیر کھڑا نہ رہ سکا۔ وہ پیٹ کے بل رینگتا ہوا دریا میں چلا گیا۔ اس وقت ہلال بن علقمہ نے اُسے دیکھ لیا۔

رستم دریا میں جا کر تیرنے لگا۔ وہ طاقتور آدمی تھا، اگر اس کی ریڑھ کی ہڈی کو چوٹ نہ لگی ہوتی تو وہ بڑی تیزی سے تَیر کر دور نکل جاتا لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی ۔ہلال بن علقمہ نے اسے دیکھا تو اس کے پیچھے دریا میں کود گیا۔ اس نے رستم کی ایک ٹانگ ٹخنے سے پکڑ لی اور اُسے گھسیٹ کر کنارے پر لے آیا۔ رستم کی بدنصیبی کہ اس کے محافظ یہ سمجھ کر کہ ان کا آقا زندہ سلامت نکل گیا ہے ،وہ سب وہاں سے چلے گئے تھے۔ لیکن رستم ایک مجاہد کے قابو میں آگیا تھا۔

ہلال بن علقمہ نے رستم کو کنارے پر لا کر تلوار نکالی ۔رستم نے اٹھنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکا۔

’’اے عربی!‘‘رستم نے ہلال سے کہا۔’’ مجھے زندہ چھوڑ دے۔ تو جتنی دولت مانگے گا وہ دوں گا …… بول کیا چاہتا ہے؟‘‘

’’اے عجمی سردار!‘‘ہلال بن علقمہ نے کہا۔’’میں جو چاہتا ہوں، میں وہ خود لے لوں گا۔‘‘

ہلال نے تلوار کے ایک ہی وار سے رستم کا سر اس کے جسم سے الگ کر دیا۔

’’مجھے جس دولت کی ضرورت تھی وہ میں نے لے لی ہے۔‘‘ ہلال نے کہا۔

ہلال وہاں سے دوڑا اور سامان کے اس ڈھیر کے اوپر چڑھ گیا جس کے نیچے سے رستم نکل کر بھاگا تھا ۔ہلال نے میدانِ جنگ پر نظر دوڑائی ۔اسے وہ بگھی نظر آگئی جس پر رستم کا شاہانہ تخت تھا ۔ہلال دوڑا اور تخت پرجا چڑھا ۔بگھی چلانے والے بھاگ گئے تھے۔

’’ربّ کعبہ کی قسم!‘‘ہلا ل نے بڑی ہی بلند آواز سے اعلان کیا۔’’ میں نے عجم کے رستم کو قتل کر دیا ہے……اِدھر آؤ……اِدھر آؤ۔‘‘

ہلال نے تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا، جس جس مجاہد نے اس کی آواز سنی وہ دوڑا آیا۔سب نے دیکھا کہ رستم کی سر کٹی لاش دریا کے کنارے پر پڑی ہے۔ مجاہد ین نے بھی نعرہ بازی کے انداز سے اعلان کرنے شروع کر دیئے کہ رستم قتل ہو گیا ہے۔

علامہ بلاذری نے دوسرے مؤرخوں سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رستم کے قاتل کا صحیح نام معلوم نہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ رستم پر تین مجاہدین عمرو بن معدی کرب، طلیحہ بن خویلد، اور قرط بن جماح نے مل کر حملہ کیا تھا۔

علامہ شبلی نعمانی اور محمد حسنین ہیکل نے مختلف مؤرخوں کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ رستم کو قتل کرنے والا ہلال بن علقمہ تھا۔

اس دوران رستم کے دو نامور جرنیل فیروزان اور ہرمزان جو دائیں اور بائیں پہلو ؤں کے کمانڈر تھے بھاگ گئے تھے۔ رستم کی ہلاکت کا علم جب اس فوج کو ہوا جو ابھی تک لڑ رہی تھی، تو وہ فوج بھی دل ہار بیٹھی اور زندہ نکل جانے کے راستے ڈھونڈنے لگی۔

فرار کے تین راستے تھے ۔ایک پل تھا لیکن اس پل پر بھاگنے والے فارسیوں کا اتنا ہجوم تھا کہ وہ سب پھنس کر رہ گئے تھے اور اس طرح پل والا راستہ بند تھا۔ دوسرا راستہ وہ کچا پُشتہ تھا جو رستم نے جنگ سے پہلے فالتو سامان اور مٹی پھنکوا کر بنوایا تھا اور اس سے اپنی فوج گزاری تھی۔ تاریخوں میں لکھا ہے کہ بھاگتی ہوئی فوج کی بے انداز نفری اس پشتے سے دریا عبور کرنے لگی ۔کچا پشتہ اتنے زیادہ آدمیوں اور گھوڑوں کا بوجھ سہار نہ سکا اور بیٹھ گیا۔ کچھ تو دریا جوش میں تھا اور اس کے ساتھ پشتے نے جو پانی روکا ہوا تھا، یہ پانی تیس ہزار فارسیوں کو اپنے ساتھ ہی بہا کر لے گیا۔ گھوڑ سوار گھوڑوں سمیت بہہ گئے ۔ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ نکل سکا۔

جو فارسی پل پر ایک ہجوم کی صورت میں پھنسے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بہتے اور ڈوبتے دیکھا اور اپنے تعاقب میں مسلمانوں کو آتے دیکھا تو وہ ایک دوسرے کو دھکیلتے دباتے آگے کو نکل گئے۔ میدان مجاہدین کے ہاتھ میں تھا۔

٭

سعدؓ بن ابی وقاص نے بالا خانے سے اپنے سالاروں کو پیغام بھیجا کہ فارسیوں کا تعاقب کیا جائے تاکہ یہ لوگ کہیں رک کر دَم نہ لے سکیں اور نہ کہیں اکٹھے ہو سکیں۔ سعدؓ نے پیغام میں لکھا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ فارسی اور ان کے جرنیل زخمی شیر کی طرح مرنے سے پہلے مقابلے پر اتر آئیں ۔اگرایسا ہوا تو مجاہدین کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ مجاہدین تھک کر چور ہو چکے ہیں۔

تعاقب میں جانے والوں میں قعقاع، شرحبیل اور زہرہ تمیمی پیش پیش تھے ۔ان کے قبیلوں کے مجاہدین ان کے ساتھ تھے۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے جو خدشہ محسوس کیا تھا ،وہ صحیح ثابت ہونے لگا ۔وہ اس طرح کہ فارس کا ایک اور مشہور جرنیل جالینوس بھاگنے والے فارسیوں کو کچھ دور روک کر مقابلے کیلئے یکجا کر رہا تھا۔ وہ انہیں بھڑکا رہا تھا کہ ا س طرح شکست کھا کر مدائن پہنچے تو تمہاری اپنی ہی عورتیں تمہیں مدائن میں داخل ہونے نہیں دیں گی ۔ ا س کے فوجی اس کے بھڑکانے سے متاثر ہو کر مقابلے کیلئے اکٹھے ہو رہے تھے۔

اتنے میں مجاہدین جا پہنچے ۔مجاہدین کی تعداد تو بہت تھوڑی تھی لیکن فتح نے ان کے جسموں میں نئی روح پھونک دی تھی ۔ان کے مقابلے میں فارسی حوصلہ ہار بیٹھے تھے ۔اس لئے ان کی اتنی زیادہ تعداد بھی تھوڑی اور بیکار لگتی تھی۔

مجاہدین ان پر ٹوٹ پڑے۔ زہرہ تمیمی نے اپنے ساتھیوں کو ساتھ لیا اور اس جگہ ہلّہ بول دیا جہاں جالینوس اپنے آدمیوں میں گھرا ہوا تھا ۔مجاہدین نے ایسا ہلّہ بولا کہ جالینوس کے آدمی اِدھر اُدھر بھاگے۔ اکیلے جالینوس نے مقابلہ کیا لیکن یہ مقابلہ خودکشی کی کوشش تھی۔ زہرہ تمیمی نے اسے قتل کر دیا۔ اب تو فارسی فوج کا رہا سہا حوصلہ بھی ٹوٹ پھوٹ گیا اور فارسی بھاگنے لگے۔

قادسیہ کی جنگ ختم ہو چکی تھی۔ فارس کی فوج تقریباً آدھی ماری گئی۔ زخمیوں کی تعداد بے انداز تھی اور جو فوج بچ گئی تھی وہ بھاگ رہی تھی ۔خطرہ یہ تھا کہ بھاگنے والی فوج کو اس کے بچے کچھے جرنیل کہیں یکجا نہ کرلیں۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر سعد ؓبن ابی وقاص نے حکم دیا تھا کہ تعاقب کیا جائے۔

٭

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ جالینوس مارا گیا ۔اس کے بعد بھاگنے والے فارسیوں کی یہ حالت ہو گئی جیسے انہیں پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اپنی جانیں بچانے کیلئے لڑیں ،ہتھیار ڈال دیں یا بھاگ جائیں۔ ان کے جسم مجاہدین کے مقابلے میں زیادہ شل تو نہیں ہوئے تھے لیکن ان کا جذبہ استقلال ختم ہو چکا تھا اور ان پر ایسی نفسیاتی کیفیت طاری ہو گئی تھی جس نے ان کے جسموں سے جیسے جان ہی نکال دی ہو۔

مجاہدین نے ان کا قتل ِعام شروع کر دیا۔ جو فارسی سامنے آتا اسے قتل کر دیتے ۔بعض مؤرخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں تک ہو اکہ مجاہدین ایک فارسی کو ہی کہتے ہیں کہ اپنے ساتھی کو قتل کر دو اور وہ فوراً اس حکم کی تعمیل کرتا۔

ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ ایک ایک مجاہد بیسیوں فارسیوں کو مویشیوں کی طرح ہانک کر لا رہا ہے اور فارسی سپاہی سر جھکائے آگے آگے چلے آرہے ہیں۔

تاریخ میں ایک عربی خاتون اُمّ ِ کثیر کا بیان لفظ بلفظ محفوظ ہے ۔اُمّ ِ کثیر ایک مجاہد ہمّام بن حارث کی بیوی تھی ۔اس نے کہا:

’’اپنے خاوندوں کے ساتھ ہم بھی قادسیہ کی جنگ میں شریک تھیں۔ ہمیں امیرِ لشکر سعد بن ابی وقاص کی بیوی سلمیٰ نے ہمارے پاس آکر کہا تھا کہ لڑائی ایسی صورت اختیار کر رہی ہے کہ عورتوں کو بھی تیار رہنا چاہیے۔ یہ سن کر ہم سب تیار ہو گئیں لیکن مجاہدین نے فارسیوں پر فتح حاصل کرلی ۔جب فارسی بھاگے تو ہم تمام عورتیں ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے میدانِ جنگ میں پہنچ گئیں۔ ہم نے اپنا جو زخمی دیکھا اسے پانی پلایا اور اٹھا کر پیچھے پہنچایا ۔لیکن ہمیں جو فارسی زخمی اٹھنے کی کوشش کرتے نظر آئے ،انہیں ہم ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیتیں ۔ہمارے بچے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ انہوں نے فارس کے زخمیوں کو مار مار کر ہلاک کرنے کا ہی کام شروع کر دیا۔‘‘

اس آخری روز کی جنگ میں چھ ہزار مسلمان شہید ہوئے ۔اس سے پہلے قادسیہ کی جنگ میں اڑھائی ہزار مسلمان شہید ہو چکے تھے۔ شہیدوں کی تعداد خاصی زیادہ لگتی ہے، لیکن فارس کے جانی نقصان کو دیکھا جائے تو شہیدوں کی تعداد کچھ بھی نہیں لگتی۔ میدانِ جنگ میں جو فارسی مارے گئے ،ان کی تعدادکا تو کوئی حساب ہی نہ تھا۔ یہ دیکھیں کہ پشتے سے دریا پار کرتے ہوئے تیس ہزار فارسی پشتہ بیٹھ جانے سے دریا میں غرق ہو گئے تھے۔

فارسیوں کے تعاقب میں جانے والے مجاہدین جن کی قیادت قعقاع ،شرحبیل اور زہرہ تمیمی کر رہے تھے ،وہ اس وقت واپس آئے جب دیکھا کہ فارسی ایک ایک کرکے ادھر اُدھرغائب ہو گئے ہیں اور وہ ایک ٹولی یا گروہ کی صورت میں کہیں بھی نظر نہیں آئے۔

قعقاع ، شرحبیل اور زہرہ ، سعدؓ بن ابی وقاص کے پاس گئے۔ یہ فتح کوئی معمولی فتح نہیں تھی ۔سعدؓ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیر رہے تھے۔ خوشی کا بھی یہ عالم کے ان کی تکلیف میں تخفیف آگئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔

اس داستان کو آگے چلانے سے پہلے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ کچھ باتیں اور کچھ واقعات جو اس وقت اور کچھ دیر بعد پیش آئے وہ یہیں بیان کر دیئے جائیں ۔

پہلے کسی باب میں درفش کاویانی کا ذکر آیا ہے، جسے ہم پرچم ہی کہیں گے ۔ تاریخوں میں بھی اسے پرچم ہی لکھا گیاہے لیکن یہ اس قسم کا جھنڈا نہیں تھا جو ایک آدمی اٹھائے میدانِ جنگ میں بلند رکھتا تھا۔ درفش کاویانی دراصل ایک بہت بڑا اور لمبا چوڑا شامیانہ تھا۔ جب فارس کی فوج جنگ کیلئے روانہ ہوتی تھی تو اس کا کمانڈر فوج کے آگے آگے چلتا تھا ۔درفش کاویانی کو کئی ایک گھوڑ سوار ہر طرف سے پکڑے رکھتے تھے اور فوج کا اعلیٰ کمانڈر اس کے نیچے نیچے چلتا تھا ۔یہ اس کمانڈر کیلئے شہنشاہِ فارس کی طرف سے بہت بڑا اعزاز ہوتا تھا بلکہ پوری فوج جو درفش کاویانی کے پیچھے چلتی تھی وہ بھی اسے شہنشاہ کاعطا کیا ہوا اعزاز سمجھتی تھی ۔درفش کاویانی کو فوجی فارس کی آن و آبرو سمجھتے تھے۔

یہ اعزاز رستم کو بھی دیا گیا تھا۔ مجاہدین نے رستم کو اس اعزاز سے محروم کر دیا۔ یہ پر چم ضرار بن خطاب کے ہاتھ لگا۔ ا س نے کچھ مجاہدین کو ساتھ لے کر اسے لپیٹ کر اس جگہ پہنچا دیا جہاں مجاہدین مالِ غنیمت جمع کر رہے تھے۔

درفش کاویانی بڑے ہی زیادہ قیمتی کپڑے کا بنا ہوا تھا۔ ایک تو اس کپڑے کی قیمت تھی اس کے علاوہ اس میں جو سونے کے تار سیئے گئے تھے اور اس میں جو قیمتی موتی اور ہیرے لگائے تھے ،ان سب کی قیمت لاکھوں درہم تھی۔

’’کیا میں اس مجاہد کو نہ دیکھ لوں جس نے رستم کو قتل کیا ہے؟‘‘ سعدؓ نے کہا۔

’’اسے ہم اپنے ساتھ لائے ہیں ۔‘‘ قعقاع نے کہا اور بالا خانے کی کھڑکی سے ہلا ل بن علقمہ کو آواز دی۔

ہلال دوڑتا ہوا بالا خانے میں پہنچا۔ سعد ؓبن ابی وقاص نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چومے ،پھر آنکھوں سے لگائے۔

’’کیا تم نے رستم کے جسم سے ساری اشیاء اتار لی ہیں؟‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے ہلال سے پوچھا۔

’’ہاں امیرِلشکر!‘‘ہلال بن علقمہ نے جواب دیا۔’’ اگر آپ حکم دیں تو میں وہ اشیاء آپ کی خدمت میں حاضر کروں۔‘‘

’’نہیں علقمہ کے بیٹے!‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ وہ سب اشیاء خواہ وہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، تمہاری ہیں۔‘‘

’’ہائے افسوس!‘‘ہلال بن علقمہ نے کہا۔’’ رستم کی ٹوپی میرے ہاتھ نہ آئی۔ دریا میں گر پڑی تھی، وہ مل جاتی تو میں بہت زیادہ نفع میں رہتا۔‘‘

محمد حسنین ہیکل نے چند حوالے دے کر لکھا ہے کہ رستم کے لباس، تلوار، خنجر اور اس کی زرہ اور دیگر اشیاء کی قیمت کم و بیش ستر ہزار درہم تھی۔ اس کی ٹوپی یاخود میں ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے اور اس کی شکل شاہانہ تاج جیسی تھی ۔یہ ٹوپی دریا میں چلی گئی تھی۔ رستم کا جو تخت بگھی پر نصب تھا وہ تو بہت ہی قیمتی تھا۔

اس کے بعد زہرہ تمیمی جس کا پورا نام زہرہ بن حویّہ تھا،سعد ؓبن ابی وقاص کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ اس نے کس طرح جالینوس کو قتل کیا ہے اور اس فوج کو کس طرح بکھیرا ہے جسے وہ مقابلے کیلئے یکجا کر رہا تھا۔

’’امیرِ لشکر!‘‘زہرہ نے سعد ؓسے پوچھا ۔’’کیا میں اس مال و دولت کا حق دار نہیں ہوں جومیں نے جالینوس سے حاصل کی ہیں؟‘‘

سعد ؓبن ابی وقاص نے ا س سے ان اشیاء کی تفصیل پوچھی جو اس نے جالینوس سے حاصل کی تھیں۔ ان اشیاء میں جالینوس کی ذاتی چیزوں کے علاوہ سونے کے کچھ ٹکڑے اور قیمتی ہیرے اور جواہرات بھی تھے جو وہ اپنے ساتھ واپس لے جارہا تھا۔

’’ابنِ حویّہ!‘‘سعدؓ نے کہا ۔’’کون کہہ سکتا ہے کہ تیرا یہ کارنامہ اتنے بڑے انعام کے قابل نہیں ، لیکن یہ مال و دولت اتنا زیادہ ہے کہ میں امیر المومنین کی اجازت کے بغیر صرف ایک آدمی کو نہیں دے سکتا۔‘‘

زہرہ نے اس فیصلے کو بلا چون و چرا قبول کر لیا۔ سعدؓ نے اسی وقت ایک پیغام امیر المومنین حضرت عمرؓ کے نام لکھوایا جس میں انہوں نے فتح کی خوشخبری لکھی اور اس کے ساتھ یہ لکھوایا کہ زہرہ نے ایک بڑے ہی قابل فارسی جرنیل کو قتل کیا ہے اور ا س کی جمیعت کو بکھیرا ہے ۔انہوں نے حضرت عمر ؓکے نام میں اس مالِ غنیمت کی تفصیل لکھوائی جو زہرہ نے جالینوس سے حاصل کیاتھا،اور اجازت طلب کی کہ یہ تمام مال و دولت زہرہ کو ہی دے دیا جائے یا اس میں سے اسے کتنا حصہ دیا جائے۔

’’یہ پیغام گھوڑے کے بجائے اونٹ پر روانہ کیا جائے۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔ ’’اونت یقینا گھوڑے سے تیز جائے گا اورایک ہی بار گھوڑے سے زیادہ سفر بغیر پانی کے کرے گا۔‘‘

حکم کے مطابق یہ پیغام شتر سوار قاصد کے ہاتھ اسی وقت بھیج دیا گیا۔ قاصد کا نام سعد بن عمیلہ فزاری تھا۔

٭

یہ قاصدتو کچھ دنوں بعد مدینہ پہنچا ہو گا اور ان دنوں کے دوران قادسیہ میں اور قادسیہ سے مدائن کے راستے میں بہت کچھ ہوا ہو گا۔ وہاں کی بات کرنے سے پہلے ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ قاصد کی بات اور امیر المومنین حضرت عمر ؓنے جو جواب دیا تھا، اس کا ذکر پہلے کردیا جائے۔

یہ قاصدتو کچھ دنوں بعد مدینہ پہنچا ہو گا اور ان دنوں کے دوران قادسیہ میں اور قادسیہ سے مدائن کے راستے میں بہت کچھ ہوا ہو گا۔ وہاں کی بات کرنے سے پہلے ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ قاصد کی بات اور امیر المومنین حضرت عمر ؓنے جو جواب دیا تھا، اس کا ذکر پہلے کردیا جائے۔

جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ حضرت عمرؓ کے ذہن پر فارس سوار ہو گیا تھا ۔ اس کی جووجوہات تھیں وہ بیان کی جا چکی ہیں۔ انہیں قادسیہ سے ہر روز سپہ سالا رکی طرف سے پیغام جاتا تھا ۔دو چار روز پہلے انہیں اطلاع پہنچی تھی کہ قادسیہ کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ حضرت عمرؓ اس قدر بے تاب رہنے لگے تھے، جب فرصت ملتی گھوڑے پرسوار ہو کر مدینہ سے اس راستے کی طرف نکل جاتے جو عراق کی طرف جاتا تھا ۔خبر ہر روز تو نہیں پہنچ سکتی تھی۔ ساڑھے سات سو میل کی مسافت تھی ۔

ایک روز حضرت عمرؓ حسبِ معمول قادسیہ کے راستے پر مدینہ سے کچھ دور نکل گئے۔ وہ قاصد کی راہ دیکھ رہے تھے۔ انہیں ایک شتر سوار نظر آیا جو اونٹ کو دوڑاتا آرہا تھا۔

’’کہاں سے آرہے ہو بھائی؟‘‘ حضرت عمر ؓنے شتر سوار کے قریب آنے پر اس سے پوچھا ۔’’اور کہاں جا رہے ہو؟‘‘

’’میں قادسیہ سے آرہا ہوں بھائی۔‘‘ شتر سوار نے اونٹ کو بلا روکے جواب دیا۔

حضرت عمرؓ نے اس کے ساتھ گھوڑا دوڑا دیا۔

’’تم قادسیہ کے قاصد تو نہیں ؟‘‘ حضرت عمر ؓنے پوچھا۔

’’ہاں بھئی۔‘‘ شتر سوار نے جواب دیا۔’’ میں قادسیہ سے امیرِ لشکر سعد بن ابی وقاص کا پیغام امیر المومنین کے نام لایا ہوں۔‘‘

یہ قاصد)تاریخ کے مطابق(نوجوان تھا اور مدینہ سے کچھ دور کے گاؤں کا رہنے والا تھا۔ اس نے حضرت عمرؓ کو کبھی نہیں دیکھا تھا ۔حضرت عمرؓ نے بھی اسے نہ بتایا کہ میں ہی امیر المومنینؓ ہوں۔ وہ اس کے ساتھ گھوڑا دوڑاتے گئے۔

’’خدا کی قسم!‘‘حضرت عمر ؓنے کہا۔ ’’میں قادسیہ کی ہی خبر سننے کو بیتاب ہوں اور میں مدینے کا رہنے والا ہوں۔کوئی خوش خبری ہے تو مجھے نہیں سنانا چاہو گے؟‘‘

’’اﷲ نے آتش پرستوں کو چار دنوں کی لڑائی کے بعد بہت بری شکست دی ہے۔‘‘ قاصد نے کہا۔’’ اﷲ نے ہمیں اتنی بڑی فوج پر فتح دی ہے جو ہم لوگوں نے کبھی دیکھی تھی نہ سنی تھی۔‘‘

اونٹ کی رفتار مدینہ میں داخل ہو کر کم ہوئی۔ حضرت عمرؓ بھی اس کے ساتھ ہی شہر میں داخل ہو ئے۔ لوگوں نے انہیں ایک شتر سوار کے ساتھ آتے دیکھا تو وہ راستے میں آگئے ۔

’’یا امیر المومنین!‘‘ایک آدمی نے آگے ہوکر پوچھا ۔’’قادسیہ کی کوئی خبر نہیں آئی؟‘‘

اسی طرح دو تین اور آدمیوں نے حضرت عمرؓ کو بعد از سلام امیر المومنین ؓکہا تو شتر سوار نے اونٹ کو روک لیا اور کود کر اونٹ سے اترا ۔حضرت عمرؓ بھی گھوڑے سے اتر آئے۔

’’یا امیر المومنین! ‘‘شتر سوار سعد بن عمیلہ نے حضرت عمرؓ کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔’’ اﷲ آپ پر رحم کرے ۔ مجھے راستے میں ہی کیوں نہ بتا دیا کہ آپ امیر المومنین ہیں۔ مجھ سے یہ گستاخی کیوں کروائی؟‘‘

’’کچھ حرج نہیں میرے بھائی!‘‘حضرت عمرؓ نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کوئی مجھے امیر المومنین کہتا ہے یا نہیں، میری دلچسپی تو اس پیغام کے ساتھ ہے جو تم لائے ہو۔‘‘

حضرت عمرؓ نے وہیں پیغام لے کر پڑھنا شروع کر دیا۔ مدینے کے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے سب کو فتح کی خوشخبری سنائی۔ تھوڑی سی دیر میں یہ خوشخبری گھر گھر پہنچ گئی۔ لوگ مسرت و شادمانی کے نعرے لگاتے باہر نکل آئے۔ مدینے کا بچہ بچہ قادسیہ کی یہ خبر سننے کا منتظر تھا ۔

حضرت عمرؓ اپنے گھر چلے گئے اور دوسرا پیغام پڑھا جو مالِ غنیمت سے متعلق تھا ۔انہوں نے اسی وقت جواب لکھوایا اور اسی قاصد سے کہا کہ وہ کچھ دیر آرام کر کے واپس چلا جائے۔

٭

کچھ دنوں بعد سعدؓ بن ابی وقاص کو امیر المومنینؓ کا جواب ملا۔ سعدؓ نے امیر المومنین ؓسے زہرہ بن حویّہ کو مالِ غنیمت دینے سے متعلق پوچھا۔ حضرت عمرؓ نے اس کا جواب یہ دیا:

’’زہرہ جیسے جانباز مجاہد روز روز پیدا نہیں ہوا کرتے۔ اس پر اعتبار کرو۔ اس نے بے نظیر شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے اور تم نے اور جنگیں بھی لڑنی ہیں۔ اس کا دل نہ توڑو ۔اس نے جالینوس کے جسم سے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے وہ اسے دے دو ۔ ا س کے علاوہ جب مجاہدین میں مالِ غنیمت تقسیم کرو تو زہرہ کو پانچ سو درہم زیادہ دینا۔‘‘

سعدؓ بن ابی وقاص کو توقع نہیں تھی کہ قادسیہ سے انہیں اتنا زیادہ مالِ غنیمت ملے گا ۔وہ تمام بکس جو خچروں پرلدے ہوئے تھے اور لادے جا رہے تھے اور جن میں رستم چھپ گیا تھا ،وہ سب سونے چاندی کے سکوں سے بھرے ہوئے تھے ۔یہ فارس کی فوج کی تنخواہ تھی۔ اتنی زیادہ رقم یہ سوچ کر ساتھ لائی گئی تھی کہ رستم یہ عہد کرکے نکلا تھا کہ وہ مدینہ تک پہنچے گا ۔فارس کے جرنیلوں اور ان سے کم درجہ افسروں کی شہنشاہی مشہور تھی۔ وہ اپنے ساتھ آسائش اور عیاشی کا بیش قیمت سامان لائے تھے۔ اس کے علاوہ اس فوج کے ساتھ بڑا ہی قیمتی سامان تھا۔

تاریخوں کے مطابق مالِ غنیمت اس طرح تقسیم کیا گیا کہ ہر سوار کو چھ ہزار درہم اور ہر پیادے کر دو ہزار درہم دیئے گئے ۔جن مجاہدین نے شجاعت کے غیر معمولی مظاہرے کیے تھے ،انہیں پانچ پانچ سو درہم زیادہ دیئے گئے۔

سعدؓ نے خلافت کا حصہ جو خمس کہلاتا تھا الگ کر دیا تھا ۔یہ تقسیم ہو چکی تو اسی روز سعدؓ نے حضرت عمرؓ کولکھا کہ انہوں نے نقد رقم یوں تقسیم کی ہے اور خمس الگ کر دیا ہے۔ امیر المومنین حضرت عمر ؓنے جواب دیا:

’’خمس بھی مجاہدین میں تقسیم کردو۔ ان تھوڑے سے مجاہدین کا یہ کارنامہ معمولی نہیں کہ انہوں نے فارس جیسی جنگی قوت کو اتنی زبردست شکست دی ہے کہ فارس کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا ۔اگر کوئی مسلمان بیماری کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے اس جنگ میں شریک نہیں ہو سکا تو اسے بھی پورا صلہ دو۔‘‘

سعدؓ نے خمس بھی مجاہدین میں تقسیم کردیا ۔شہیدوں کا حصہ ان کی بیوگان کو وہیں دے دیا گیا اور جو بیوگان اپنے گھروں میں تھیں ان کے حصے الگ کر دیئے گئے تھے۔ سعدؓ بار بار یہ اعلان کر رہے تھے کہ کسی کو حصہ نہ ملا ہو یا تھوڑا ملا ہو تو وہ سامنے آئے ۔ کوئی بھی سامنے نہ آیا ۔ یہ اعلان کروانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی تھی کہ ہرکسی کو اتنا زیادہ حصہ دے کر بھی خاصا مالِ غنیمت بچ گیا تھا۔ سعدؓ بن ابی وقاص نے اس کی اطلاع حضرت عمرؓ کو دی اور پوچھا کہ یہ بیت المال کیلئے بھیجا جائے یا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ یہ ان مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے تو حافظِ قرآن ہیں۔

حضرت عمرؓ کا یہ جواب پہنچا تو سعد ؓبن ابی وقاص نے اعلان کروایا کہ جو مجاہدن حافظ ِ قرآن ہیں وہ سامنے آئیں ۔

کسی بھی تاریخ میں ان مجاہدین کی تعدادنہیں ملتی جو حافظِ قرآن تھے۔ جتنے بھی تھے، انہیں مالِ غنیمت میں سے اضافی حصہ دیا جانے لگا۔ اس تقسیم میں ایک دلچسپ واقعہ ہو گیا۔ قرآن کے حافظوں میں دو مجاہد عمرو بن معدی کرب اور بشر بن ربیع بھی شامل ہو گئے۔ ہر وہ مجاہد جو حافظِ قرآن ہونے کا دعویٰ کرتا تھا ،اس کا امتحان لے کر اسے حصہ دیا جاتا تھا۔

’’ابنِ معدی کرب!‘‘سعدؓبن ابی وقاص نے عمرو بن معدی کرب سے پوچھا ۔’’تمہیں کتنا قرآن حفظ ہے؟‘‘

’’میں قرآن حفظ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘ ابنِ معدی کرب نے جواب دیا۔’’ میں نے یمن میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد میں اتنی زیادہ لڑائیوں میں شریک ہوا کہ قرآن حفظ کرنیکی مہلت ہی نہیں ملی۔‘‘

’’نہیں میرے بھائی ۔‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ تمہاری شجاعت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ لیکن میں تمہیں یہ حصہ دینے سے انکار کرتا ہوں کیونکہ تم حافظِ قرآن نہیں ہو۔ اور تم ابنِ ربیع؟ ‘‘سعدؓ نے بشر بن ربیع سے پوچھا۔’’ تم نے کتنا قرآن حفظ کیا ہے؟‘‘

’’نہیں میرے بھائی ۔‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ تمہاری شجاعت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ لیکن میں تمہیں یہ حصہ دینے سے انکار کرتا ہوں کیونکہ تم حافظِ قرآن نہیں ہو۔ اور تم ابنِ ربیع؟ ‘‘سعدؓ نے بشر بن ربیع سے پوچھا۔’’ تم نے کتنا قرآن حفظ کیا ہے؟‘‘

بشر بولا۔’’ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ۔‘‘ اور مسکرا کر چپ ہو گیا۔

وہاں جتنے لوگ موجود تھے، سب ہنس پڑے ۔سعدؓ بن ابی وقاص کی بھی ہنسی نکل گئی ۔نہ سعدؓنے نہ کسی اور نے برا جانا کہ دونوں قرآن کے حافظوں میں شامل ہو گئے ہیں مگر قرآن پڑھا تک نہیں۔ بُرا نا جاننے کی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں مجاہد غیر معمولی طور پر بہادر تھے۔ مثلاً عمرو بن معدی کرب کی بہادری کا ایک واقعہ بیان ہو چکا ہے کہ وہ اکیلا ہی ایک ہاتھی کو مارنے پہنچ گیا تھا ،جس کے دائیں بائیں پیادہ اور گھوڑ سوا ر محافظ موجود تھے۔ انہوں نے اس مجاہد کو برچھیوں سے چھلنی کر دیا تھا لیکن اس کے ہاتھ سے تلوار نہیں گری تھی، اور دوسرے دن اسلام کا یہ شیدائی پھر میدانِ جنگ میں موجود تھا۔ اب بھی اس کے جسم پر جگہ جگہ پٹیاں لپٹی ہوئی تھیں۔

سعدؓ بن ابی وقاص نے اسے بھی کوئی مزید حصہ دینے سے انکار کردیا۔

’میں قرآن حفظ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘ ابنِ معدی کرب نے جواب دیا۔’’ میں نے یمن میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد میں اتنی زیادہ لڑائیوں میں شریک ہوا کہ قرآن حفظ کرنیکی مہلت ہی نہیں ملی۔‘‘

’’نہیں میرے بھائی ۔‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ تمہاری شجاعت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ لیکن میں تمہیں یہ حصہ دینے سے انکار کرتا ہوں کیونکہ تم حافظِ قرآن نہیں ہو۔ اور تم ابنِ ربیع؟ ‘‘سعدؓ نے بشر بن ربیع سے پوچھا۔’’ تم نے کتنا قرآن حفظ کیا ہے؟‘‘

بشر بولا۔’’ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ۔‘‘ اور مسکرا کر چپ ہو گیا۔

No comments:

Post a Comment