لعل شہباز قلندر حیات وخدمات Laal Shahbaaz Qalandar Hayat Wa Khidmat

لعل شہباز قلندر حیات وخدمات 

لعل شہباز قلندر حیات وخدمات  Laal Shahbaaz Qalandar Hayat Wa Khidmat
 ساتویں صدی ہجری کی ایک دوپہر ڈھل رہی تھی کہ درویشوں کا ایک قافلہ مختلف علاقوں میں نیکی کی دعوت دیتا ہوا باب الاسلام سند ھ کے ایک علاقے  میں پہنچا۔ ان  دنوں باب الاسلام سندھ برائیوں اور بدکاریوں کی آماجگاہ تھا۔ ہر طرف گناہوں کا دور دورہ تھا۔ اس علاقے  میں خاص طور پر کفر و شرک اور فحاشی وبدکاری عام تھی ۔بعض علاقے  تو ایسے  تھے  کہ جہاں مسلمانوں کی تعداد آٹے  میں نمک کے برابر تھی۔دینی معلومات نہ ہونے کے باعث لوگ زندگی کے ہر شعبے  میں بے  راہ روی اور معاشرتی برائیوں کا شکار تھے ۔ لوگوں کی اَخلاقی حالت اَبتر تھی اسی وجہ سے  جگہ جگہ ”برائی کے اڈے “ قائم تھے ۔ درویشوں کا یہ قافلہ ایک  ایسے محلے  میں ٹھہرا جہاں ہر طرف چہل پہل تھی ۔شام ڈھلتے  ہی چراغ روشن ہونے  لگے ، شام نے  رات کا لبادہ اوڑھا تو گانے  بجنے  لگے ، عورتیں سرِعام گناہ کی دعوت دینے لگیں، اوباش نوجوان گناہوں کے بھنور کی طرف کھنچتے  چلے  جارہے تھے ۔ یادِالہی میں مگن درویش یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوئے  اور اپنے  اميرِ قافلہ سے عرض کرنے لگے  :  حضور! یہاں قیام کرنا ہمارے  لیے  مناسب نہیں، کہیں اور چلتے  ہیں یہ تو بہت ہی بُری جگہ ہے  ۔امیرِقافلہ نے  فرمایا :  ہم یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ بھیجے گئے ہیں۔ امیرِقافلہ کا جواب سُن کر درویش مطمئن ہو گئے ۔جوں توں رات گزری ، صبح گناہوں کا بازار سرد پڑ چکا تھا۔ اگلی رات درویش یہ دیکھ کر حیران رہ گئے  کہ بازار میں کل جیسی  رونق نہ تھی۔ دوسری طرف برائی کے اڈوں پر بھی اوس پڑ چکی تھی، جو بھی آتا محلے  میں داخل ہوتے  ہی الٹے  پاؤں واپس لوٹ جاتا ۔
اب تو یہ معمول ہی بن گیا، بازار کی رونقیں ختم ہونے لگیں۔ ایک دن ساری عورتیں جمع ہوئیں اور کہنے لگیں : جس دن سے یہ درویش یہاں آئے  ہیں ہمارا تو کاروبار ہی ٹھپ ہو گیا ہے ۔ انہیں یہاں سے نکالو ورنہ ہم تو بھوکے مر جائیں گے ۔ چنانچہ وہ ان درویشوں کے  پاس آئیں اور کہا : بابا ”آپ  صوفی لوگ ہیں یہاں آپ کا کیا کام ، یہ گناہوں کی جگہ ہے ، یہاں سے چلے جائیں آپ کی وجہ سے ہمارا کام بند ہو رہا ہے “۔ درویشوں کے امیرِ قافلہ نے  فرمایا : ’’ہم یہاں جانے کے لیے  نہیں آئے ، اب تو ہمارا مزار بھی یہیں بنے  گا۔  البتہ اگر تمہیں کوئی مسئلہ ہے  تو تم یہاں سے  چلی جاؤ ۔‘‘امیرِ قافلہ  کا  جواب سن کر انہیں پریشانی لاحق ہوگئی۔

لعل شہباز قلندر حیات وخدمات  Laal Shahbaaz Qalandar Hayat Wa Khidmat






 چونکہ بڑے  بڑے  زمیندار اور رؤسا یہاں تک کہ خود راجہ بھی ان گناہوں میں شریک تھا لہذا انہوں نے  راجہ کو شکایت کر دی۔ راجہ نے  اپنے  سپاہیوں سے کہا :  درویشوں سے کہو یہاں سے چلے  جائیں ورنہ انہیں زبردستی نکال دیا جائے ۔ راجہ کا حکم پاتے  ہی سپاہی درویشوں کے قافلے  کی طرف روانہ ہوئے ابھی قریب بھی نہ پہنچے  تھے کہ اچانک انکے پاؤں زمین نے  پکڑ لیے ۔ سپاہیوں نے  قدم اٹھانے کے لیے   بہت جتن کیے  مگر بے  سود۔
 انہوں نے  واپس پلٹنے  کی کوشش کی تو زمین نے  پاؤں چھوڑ دیے ۔ سپاہی گھبرا کر واپس لوٹ گئے ۔ وہ عورتیں  حیرت میں ڈوبی  یہ منظر دیکھ رہی تھیں انکے دل کی دنیا زیروزبر ہوگئی اور وہ  دلی طور پر اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی معتقد ہوچکی تھیں، بے  ساختہ اس بزرگ (جو کہ اس قافلے کے امیر بھی تھے  )کے قدموں میں گر کر تائب ہوگئیں اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں۔ ان کی دیکھا دیکھی مرد بھی ان بزرگکے دستِ حق پرست پر تائب ہو کر دائرہ اسلام میں  داخل ہوگئے ۔
کیا آپ جانتے  ہیں کہ یہ بلند رتبہ درویش کون تھے ؟ جی ہاں! یہ کوئی اور نہیں بلکہ بابُ الاسلام سندھ کی پہچان حضرت لعل شہباز قلندر سیّدمحمدعثمان مَروَندی کاظمی حنفی قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تھے  اور دوسرے  درویش آپ کے  مرید اور خادم تھے ۔    
     لعل شہباز کے نام سے شہرت پانے والی بزرگ ہستی کا نام ان کے والد نے سید عثمان رکھا مگر بعدمیں انہوں نے لعل شہباز قلند رکے نام سے دنیا میں شہرت پائی۔ آپ کی ولادت آذر بائیجان کے گاؤں مروند میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ سے جاملتا ہے۔س طرح ہندوستان میں حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری کی وجہ سے اجمیر کو شناخت حاصل ہوئی ہے اسی طرح سندھمیں سیہون شریف کو حضرت لعل شہباز قلندر کی وجہ سے غیر معمولی عظمت حاصل ہے۔
سر زمینِ سندھ کی بھی یہ بڑی خوش نصیبی ہے کہ عالمِ اسلام کے مختلف علاقوں سے اللہ تعالیٰ جل شانہ کے مقرب اور برگزیدہ بندے یہاں تشریف لائے اور رشدوہدایت کے دریا جاری کیے۔ ان بزرگانِ دین نے اپنے علم وعمل کی روشنی سے صرف سرزمین سندھ کوہی نہیں بلکہ گردونواح کو بھی منور کیا۔باب الاسلام! سندھ میں ہزاروں بزرگانِ دین، اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام کا سلسلہ رشد وہدایت فیوض وبرکات جاری رہا ۔آذربائیجان کے ایک چھوٹے سے قصبے مروند میں حضرت کبیر الدین احمد تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت سید محمد کبیرا لدین احمد شاہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔آپ کی اہلیہ اس مسئلہ کی وجہ سے اْداس رہنے لگی تھیں۔ سید محمد کبیر الدین ہر شب تہجد کے بعد بارگاہِ ایزدی میں مناجات کرتے اور ایک حالتِ گریہ طاری ہوجاتی۔ایک شب اْنہوں نے خواب میں حضرت علیؓ کو دیکھا اور عرض کی ‘‘یا امیر المومنین! آپ میرے حق میں اللہ تعالیٰ سے اولاد کے لئے دعا کیجئے کہ وہ مجھے فرزند عطا فرمائے’’۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تسلی دیتے ہوئے آپ کو ایک فرزند کی بشارت دی۔کچھ عرصہ بعد570 یا 573ھ بمطابق 1177ء میں سیدکبیرالدین احمد کے گھر ایک فرزند کی ولادت ہوئی جس کا نام ‘‘محمد عثمان’’ رکھا گیا اسے آنے والے زمانے میں آسمانِ ولایت کا شہباز بننا تھا۔

ولادت باسعادت

آپ کی ولادت 538ھ بمطابق 1143ء آذر بائیجان کے علاقے مروند (موجودہ افغانستان) میں ہوئی۔



سلسلہ نسب

خاندانی مراتب کی بات کی جائےتو آپؒ کا سلسلہ نسب تیرہ نسبتوں سے ہوکر حضرت امام جعفر صادق تک جا پہنچتا ہے جو کہ آلِ رسول ہیں اور از خود فقیہہ اور امام بھی ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے۔
 سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نورشاہ بن سیدمحمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین بن حسین بن علی بن علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے۔
محمد عثمان کی ابتدائی تعلیم آپ کی والدہ ماجدہ کی نگرانی میں ہوئی۔ سات برس کی عمر میں کلام پاک حفظ کرلیا۔ حضرت شیخ منصور کی نگرانی میں علومِ ظاہری کی تکمیل کی۔ عربی اور فارسی زبانوں میں آپ نے بہت کم عرصے میں خاصی مہارت حاصل کرلی۔ آپ کی والدہ صاحبہ آپ کی اوائل عمری میں وفات پاگئیں اور والد کا سایہ بھی والدہ کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد آپ کے سر سے اْٹھ گیا۔
ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد آپ کا میلان طریقت و معرفت یعنی روحانی علوم کی طرف ہوا ، چنانچہ آپ نے اس تعلیم کے لیے مروند سے سبزوار کا بھی سفر کیا۔ ان دنوں وہاں جلیل القدر شخصیت سید ابراہیم ولی مقیم تھے۔ آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے تھے۔ آپ بڑے عابد وزاہد اور جیّد عالم تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر حضرت ابراہیم ولی کی خدمت میں رہ کر تحصیل علم میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابراہیم ولی نے حضرت لعل شہباز قلندر کی صلاحیتوں کو پرکھ کر جلد ہی مشائخ اور علماء کی ایک محفل میں حضرت لعل شہباز قلندر کو خلافت کی دستار سے نواز دیا۔
غیبی اشارہ ملنے پر اپنے وطن مروند سے عراق تشریف لے گئے اور وہاں سے ایران تشریف لائے۔ حضرت امامِ رضا سے روحانی وقلبی وابستگی کی وجہ سے آپ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے۔ چندروز تک مراقبے کا سلسلہ جاری رہا، آپ کو باقاعدہ گوشہ نشینی کا حکم ہوا۔ آپ خانقاہِ رضویہ میں مصروفِ عبادت رہے یہ سلسلہ چالیس روز تک جاری رہا اور آخری ایّام میں آپ کو حکم ہو ا کہ حج بیت اللہ اور زیارتِ روضہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف حاصل کریں۔
اس طرح آپ امام رضا سے روحانی اجازت ملنے کے بعد حجازِمقدس روانہ ہوگئے۔ اس سفر میں عراق پہنچنے پر حضر ت لعل شہباز قلندر، حضرت عبدالقادر جیلانی کے مزار پر حاضر ہوئے۔ حضرت لعل شہباز قلندر نے بغداد سے حجاز تک راستے میں کئی مقامات مقدسہ کی زیارت کی۔ آپ تین ماہ تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے حج کی ادائیگی کے بعدمدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ مسجد نبویؐ میں جب روضہ اطہر کے قریب پہنچے تو دیر تک بارگاہِ رسالت میں سرجھکائے سلام پیش کرتے رہے۔ آپ گیارہ ماہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔غیبی اشارہ ملنے پر آپ سندھ کی طرف روانہ ہوگئے۔
سفر کے دوران شہباز قلندر مکران کے ساحل پر پہنچے ، جب آپ وادی پنج گور میں داخل ہوئے تو ایک سرسبز میدان نے آپ کے قدم پکڑلیے۔ آپ نے یہاں چلہ کشی کی اور اس میدان کو یادگار بنا دیا۔ مقامی مکرانیوں نے اس ویرانے میں ایک فقیر کو چلہ کشی کرتے دیکھا تو دیدار کے لیے امڈ کر آگئے۔ آپ کی عبادت و ریاضت سے متاثر ہو کر ہزاروں مکرانیوں اور بلوچوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ کے مرید ہوگئے۔
یہاں ایک عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ اس دشت کو ‘‘دشت شہباز’’ بنا کر آگے بڑھ گئے۔ آپ جب پسنی سے گزرے تو ایک گڈریا اپنی بکریوں کا ریوڑ لے کر جا رہا تھا۔ آپ عالم جذب میں تھے۔ وہ گڈریا اپنی بکریوں کو بھول کر آپ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ آپ نے چند دن کے ساتھ میں اسے اپنے رنگ میں ایسا رنگا کہ آپ کے جانے کے بعد وہ گڈریا ‘‘لعل’’ کے لقب سے مشہور ہوگیا۔ پسنی بندرگاہ کے ٹیلے کی دوسری جانب گڈریا لعل کا ایک مزار آج تک اسی گڈریے کی یاد دلاتا ہے۔
یہاں سے آپ سندھ میں داخل ہوئے لیکن رکے بغیر سیدھے ملتان پہنچے اور شہر ملتان کے مضافات میں قیام فرمایا۔ آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملتان اور گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہنے لگا۔ یہ لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آپ کے پاس آتے۔ قلندر شہباز کی دعاؤں سے بے شمار مریضوں کو شفا ملی، لاتعداد دکھیاروں کے دکھ دور ہوئے، ان خوش نصیب لوگوں کی زبانی قلندر شہباز کی کرامات کا شہرہ بھی دور دور تک ہونے لگا۔
ملتان کے قاضی علامہ قطب الدین کاشانی کی سماعت بھی ان قصوں سے آثنا ہوئی۔ علامہ قطب الدین کاشانی ایک عالم فاضل شخص تھے لیکن صوفیت اور درویشی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کے خلاف فتویٰ جاری کردیا۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے کسی عقیدت مند نے قاضی کا یہ فتویٰ آپ تک بھی پہنچا دیا۔آپ چند خدمت گاروں کے ساتھ ملتان کی طرف روانہ ہوگئے۔
حضرت بہاؤ الدین زکریا کی روحانی ولایت سے اس وقت ملتان جلوہ افروز ہو رہا تھا۔ ہر روز مجلس ارشاد کا انعقاد ہوتا تھا۔ ہزاروں طالبان حق کسب فیض کے لیے حاضر ہوتے تھے۔آپ مسند ارشاد پر جلوہ افروز تھے کہ کسی نے اطلاع دی :‘‘حضرت عثمان مروندی قلندر نام کے کوئی بزرگ علامہ قطب الدین کاشانی سے مناظرے کے لیے تشریف لارہے ہیں۔’’
آپ نے کہا ‘‘جاؤ اور قلندر کو نرمی سے سمجھا بجھا کر میرے پاس لے آؤ۔’’ حضرت لعل شہباز قلندر ابھی ملتان کے دروازے پر پہنچے تھے کہ بہاؤالدین زکریا ملتانی کے مریدین آپ کے استقبال کے لیے پہنچ گئے۔اب آپ کے قدم قاضی کی عدالت کے بجائے حضرت بہاؤ الدین زکریا کی خانقاہ کی جانب تھے، حضرت بہاؤالدین زکریا سے پہلی ہی ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ حضرت لعل شہباز قلندر ایسی صحبتوں کے متلاشی تھے۔ خانقاہ میں بیٹھے تو اٹھنا بھول گئے۔ دن رات صحبتیں رہنے لگیں۔ اسی خانقاہ میں آپ کی ملاقات حضرت فرید الدین گنج شکر اور حضرت سرخ بخاری سے ہوئی۔
اس زمانے میں خطہ پنجاب اور سندھ میں قرامطہ فرقے کا بہت زیادہ اثر تھا۔ ان کے عقائد بنیادی اسلامی تعلیمات کے منافی تھے۔ خطہ پنجاب میں کئی علاقے ایسے تھے جہاں ابھی تک اسلام کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔
ان حالات کے پیش نظر حضرت بہاؤ الدین زکریا نے رشد و ہدایت اور اسلام کی تبلیغ کا ایک عملی منصوبہ تیار کیا۔ ایک طرف اپنے مریدوں کو مختلف تبلیغی دوروں پر روانہ کیا تو دوسری جانب حضرت لعل شہباز قلندر، حضرت فرید الدین گنج شکر اور سید جلال سرخ بخاری کے ہمراہ تبلیغی دوروں پر روانہ ہوئے۔ یہ چارروں بزرک کافی عرصہ ایک ساتھ رہے۔بعد میں یہ چاروں بزرگ چار یا رکے نام سے بھی مشہور ہوئے۔
حضرت لعل شہباز قلندر کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جس کی وجہ سے لوگ آپ سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ آپ ان تبلیغی دوروں میں جہاں بھی گئے ، آپ سے بے پناہ کرامات بھی ظاہر ہوئیں، جن سے عوام الناس میں آپ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ان اولیاء اللہ کی تبلیغی کوششوں نے لوگوں کو بہت سکون اور اعتماد عطا کیا اور لوگ کثرت سے اسلام قبول کرتے چلے گئے۔
ہندوستان کے مختلف شہروں کی حضرت لعل شہباز قلندر سیاحت کرتے ہوئے جونا گڑھ تشریف لائے ان دنوں یہاں کے لوگ ایک عجیب مصیبت میں گرفتار تھے۔ دن کی ایک خاص گھڑی میں ایک زنبیل اور ڈنڈا نظر آتا تھا۔ اسے کون پکڑے ہوئے ہے، کچھ نظر نہ آتا تھا۔ بس ایک آواز آتی تھی :‘‘جسے جو کچھ دینا ہے، اس زنبیل میں ڈال دے۔’’لوگوں میں یہ بات بھی مشہور ہوگئی تھی کہ اگر کوئی اس زنبیل میں کچھ نہیں ڈالے گا تو نقصان اٹھائے گا۔
اس لیے لوگ خوف زدہ ہو کر کچھ نہ کچھ اس زنبیل میں ڈال دیاکرتے تھے۔ یہ زنبیل کہنے کو ایک چھوٹا سا کاسہ تھا لیکن اس میں بہت سارا سامان سما جاتا تھا۔ لوگ اس زنبیل سے متاثر تو تھے لیکن روز روز کی طلب سے تنگ آچکے تھے۔ انہوں نے بہت سے بزرگوں سے رابطہ کیا لیکن کوئی بھی اس زنبیل اور ڈنڈے کو نظر آنے سے نہ روک سکا۔
یہ قصہ چل ہی رہا تھا کہ حضرت لعل شہباز قلندر شہر سے باہر آ کر مقیم ہوئے۔ آپ کی شہرت سن کر ایک درویش آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس درویش نے پورا واقعہ آپ کے گوش گزار کرتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہر کی۔
وہ درویش آپ کو اس محلے میں لے گیا جہاں وہ زنبیل ظاہر ہوتی تھی۔ کھیل شروع ہوچکا تھا۔ زنبیل اور ڈنڈا ہر دروازے پر، ہوا میں اْڑتا ہوا پہنچ رہا تھا اور لوگ اپنی نذریں اس میں ڈال رہے تھے۔ قلندر شہباز نے اپنا دست مبارک بڑھا یا۔ زنبیل اور ڈنڈا دونوں آپ کے ہاتھ میں آگئے۔ لوگ دم بخود کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔
حضرت شہباز قلندر نے ڈنڈا اپنے پاس رکھا اور زنبیل اس درویش کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا : ‘‘زنبیل تم رکھ لو۔ آج سے تم زنبیل شاہ ہو۔ جو بھی تمہاری زنبیل سے کھائے گا، فیض یاب ہوگا۔’’
جوناگڑھ میں آج بھی زنبیل شاہ کا مزار موجودہے۔
دوران سیاحت آپ گرنار اور گجرات بھی تشریف لے گئے اور لوگوں کو توحید اور حقانیت کا درس دیا۔ جس زمانے میں آپ گرنار میں مقیم تھے،آپ کے گرد حاجت مندوں کا ہجوم رہتا تھا۔ یہ زمانے بھر کے ستائے ہوئے، بیمار اور مفلس انسان تھے جنہیں قلندر کے تسکین آمیز کلمات جینے کا حوصلہ دیتے تھے۔آپ دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتے، انہیں تسلی دیتے، غمخواری فرماتے۔
ایک روایت یہ ہے کہ اسی سیاحت کے دوران میں آپ نے حضرت بوعلی شاہ قلندر سے بھی ملاقات کی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بوعلی شاہ قلندر ہی نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سندھ میں سیوستان (سہون) میں سکونت اختیارفرمائیں۔ ملتان کے لوگوں کی خواہش تھی کہ آپ واپس جاکر ملتان میں ہی قیام کریں لیکن آپ نے سیہون جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور سندھ کا رْخ کیا۔ حضرت لعل شہباز قلندر 649ہجری میں سندھ تشریف لائے۔
سیہون میں اس وقت ہندو راجہ جیسر جی(جو عرف عام میں راجاچوپٹ کہلاتا تھا) کی حکومت تھی۔ راجہ چوپٹ ایک عیاش طبع آدمی تھا۔ راجہ رعایا کے حال سے بے خبر رہتا۔ لاقانونیت اور ظلم و تشدد ہر طرف عام تھا کسی کی کوئی فریاد نہیں سنی جاتی تھی۔ اسی وقت کا یہ مقولہ بھی مشہور ہے‘‘اندھیر نگری چوپٹ راج’’۔
لوگوں کو بے بس اور لاچار دیکھ کر ایک مجذوب جس کا نام سکندر بودلہ تھا وہ اکثر ایک نعرہ مستانہ لگایا کرتاتھا۔’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘۔
سکندر بودلہ سیوستان کی پہاڑیوں میں عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ ایک رات بزرگ نے خواب میں آوازِ غیبی سْنی کہ ‘‘ایک مرد قلندر آرہا ہے جو ظلمت کو نور میں تبدیل کردے گا’’ پھر اکثر اْن بزرگ کی زبان پر یہ ورد رہتا کہ ‘‘میرا مرشد سائیں آرہا ہے‘‘اس نعرے کو سن کر شہر کے لوگوں کے دلوں سے دعا اْٹھتی کہ خدا کرے ہمارا نجات دہندہ جلد آئے اور ہمیں راجہ کے ظلم سے بچائے۔
مجذوب کی آواز میں ایسی کڑک تھی کہ راجہ کے قلعے کی دیوار کو چیرتی ہوئی اندر آجاتی تھی۔ رات کے اندھیرے اور سناٹے میں یہ پر سوز آواز اہل قلعہ کی نیندیں اڑادیتی تھی۔ شروع شروع میں تو راجہ اور قلعہ کے لوگوں نے نعروں کو سن کر نظرانداز کردیا تھا۔ جب نعروں میں شدت آگئی تو وہ بھی بوکھلا اٹھے۔ ان فلک شگاف نعروں نے نجانے کیوں راجہ جیسرکونہ صرف مشتعل کرتا بلکہ خوفزدہ کردیا تھا ، بالآخر راجا کے سپاہی گئے اور اس مجذوب کو گرفتار کرکے راجہ کے پاس لے آئے۔
راجہ کے سامنے بھی سکندر بودلہ کی زبان پر یہی الفاظ تھے ’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘ تو راجہ غضبناک ہوگیا اور اْس نے سکندر بودلہ کو قید کروادیا، لیکن قید خانے میں بھی اس کے فلک شگاف نعرے بند نہ ہوئے۔راجہ رات بھر اذیت کی آگ میں جلتا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے وزیروں کو طلب کیا۔ وزیروں نے کہا کہ اس شخص کی کھال ادھیڑی جائے آپ ہی دماغ ٹھکانے آجائے گا۔راجا نے اجازت دے دی۔ سکندر بودلہ پر تازیانوں کی بارش کردی گئی لیکن وہ یہی کہتے رہے’’میرا مرشد آنے والا ہے۔‘‘
سکندر بودلہ پر وحشیانہ تشدد جاری رہا۔ تقریباً روزانہ ان پر تازیانوں کی بارش کی جاتی تھی لیکن آپ کے ہونٹوں پر ایک ہی نعرہ جاری رہتا تھا۔سندھ کا علاقہ حضرت شہباز قلندر کے لیے انجان تھا۔ آپ یہاں کی زبان اور ثقافت سے واقف نہیں تھے۔ اس کے باوجود آپ سرزمین سندھ کی طرف تشریف لے آئے۔ حالات کا مشاہدہ کرکے آپ نے کسی ایک جگہ مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ ترک کرکے پہلے ارد گرد علاقوں میں تبلیغی دوروں کاآغاز کیا۔
آپ نے ٹھٹھے کے قریب ‘‘آرائی’’ کے مقام پر ایک بزرگ پیر پیٹھ سے ملاقات کی۔یہ بزرگ ایک پہاڑی کے غار میں مصروف عبادت رہتے تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر نے اسی غار میں آپ سے ملاقات کی اور کامرانی کی دعائیں لے کر رخصت ہوئے۔ آپ نے سندھ کے ایک گاؤں ‘‘ریحان’’ میں بھی کچھ دن قیام فرمایا تھا۔ بعد میں یہی گاؤں حضرت رکن الدین ملتانی کی نسبت سے رکن پور کہلایا۔ جب حضرت لعل شہباز قلندر اس گاؤں میں تشریف لے گئے تو اس کی زمین بنجر تھی۔ پھر اللہ نے آپ کی برکت سے اس زمین کی سرشت بدل ڈالی۔ علاقہ آباد ہوگیا۔ سرسبزوشادابی کی وجہ سے بنجر زمین بھی خزانے اگلنے لگی۔
کراچی کے قریب منگھوپیر کا مزار ہے۔ بعض روایات کے مطابق صاحب مزار حضرت فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ ہیں۔ اسی پہاڑ پر لعل شہباز قلندر کے نام سے ایک بستی آباد ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں حضرت لعل شہباز قلندر یہاں تشریف لائے اور کچھ عرصہ قیام کیا۔
آپ کی ایک چلہ گاہ حیدرآباد کے نزدیک گنجہ ٹکر کے نزدیک ٹنڈو غلام حسین میں بھی موجود ہے۔ مشہور ہے کہ آپ یہاں چلہ کش ہوئے تھے آپ نے حیدرآباد کے اطراف میں بھی کئی تبلیغی دورے کیے تھے۔ یہ بھی ایک روایت ہے کہ دوران سیاحت قلندرپاک نے ‘‘پاٹ’’ شہر میں حاجی اسماعیل منوہر سے بھی ملاقات کی تھی۔‘‘پاٹ’’ دراصل سندھ کا ایک قدیمی شہر تھا۔
بہت سے علمائے کرام دور دراز کی مسافت طے کرکے اس شہر میں آتے تھے۔ قدیم تذکروں میں اس شہر کو اسی وجہ سے ‘‘قبتہ الاسلام’’ کہا گیا ہے۔ دریا کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں باغات کی کثرت تھی جس میں انار بہت کثرت سے ہوتے تھے۔
سیہون شریف کے ریلوے اسٹیشن کے جنوب میں ایک بلند پہاڑ ہے جس کے اندر ایک قدیم غار موجود ہے۔ روایت ہے کہ اس غار میں حضرت لعل شہباز قلندر نے چلہ کشی کی تھی۔سیہون کے ر یلوے اسٹیشن کے قریب آپ کے نام سے منسوب ایک ‘‘لال باغ’’ بھی ہے ۔روایات کے مطابق اس باغ کے قریب ایک پہاڑی پر بھی آپ نے چلی کشی کی تھی۔
مقامی لوگوں میں یہ روایت مشہور ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندر کی آمد سے قبل نہ یہ باغ تھا اور نہ یہ چشمہ۔ لوگ اس مقام پر چشمے کی موجودگی کو شہباز قلندر کی کرامت سمجھتے ہیں۔یہ چند نشانات جو تاریخ میں محفوظ رہ گئے ہیں، صاف بتاتے ہیں کہ آپ نے سندھ کے دور دراز علاقوں کے دورے کیے۔ اس دور کے سفر آج کی طرح باسہولت نہیں تھے۔ دین کی تبلیغ کے لیے ہمیں آپ کے عزم اور حوصلوں سے رہنمائی اور ترغیب لینی ہوگی۔آپ کی بہت سی کرامات لوگوں میں مقبول ہیں۔
روایات ہیں کہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی لاعلاج مریض آتا تو آپ اس پر گہری نظر ڈالتے اور فرماتے۔
‘‘اے بیماری! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تو اسے چھوڑے دے‘‘۔لعل شہباز قلندر کا یہ جملہ مریض میں تندرستی کے آثار پید ا کردیتا۔ اس کے علاوہ بعض اوقات پانی پر دم کرکے بھی مریض کو دیتے اور فرماتے یہ پانی بیمار کو پلاؤ اور آنکھوں کو لگاؤ آپ کی ہدایت پر عمل کرکے بیمار صحتیاب ہوجاتے تھے۔
ایک مرتبہ سندھ اور اس کے قرب وجوار میں اتنا شدید قحط پڑا کہ مخلوقِ خدا سخت پریشان ہوئی۔ اس قحط سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے قلندر سے عرض کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمیں اس قحط سے نجات دیدے۔
حضرت لعل شہباز قلندر نے بارگاہِ ایزدی میں دعا کی، ابھی دعا میں مصروف ہی تھے کہ بارش شروع ہوگئی اور اتنی شدید بارش ہوئی کے تمام خشک کھیت پانی سے بھر گئے۔ ندی نالے پُر ہوگئے۔ اور مخلوقِ خدا نے سکون کاسانس لیا۔وادی مہران سندھ کے مختلف علاقوں کو فیضیاب کرنے کے بعد حضرت لعل شہباز قلندر’’سیوستان‘‘ یعنی سیہون میں مقیم ہوئے جہاں آپ کو بڑی پزیرائی حاصل ہوئی اور آپ کے حسن اخلاق کی بہت دور دور تک شہرت ہوگئی۔
لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے جس میدان میں پڑاؤ ڈالا تھا، اس کے قریب ایک بستی میں شراب و شباب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ درویش کے پڑاؤ کی وجہ سے اس بستی کے مکینوں نے خوف محسوس کیا اور راجہ کے پاس جاکر ان کی شکایت کی۔ان لوگوں کی دروغ گوئی سن کر راجہ غصہ سے تلملا اْٹھا۔ اس نے بہت مغرور لہجے میں اپنے کوتوال کو حکم دیا کہ ان مسلمان فقیروں کوبے عزت کرکے اس کی ریاست سے نکال دیا جائے۔
راجہ جیر جی کے سپاہی گدڑی پوشوں کے خیمے میں داخل ہوئے اور انہیں حاکم سیوستان (سیہون) کا حکم سنایا۔ گدڑی پوشوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے مرشد کے حکم کی پابندی کرتے ہیں۔اگر تمہیں کچھ کہنا ہے تو ان سے کہو۔
راجا جیر جی کے سپاہی اسی حالت غضب میں قلندر شہباز کے خیمے کی طرف بڑھے مگر اندر داخل نہیں ہوسکے۔ سپاہیوں کو ایسا محسوس ہوا جسے ان کے پیروں کی طاقت سلب ہوچکی ہے اور وہ اپنے جسم کو حرکت دینے سے قاصر ہیں۔ پھر جب سپاہیوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو ان کی ساری طاقت بحال ہوگئی۔ سپاہیوں نے دوبارہ خیمے میں جانے کی کوشش کی اس بار بھی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ مجبوراً سپاہی کچھ کیے بنا واپس چلے گئے۔
راجا جیر جی اپنے سپاہیوں کی مجبوریوں کا قصہ سن کر چراغ پا ہوگیا۔ اس نے فوری طور پر اپنے وزیروں، مشیروں اور درباری نجومیوں کو طلب کرلیا۔تمام واقعات سن کر حاکم سیہون کی طرح اراکین سلطنت اور ستاروں کا علم جاننے والے بھی حیران وپریشان تھے۔
پھر درباری نجومیوں نے ستاروں کی چال اور زائچے وغیرہ بنائے تو یکا یک ان کے چہروں پر خوف کے گہرے سائے لرزنے لگے۔نجومیوں نے راجا جیر جی سے عرض کیا۔ ‘‘زائچے بتاتے ہیں کہ ایک شخض حدود سلطنت میں داخل ہوگا اور پھر وہی شخص اقتدار کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن جائے گا۔ شاید وہی شخص ہے جس کے ایک مجذوب شاگرد کو آپ نے قید میں ڈال دیا ہے۔’’
نئی چال سوچی گئی، وزیروں کے کہنے پر ہیرے جواہرات اور اشرفیوں سے بھرا ہوا خوان لے کر شہباز قلندر کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ اسے قبول فرمائیں اور کسی دوسرے جگہ قیام فرمالیں۔آپ نے حکم دیا کہ ان جواہرات کو آگ میں ڈال دو، خدمت گار نے اپنے مرشد کے حکم کے مطابق خوان اٹھا کر آگ میں ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک شعلہ سا بھڑکا، اور واقعی تمام ہیرے جواہرات اور سونے کے ٹکڑے کوئلے اور لکڑی کی طرح آگ میں جل کر خاک ہوگئے۔
حاکم سیہون کا نمائندہ کچھ دیر تک پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ یہ ناقابل یقین منظر دیکھتا رہا۔ وہ سونا جو تپتی ہوئی بھٹی میں بہت دیر کے بعد پگھلتا ہے، اسے معمولی آگ کے شعلوں نے چند لمحوں میں جلا کر خاک کر ڈالا تھا۔ مسلمان درویش کی یہ کرامت دیکھ کر وزیر نے قدموں پر سر رکھ دیا اور گداگرانہ لہجے میں عرض کرنے لگا۔ پھر جب وزیر کانپتے قدموں کے ساتھ واپس جانے لگا تو آپ نے نہایت پر جلال لہجے میں فرمایا۔
’’اپنے راجا سے کہہ دینا کہ ہم یہاں سے واپس جانے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اگر حاکم سیہون اپنی سلامتی چاہتا ہے تو خود یہاں سے چلا جائے‘‘۔وزیر دوبارہ حاکم سیہون کی خدمت میں پہنچا اور اس نے لعل و جواہر کے راکھ ہوجانے کا پورا واقعہ سنایا تو راجا جیر جی اور زیادہ غضبناک ہوگیا اور کہنے لگاتو بزدل ہے کہ ایک معمولی سی بات سے ڈر گیا۔ میں نے اس سے بھی بڑی شعبدہ بازیاں دیکھی ہیں۔
میری سلطنت میں ایسے ایسے کامل جادوگر موجود ہیں جو مسلمان سنیاسی کے طلسم کو پارہ پارہ کردیں گے۔’’
عشاء کی نماز میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ حضرت شہباز قلندر نے خدمت گاروں کی موجودگی میں قلعہ کی جانب رخ کرتے ہوئے فرمایا ’’بودلہ! اب تم ہمارے پاس چلے آؤ‘‘خدمت گار حیران تھے کہ مرشد کسے پکار رہے ہیں؟
سکندر بودلہ جو راجہ جیر جی کی قید میں تھے اور کئی مہینے سے درد ناک سزائیں برداشت کررہے تھے۔ ادھر آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا ہوئے اور ادھر بودلہ کا جسم اچانک زنجیروں سے آزاد ہوگیا۔ بودلہ ابھی اسی حیرانی میں تھے کہ یکایک زنداں کا دروازہ کھل گیا۔ بودلہ کو اپنے مرشد کی آواز سنائی دی، بودلہ سمجھ گئے کہ یہ مدد کے سواء کچھ نہیں۔ اس نے بے اختیار نعرہ لگایا۔‘‘میرا مرشد آگیا، میرا مرشد آگیا۔’’
شدید زخمی ہونے کے سبب بودلہ تیزی سے اْٹھے اور قید خانے سے باہر کی جانب دوڑنے لگے۔ آخر اس میدان میں پہنچ گئے جہاں لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے قیام کیا ہوا تھا۔بودلہ سے مل کر لعل شہباز قلندر نے اپنے مریدوں کو بتایا کہ ‘‘یہی تمہارا بھائی بودلہ ہے۔ اسے حاکم سیہون نے ناحق ستایا ہے۔ انشاء اللہ ! وہ بہت جلد اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے گا۔’’
شدید مخالفتوں کے باوجود آپ نے سیہون شریف میں رہ کر اسلام کا نور پھیلایا ہزاروں لوگوں کو راہِ ہدایت دکھائی، لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق او ر محبت کی تعلیم دی۔ سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں اجاگر کی۔ آپ کی تعلیمات اور حسن سلوک سے سیہون کی ایسی کا یا پلٹی کہ بہت بڑی تعداد میں غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا آپ نے لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق کی تعلیم دی، سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں پیداکی۔لعل شہباز قلندر کی وجہ سے راجہ کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آرہا تھا۔
راجہ جیر جی کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔ سیہون میں ایک مسلمان درویش کی موجودگی اس کے لیے مستقل عذاب بن کر رہ گئی تھی۔ راجہ جیر جی کئی مرتبہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرچکا تھا مگر ہر مرتبہ اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ آخر حاکم سہون نے اپنے علاقے کے کچھ جادوگروں کو طلب کرکے ان سے مسلمان درویش سے مقابلے کا کہا، لیکن سیہون کے ساحروں نے مقابلے سے پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کرلی تھی کہ انہیں ہرانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ البتہ جادوگروں نے راجہ کو مشورہ دیا کہ اگر کسی طرح مسلمان درویش کے شکم میں حرام غذا داخل کردی جائے تو اس کی ساری روحانی قوت زائل ہوجائے گی اور پھر ہمارے جادو کی طاقت اس پر غالب آجائیگی۔
راجہ نے ایک روز کسی حرام جانور کا گوشت پکوایا اور کئی خوان سجا کر مسلمان درویش کی خدمت میں بھیج.دیے۔جب یہ خوان حضرت شہباز قلندر کی خدمت میں پیش ہوا تو کھانا دیکھتے ہی شیخ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے یہ کہہ کر کھانے سے بھرا ہوا خوان الٹ دیا۔’’ہمارا خیال تھا کہ وہ کافر اتنی نشانیاں دیکھنے کے بعد ایمان لے آئے گا مگر جس کی تقدیر میں ہلاکت و بربادی لکھی جا چکی ہو، اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا‘‘۔
مرشد کے اس عمل سے خدام پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پھر دوسرے ہی لمحے زمین بھی لرزنے لگی۔ سہون شدید زلزلے کی لپیٹ میں تھا۔ زمین نے دو تین کروٹیں لیں اور طاقت و اقتدار کا سارا کھیل ختم ہوگیا۔ ادھر شیخ کے سامنے خوان الٹا پڑا تھا راجہ جیر جی کے قلعے کی بنیادیں الٹی ہوگئی تھیں۔
حضرت لعل شہباز قلندر ناصرف صوفی باعمل بزرگ تھے بلکہ آپ نے علم کی ترویج کے لئے بھی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر صرف ونحو کے بھی ماہر تھے۔ایک مغربی مورخ سررچرڈ برٹن کی تحقیق کے مطابق حضرت لعل شہباز قلندر ایک عظیم ماہر لسانیات بھی تھے آپ نے چار کتابیں گر امر اور لسانیات کے حوالے سے فارسی زبان میں تحریر کی تھیں۔
مشہور سیاح ابن بطوطہ دنیا کا سفر کرتے ہوئے 734ھ میں جب سیہون پہنچا تو اس نے آپ کے مزار مبارک کی زیارت کی تھی اور آپ کی خانقاہ میں ٹھہرا۔مشہور محقق شیخ اکرم نے بھی اپنی کتاب موجِ کوثر میں برٹن کی ہسٹری آف سندھ کے حوالے سے دومشہور کتابوں، میزان الصرف اور صرف صفر کا تذکرہ کیا ہے جو کہ حضرت لعل شہباز کی تحریرکردہ تھیں۔
حضرت لعل شہباز قلندر ایک معروف شاعر بھی تھے۔ آپ کے کلام میں معرفتِ الٰہی اور سرکارِ مدینہ کی مدح سرائی، عشق حقیقی کے والہانہ انداز جا بجا نظر آتا ہے۔ آپ کی شاعری میں روحانی وارفتگی اور طریقت و تصوف کے اسرار و رموز بے حد نمایاں اور واضح ہوکر سامنے آتے ہیں جو اکابر صوفیاء کرام کا ایک خاص طرۂ امتیاز ہے۔ حضرت لعل شہباز قلندر اپنے کلام میں عبدو معبود کے رشتوں کی ترجمانی اتنے حسین پیرائے میں کرتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والوں کے قلوب میں گداز اور عشق و محبت کا جذبہ فروزاں ہونے لگتا ہے۔
آپ کو ‘‘لعل’’ کہنے کی مختلف روایات ہیں۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ لعل شہباز قلندر کا خطاب آپ کے پیرومرشد نے عطا فرمایا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر لال رنگ کا لباس زیب تن فرماتے تھے کیونکہ یہ اہل مروند کا مخصوص لباس تھا۔جب آپ اپنی عمر کے سو سال مکمل کر چکے تھے کہ آپ کو ملتان جانے کا خیال آیا۔ آپ کے دوست حضرت بہاؤ الدین زکریا اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ ان کے فرزند حضرت صدرالدین عارف ان کے جانشین تھے۔
حضرت صدرالدین عارف کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ حضرت لعل شہباز قلندر چند خدمت گاروں کے ہمراہ ملتان آرہے ہیں تو آپ کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ اپنی خانقاہ پر لے آئے۔ اس وقت شہزادہ سلطان محمد تغلق حاکم ملتان تھا ، اس نے بھی اپنے دربار میں محفلِ سماع رکھی اور حضرت لعل شہباز کو اپنے دربار میں مدعو کیا۔ آپ نے دعوت قبول کرلی۔ کہتے ہیں اس محفل میں دوران سماع اچانک حضرت لعل شہباز قلندر پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ حالت وجد میں اٹھے اور رقص کرنے لگے۔ آپ یہی وجدانہ رقص اس دھمال کی بنیاد بنا جو آج بھی آپ کے مزار پر دیکھا جاسکتا ہے۔
سلطان نے خواہش ظاہر کی کہ آپ ملتان میں ہی قیام فرمائیں مگر آپ نے فرمایا کہ آپ سیہون میں ہی رہیں گے۔
آپ کے ساتھ سلطان محمد تغلق کو اتنی عقیدت تھی کہ سلطان کی وفات کے بعد سلطان کی میت کو ٹھٹھہ سے سیہون لایاگیا اور آپ کی خانقاہ کے قرب وجوار میں دفن کیا گیا۔
حضرت لعل شہباز قلندرنے تقریباً 103 برس (بعض تذکروں کے مطابق 112 برس )کی عمر پائی ، آسمانِ ولایت کا یہ شہباز اور سیہون اور سندھ کے گردونواح کے تاریک علاقوں کو نورِ اسلام سے منور کرنے والا یہ آفتاب 18شعبان المعظم673ھ بمطابق1275ء میں غروب ہوگیا لیکن لوگوں کے دلوں میں تاقیامت اس آفتاب کی روشنی باقی رہے گی

روضہ مبارک

لعل قلندر کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ عمارت کاشی کی سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں اس کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گزکے قریب ہے۔ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے۔
فیروز شاہ کی حکومت کے زمانے میں ملک رکن الدین عرف اختار الدین والی سیوستان نے آپ کا روضہ تعمیر کروایا۔ اس کے بعد 993ھ میں ترخانی خاندان کے آخری بادشاہ مرزا جانی بیگ ترخان نے آپ کے روضہ کی توسیع و ترمیم کرائی۔ اس کے بعد 1009ھ میں مرزا جانی بیگ ترخان کے بیٹے مرزا غازی بیگ نے اپنی صوبہ داری کے زمانے میں اس میں دوبارہ تر میم کرائی۔موجودہ دور میں بھی روضے کے اطراف میں تعمیر و ترقی کا کام جاری ہے۔

کرامت

حضرت لعل شہباز قلندرؒ کہیں تشریف لے جا رہے تھے تو ایک ریچھ نچانے والا نظر آیا۔ پوچھا تم کون ہو تو بولا قلندر، اس دور میں ریچھ نچانے والے کو بھی قلندر کہتے تھے۔ آپؒ بے اختیار مسکرا دیے۔ یہ بات اس ریچھ والے کو پسند نہی آئی۔ کہنے لگا آپ کون ہیں۔ فرمایا میں بھی قلندر ہوں۔ کہنے لگا آپ کیسے قلندر ہیں نا آپ کے پاس ریچھ نہ ڈگڈگی تو تماشہ کیسے دکھائیں گے۔ فرمایا پہلے تم دکھاؤ پھر میں دکھاتا ہوں۔ریچھ والے نے ڈگڈگی بجائ اور ریچھ کھڑا ہو کر ناچنے لگا۔ اس نے کہا اب آپکی باری۔حضرت لعل شہباز قلندر ؒ دو درختوں کی ٹہنیوں پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا نیچے سے گذر جاؤ مگر یاد رکھنا آگے جانا مگر واپس کبھی مت آنا۔جیسے ہی وہ نیچے سے گذرا ماحول ہی بدل گیا۔
نہ وہ سورج کی گرمی نہ گرد و غبار جہاں تک نظر دیکھے خوبصورت پہاڑ سبزا وادیاں۔ نہ موسم گرم نہ ٹھنڈا۔ ابھی اسی سوچ میں ہی تھا کے دیکھا ایک عظیم لشکر سپاہیوں کا گھوڑوں پر سوار تیزی سے اسکی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ گھبرا گیا کے آج تو جان گئی۔ پاس پہنچ کر لشکر رکا اور سپہ سالار آگے بڑھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ۔سپہ سالار بولا: بادشاہ سلامت آپ کہاں غائب ہو گئے تھے۔آپ کی سلطنت آپکا انتظار کر رہی ہے اور ملکہ عالیہ کارو رو کے برا حال ہے۔ اب وہ حیران پریشان شاہی گھوڑے پر سوار ہو کر ساتھ چل دیا۔ جب محل پہنچا تو عظیم الشان امارت دیکھ کرحیران۔ اندر داخل ہوا تو خوب صورت ملکہ گلہ شکوہ کرتی لپٹ گئ۔ کہاں رہ گئے تھے آپ۔سب بھول کر نہا دھو کے شاہی پوشاک پہن کر تخت پر بیٹھ گیا۔ سالوں گذر گئے۔بچے ہوئے پھر شہزادے بڑے ہو گئے۔ بڑھاپا آ گیا جسم سے جان منہ سے ذائقہ چلا گیا۔ ایک دن اپنی سلطنت میں دریا کے کنارے بیٹھے خیال آیا کہ آخر ہوا کیا تھا۔ اسی جستجو میں وہیں پہنچا جہا پر لشکر تھا تو دیکھا وہ درخت اب بھی موجود ہیں۔ سوچا چلو دیکھتے ہیں کیا اور درخت کے بیچ سے گذرا۔ ماحول بدل گیا۔وہی وقت وہی مقام سامنے اسکا ریچھ اور ڈگڈگی پڑی ہے وہی گرمی وہی گرد و غبار۔ پیچھے دیکھا تو حضرت لعل شہباز قلندرؒ کھڑے تھے۔ اس کی حالت غیر ہو گئی بولا جناب میری سلطنت میری ملکہ میرے شہزادے۔۔ تو آپ نے فرمایا سب تماشہ تھا۔
مزارپردھماکا
دو سال قبل 16 فروری، 2017ء کو شام کے وقت آپ کے مزار کے احاطے میں ایک خود کش دھماکا ہوا تھا۔ اس حملے میں 123 سے زیادہ افراد ہلاک اور 550 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے ۔
دھماکہ عین اس وقت ہوا تھا جب مزار میں دھمال ڈالی جارہی تھی، جاں بحق ہونے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
دھماکے کے باوجود بھی مزار اور صاحبِ مزار سے لوگوں کی عقیدت کسی طور کم نہ ہوسکی اور آنے والے سالوں میں یہاں رش کم ہونے کے بجائے مزید بڑھا جس سے زائرین کے عقیدے کومزید تقویت ملتی ہے۔
تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم

Post a Comment

Previous Post Next Post