Allama Moin ud deen Ajmeri Ka Mukhtasar Taruf > Gulam Rabbani Fida - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Wednesday, July 15, 2020

Allama Moin ud deen Ajmeri Ka Mukhtasar Taruf > Gulam Rabbani Fida

حضرت مولانامعین الدین کا مختصر تعارف

غلام ربانی فدا


حضرت مولانامعین الدین بن عبدالرحمان ا جمیری ہندوستان کے بڑے علماوفضلامیں سے تھے۔آپ کی ولادت باسعادت ۲۶ذی الحجہ ۱۲۹۹ ھ میں ہوئی ۔اسلامی ماحول میںآپ کی تربیت ہوئی ۔آپ نے حکیم برکات بن دائم علی صاحب کی خدمت میں ایک طویل مدت گزارکراپنی تعلیم مکمل کی ۔اس کے علاوہ مولانالطف اللہ صاحب سے علوم ریاضی سیکھے ۔تعلیم سے فراغت کے بعدآپ ’’مدرسہ نعمانیہ لاہو‘‘میں مسندتدریس پر متمکن ہوگئے اوریہاں تقریباًدوسال تک طلبہ کوفیضیاب کرتے رہے۔آپ نے ۱۳۲۷ھ میں’’ مدرسہ معین الحق‘‘ قائم فرمایااوریہاں آپ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں طلبہ کوسنوارنے میںلگادیں۔نظام دکن میرعثمان علی خان بھی آپ ان دروس میں شامل ہوتارہاہے ۔آپ کے دروس کااس پر ایسا اثر پڑا کہ اس نے آپ کے مدرسے کے لیے ماہاناوظیفہ جاری کردیااوراسی وجہ سے اس مدرسے کانام ’’مدرسہ معینیہ عثمانیہ ‘‘پڑگیا۔آپ نے پچیس سال تک اس مدرسے میں طلبہ کوفیضیاب فرمایالیکن جب ارکان مدرسہ سے کچھ ان بن ہوگئی توآپ نے ۱۳۳۸ھ میں ’’دارالعلوم حنفیہ صوفیہ ‘‘کی بنیادڈالی اوریہاں مسلسل بارہ سالوں تک تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ۔یہاں سے طلبہ کوبہت فیض پہنچایااورطلبہ کی ایک کثیرجماعت یہاں سے فارغ ہوئی۔


حضرت مولانامعین الدین صاحب قبلہ کوتدریس میں ملکہ حاصل تھا ،علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ علوم عقلیہ اورعلوم ریاضی میں بھی آپ کی گہری نگاہ تھی۔حضرت موصوف نے تحریک خلافت میں بھی حصہ لیاا وراسی وجہ سے دوسال تک جیل میں بھی رہے ۔اترپردیش کے مشہورشہرامروہہ میں ہونے والے جمعیہ العلماء کے ایک جلسے کی آپ نے سرپرستی بھی فرمائی اورکافی دنوں تک آپ جمعیہ العلماء کے نائب صدربھی رہے ۔اپنی حددرجہ تدریسی ذمے داریوں کے باوجودآپ بے حدعبادت گزاربھی رہے ۔تربیت باطن اوتذکیہ نفس کے لیے آپ نے شیخ عبدالوہاب بن شیخ عبدالرزاق لکھنوی کے ہاتھوں پربیعت فرمائی۔
حضرت مولاناموصوف نے اپنی پوری زندگی شان بے نیازی کے ساتھ گزاری ۔اللہ پرتوکل ،حق گوئی اورعشق نبی ان کے نمایاں اوصاف ہیں۔محبت رسول کے غلبے کاعالم تویہ تھا کہ جب طلبہ کودرس حدیث دیتے اورخاص طورپرجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا ذکر آتا تو ان کی آنکھیں اشک بارہوجاتیں۔آپ طلبہ کی ضرورتیں بھی پوری کردیتے تھے ،ان کے رنج وغم میں شریک ہوتے اوران کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرتے۔

آپ کوبے شماراشعاریادتھے ۔آپ نے زیادہ کتابیں تصنیف نہیں فرمائیں۔جامع ترمذی پرحاشیہ تحریرفرمایاجومکمل نہیں ہوسکا۔بعض فلفسیانہ مباحث پرحضرت موصوف کے چندرسائل ہیں۔اس کے علاوہ شیخ کبیرحضرت مولانامعین الدین اجمیری کی حیات پرآپ نے ایک کتاب تصنیف فرمائی جوابھی تک غیرمطبوعہ ہے۔

No comments:

Post a Comment