اشعار نعتیہ سے آنحضرت ﷺ کا سرور : Ashaar Natiya Se Huzur Ka Suroor

لکھا اس کو نظم میں ہر چند میں شاعر نہیں 
کیونکہ خوش ہوتے تھے اکثر نظم ہی سے شاہ دین 
تھی یہی لِم جو ممد حسان کے تھے روح الامین 
فیض رحمانی ہے نعت رحمتہ للعالمین 
ذکر ختم المرسلین اس نظم سے مقصود ہے 
جو ازل سے تا ابد ممدوح اور محمود ہے 

اشعار نعتیہ سے آنحضرت ﷺ کا سرور : 

قولہ : خوش ہوتے تھے الخ :چنانچہ اس خبرسے معلوم ہوتا ہے جو مواہب لدنیہ میں منقول ہے : 
( فقام ) أی کعب بن زہیر صاحب قصیدۃ بانت سعاد ( حتی جلس الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فوضع یدہ فی یدہ ) وفی روایۃ ابن ابی عاصم فاسلم کعب و قدم المدینۃ ( وکان صلی اللہ علیہ و سلم لایعرفہ ، فقال ، یا رسول اللہ ان کعب بن زہیر قد جاء ک لیستأمنک تائبا مسلمافہل انت قابل منہ ان اناجئتک بہ ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ 
علیہ و سلم :

 نعم ، قال : انا یا رسول اللہ کعب بن زہیر ) قال ابن اسحق فحدثنی عاصم بن عمر بن قتادۃ انہ وثب علیہ رجل من الانصار فقال : یا رسول اللہ دعنی وعدو اللہ اضرب عنقہ ، فقال صلی اللہ علیہ و سلم : دعہ عنک فقد جاء تائبا نازعاً ، قال : فغضب کعب علی ہذا الحی من الانصار لماصنع بہ صاحبہم و ذلک انہ لم یتکلم فیہ ، رجل من المہاجرین الابخیرثم قال قصیدتہ اللامیۃ التی اولہا : بانت سعاد فقلبی الیوم مبتول ز یتم اثر ہالم یفد مکبول ۔ وفیہا : انبئت ان رسول اللہ اوعدنی ز والعفوعند رسول اللہ مامول ۔ الخ ( وفی روایۃ ابی بکر ابن الانباری ) و ابن قانع ( انہ لماوصل الی قولہ : 
ان الرسولؐ لنور یستضاء بہ ز مہندمن سیوف اللہ مسلول ۔ 
رمی علیہ الصلٰوۃ والسلام الیہ بردۃ کانت علیہ ، و ان معاویۃؓ بذل فیہا عشرۃ الآف فقال : ماکنت لاوثر بثوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم احداً ، فلمامات کعبؓ بعث معاویہؓ إلیٰ ورثتہ بعشرین الفاً فأخذہا منہم قال : وہی البردۃ التی عندالسلاطین الیوم ) انتہی ۔ کذافی المواھب اللدنیۃ و شرحہ للزر قانی ۔ و قال الشیخ ابوالشیخ ابو محمد جمال الدین عبداللہ بن ہشام الانصاری فی شرح قصیدۃ بانت سعاد: وکان من خیرقول کعب رضی اللہ عنہ ھذہٖ القصیدۃ فیماروی محمد بن اسحاق و عبدالملک بن ھشام و ابوبکر محمد بن القاسم بن بشار الانباری وابوالبرکات عبدالرحمٰن بن محمد بن ابی سعید الانباری دخل حدیث بعضہم فی حدیث بعض ان کعباً ۔ الحدیث ۔ و ذکر الزرقانی انہ روی الحاکم ان کعباً انشدہ من سیوف الھند فقال صلی اللہ علیہ و سلم من سیوف اللہ ۔ 
ترجمہ : مواہب لدنیہ میں قصہ کعبؓ بن زہیر کے آنے کا پورا پورا ذکر کیا ہے مگر یہاں مختصر لکھا جاتا ہے کہ کعب بن زہیر جوبھاگے ہوئے تھے
مسلمان ہوکر مدینہ طیبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و 
سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کعب بن زہیر تائب اور مسلمان ہوکر اس غرض سے آیا ہے کہ امن پائے اگر میں اس کو حاضر خدمت کروں توکیا آپ اس کی عرض قبول فرمائیں گے ؟ ارشاد ہوا ہاں ، عرض کی کہ میں ہی کعب بن زہیر ہوں یا رسول اللہ ۔ یہ سنتے ہی ایک شخص انصاری کھڑے ہوگئے اور عرض کی یا رسول اللہ حکم دیجئے کہ میں اس دشمن خداکی گردن ماروں ، حضرت ﷺ نے فرمایا نہیں چھوڑ دو توبہ کرکے اشتیاق میں آیا ہے چونکہ مہاجرین سے کسی نے سوائے خیر کے ان کے باب میںکچھ نہ کہا تھا انصاری کی اس حرکت سے وہ برہم ہوئے ( اسی سبب سے قصیدہ میں انصار پر کسی قسم کی تعریض بھی کی ہے ) پھر قصیدہ لامیہ پڑھا جس کا اول بانت سعاد ہے یعنی معشوقہ کی جدائی سے دل میرا بیمار ہے اور ذلیل اور غلام بنا ہوا اس کے ساتھ ساتھ ہے جو فدیہ دے کر چھوٹ نہ سکا بلکہ پابہ زنجیر ہے کہ اس کے قید خیال سے نہیں نکل سکتا ۔ 
اور اس میں یہ بھی شعر ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : خبر پائی میں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے حق میں وعید و تخویف کی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عفو کی امید ہے ۔ روایت ہے کہ جب وہ اس شعر پر پہونچے ’’ان الرسول لنور ‘‘۔ یعنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نور ہیں جس سے روشنی لی جاتی ہے
 اور شمشیر ہند برہنہ ہیں اللہ کے شمشیروں سے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے طرف اپنی چادر مبارک پھینکی جو جسم شریف پر تھی ۔ پھر معاویہؓ نے اس چادر پر دس ہزار درہم لگائے مگر کعبؓ راضی نہ ہوئے اور کہا کہ حضرت کی چادر مبارک میں کسی کو نہ دونگا ۔ پھر جب کعبؓ کا انتقال ہوا تو معاویہؓ نے بیس ہزار درھم ان کے ورثہ کے پاس بھیجے اور ان سے وہ چادر لی ۔ عاصم کہتے ہیں کہ یہ وہی چادر ہے جو سلاطین کے پاس آج تک چلی آتی ہے ۔ اور علامہ زرقانی نے لکھا ہے کہ حاکم نے روایت کی ہے کہ کعبؓ نے ( من سیوف الھند ) پڑھا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اصلاح دی اور فرمایا ( من سیوف اللہ ) کہو انتہی ۔ 
الحاصل اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت اشعار نعتیہ سن کر خوش ہوتے تھے چنانچہ چادر
مبارک عطا کرنا اس پر دلیل ہے ۔ 

Post a Comment

Previous Post Next Post