Biography Hazrat Molana Shah Misbah ul Hassan خواجہ سید شاہ مصباح الحسن پھپھوندوی رحمۃ اللہ علیہ


حضرت مولانا شاہ مصباح الحسن  پھپھوندوی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی: مولانا شاہ مصباح الحسن۔لقب: سید العلماء۔مقام پھپھوند کی نسبت سے’’پھپھوندوی‘‘کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت مولانا  شاہ مصباح الحسن پھپھوندی بن مولانا خواجہ سید عبد الصمد ابدال  سہسوانی پھپھوندوی بن سید غالب حسین علیم الرحمہ ۔خاندانی تعلق قطب المشائخ حضر ت خواجہ ابو یوسف چشتی علیہ الرحمہ سےہے۔شاہ مصباح الحسن کےوالد گرامی’’مجلس علمائے اہل سنت‘‘ کے مستقل صدر تھے۔اسی طرح آپ کاسارا خاندان علم وفضل،ورع وتقویٰ میں اپنی مثال آپ ہے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت  بروز منگل 7/جمادی الاول 1304ھ،مطابق یکم فروری 1887ء کوبمقام پھپھوند ضلع اٹاوہ (ہند) میں ہوئی۔والدِ گرامی نے’’منظور ِ حق‘‘ اور’’فوہب اللہ لہ غلاماً زکیا‘‘ سے سن ولادت کا استخراج کیا۔

تحصیل علم:قرآن پاک مولانا حافظ اخلاق حسین بن  الطاف حسین حالی  (مرید مولانا عبدالصمد) سے مکمل  کیا، مولانا امیر  حسن سہسوانی انصاری مرحوم سےفارسی اور ابتدائی عربی ہدایۃ النحو پڑھی،مولانا مفتی محمد ابراہیم بن حضرت مولانا شاہ محب احمد قادری قدس سرہما سے کافیہ،شرح جامی، شرح وقایہ،شرح تہذیب،برادر عم زاد حضرت مولانا الحاج سید شاہ اخلاص حسین  ،حکیم مولانا مومن سجاد سے بھی کچھ درس لیا، شرح وقایہ، ملا حسن،نور الانوار،والد ماجد سے پڑھیں۔ صفر 1323ھ  میں جون پور جاکر حضرت استاذ العلماء  علامہ محمد ہدایت  اللہ خاں قادری رامپوری رحمۃ اللہ علیہ سے کامل تین سال اکتساب فیض کیا۔1326ھ میں حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی قدس سرہٗ سے  دورۂ حدیث کیا، اور صحاح ستہ کی سند حاصل کی،والد کے شاگرد و مرید مولانا حکیم مولانا  مومن سجاد سے عوارف المعارف کا درس لیا۔، 1328ھ میں علوم ظاہری  وباطنی سے فراغ پایا۔

بیعت وخلافت: والدِ ماجدصدر جماعت اہل سنت عارف باللہ،امیر شریعت،بحرِ طریقت،استاذالعلماء،سید الاصفیاء،عالم  ربانی حضرت علامہ مولانا خواجہ سید عبدالصمد سہسوانی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے،اور ان کی وصیت کےمطابق ان کےوصال کےبعد جانشین منتخب ہوئے۔حضرت خواجہ شاہ یار محمد بختیار(اولاد  حضرت قطب الاقطاب خواجہ بختیارکاکی،مرید وخلیفہ حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی)اور حضرت شاہ امتیاز احمد خیر آبادی(سجادہ نشین شیخ الاسلام خواجہ محمد علی خیر آبادی،استاذ مولانا فضلِ حق خیر آبادی)نےاجازتیں اور خلافتیں عطاء فرمائیں۔اسی طرح 1368ھ میں رمضان المبارک،شوال المکرم،ذوالقعدہ  تین ماہ مدینہ طیبہ زادہا اللہ شرفا وتکریماًمیں مقیم رہے۔حضرت مولانا شاہ علی حسین خیر آبادی  سے سند حدیث حاصل کی۔

سیرت وخصائص:  استاذالعلماء،سندالاولیاء،سید الاتقیاء،حبرِ شریعت،بحرِ طریقت،صاحبِ فضل ومنن حضرت علامہ مولانا شاہ مصباح الحسن رحمۃ اللہ علیہ۔شاہ صاحب علیہ الرحمہ ساداتِ کرام،اولیاء عظام،اور علماءِ ذوالاحتشام کی عظیم جماعت  سےتعلق رکھتے ہیں۔تمام اوصافِ حسنہ،صفاتِ عالیہ،اورعلوم نقلیہ وعقلیہ،اسرارو معارفِ اصفیاءکےعالم تھے۔ساری زندگی دین متین کی خدمت،مسلک ِ حق کی اشاعت،درس وتدریس وعظ ونصیحت،میں مصروف عمل رہے۔شاہ صاحب کو کبھی کسی نےوقت ضائع کرتےہوئے نہیں دیکھا،ہمہ وقت کسی نہ کسی کام مشغول ہوتےتھے۔مطالعہ کا خاص ذوق تھا،والد ماجد کے فراہم کردہ کتب خانہ میں اضافہ اسی  ذوق کا نتیجہ تھا،ہر کتاب پر صحت اغلاط،ضروری حواشی،اور تشریح وتوضیح اور یادداشت  موجود ہے۔

استاذالعلماء حضرت علامہ مولانا محمود احمد قادری علیہ الرحمہ فرماتےہیں: ’’حفظ ِ  قرآن کےبعد 1377ھ میں اپنے بچپن میں چھ ماہ آپ کے زیرِ کرم رہا،سونے کا شرف آپ کے پائیں گھر میں کمرے کے باہرحاصل تھا،رات میں جب آنکھ کھلتی  آپ کو مصروف ِمطالعہ دیکھتا ۔۔۔۔حضرت کے معمولات میں روزانہ ایک منزل تلاوت ِقرآن پاک تھا ،راقم ِسطور کی صغر سنی کے  پیش نظر حفظ قرآن  کی پختگی کے لیے پاس بٹھاکر تلاوت کراتے اور فرماتے دیکھو پہلے تم منزل ختم کرتے ہو یا میں۔کبھی احقر آگے ہوتا،اور کبھی آپ۔ بہار شریعت جزو اوّل کا کچھ حصہ آپ سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔

آپکو فرقِ ضالہ دیوبندی،وہابی،شیعہ،قادیانی سے سخت نفرت تھی،تصلب فی الدین میں بزرگ اور  نامور والد محترم کے قدم بقدم تھے۔قومی وملکی خدمات میں آپ نے  عظیم کارنامے انجام دیئے، کاکوری کیس کے امیر آپ ہی تھے،حضرت مولانا حسرت موہانی حضرت مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی سے خصوصی تعلقات  وروابط تھے۔ مصباح تخلص فرماتے تھے، کلام عربی،فارسی،اُردو تینوں زبانوں میں ہے،سوزوگداز،بلندی،روانی خصوصیت کلام ہے جس کو راقم سطور نےاپنی کتاب بنام ’’فرید عصر مولانا سید مصباح الحسن رحمۃ اللہ علیہ‘‘ میں درج کردیا ہے۔(تذکرہ علمائے اہل سنت:229)۔

حضرت کی علم پروری کی زندہ مثال خانقاہ صمدیہ پھپھوند شریف میں ایک عظیم دینی درسگاہ  کی صورت میں موجود ہے۔جہاں حفظ وناظرہ کےساتھ ساتھ درس نظامی کی ابتدائی کتب سے لےکر تخصص کےدرجے تک معیاری تعلیم کاسلسلہ جاری وساری ہے۔سجادہ نشین اکبر المشائخ حضرت علامہ  سیدمحمد اکبر میاں چشتی علیہ الرحمہ نےاس ادارے کوچارچاند لگادئے،اور ان کےوصال کےبعد ان کےصاحبزادےحضرت علامہ سید انور چشتی دام ظلہ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں،اور خدمتِ دینِ میں مصروف عمل ہیں۔اس جامعہ کاشمار ہندکےبڑے جامعات میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ددیگر سجادگان کو ان کےنقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے،اور اس ادارےکومزیدعروج عطاء فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال 11/رمضان المبارک 1384ھ،مطابق وسط ماہ جنوری/1965ء کی شب واصل باللہ ہوئے۔ بدر الکاملین حضرت مولانا الحاج شاہ رفاقت حسین علیہ الرحمہ   نے وصیت کے مطابق نماز جنازہ کی امامت فرمائی۔خانقاہِ صمدیہ پھپھوند ضلع اوریاہندمیں والد گرامی کےقدموں میں آرام فرماہیں۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ علمائے اہل سنت۔



؍جمادی الاولیٰ۱۳۰۴ ؁ھ مطابق ۱۸۸۷ ؁ء پھپھوند شریف میں ہوئی۔آپ قبلۂ عالم حضور حافظ بخاری علیہ الرحمہ کے صاحب زادے ہیں۔۴سال ۴ماہ اور۴دن کی عمرشریف میں تسمیہ خوانی کی رسم ادا ہوئی، قاعدہ بغدادی کا درس مولانا محمد حسین صاحب عاشق اکبر آبادی نے اور قرآن کریم ناظرہ کا درس حافظ اخلاق حسین پانی پتی علیہ الرحمہ نے دیا۔

حضور قبلۂ عالم علیہ الرحمہ،حضرت مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا ہدایت اللہ خاں صاحب رامپوری علیہ الرحمہ،حضرت سید اخلاص حسین علیہ الرحمہ،حضرت مولانا حکیم مومن سجاد صاحب بریلوی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا ابراہیم صاحب بدایونی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا امیر حسن صاحب سہسوانی علیہ الرحمہ آپ کے اساتذہ رہے ہیں۔(آخر الذکر وہ نہیں جن سے حضور قبلۂ عالم نے مناظرہ کیا تھا)

حضور قبلۂ عالم کے وصال کے بعد ۱۳۲۳ ؁ھ میں آستانہ عالیہ صمدیہ کے صاحب سجادہ مقرر کئے گئے۔۱۳۲۸ ؁ھ میں علوم ظاہرہ سے فراغت حاصل کر لی ۱۳۶۸ ؁ھ میں زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔

اپنے سلسلہ کے دوسرے بزرگوں کی طرح آپ بھی جامع شریت و طریقت رہے۔ایک زمانہ آپکے تبحر علمی کا قائل تھا۔آپکی ذاتی لائبریری مختلف علوم وفنون پر مشتمل کتابوں کا ایک عظیم ذخیرہے۔اکثر کتابوں پر آپکے قلم سے تحریر شدہ حواشی و تشریح و توضیح،صحت اغلات کو دیکھ کر آپکے کثرت مطالعہ اور باریک بینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

۱۳۵۳ ؁ھ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی شان میں بے ادبی پر مشتمل ایک کتاب آپکی خدمت میں آئی۔صاحب کتاب مولوی شاہ علی حیدر کے بڑے بھائی شاہ حبیب حیدر صاحب آپ سے غائبانہ حسن ظن رکھتے تھے۔کتاب کے مشتملات سے متعلق آخر الذکر شاہ صاحب اور آپ کے درمیان مراسلات کا طویل سلسلہ چلا۔بالآخر شاہ صاحب خاموش ہوگئے۔انہیں مکاتیب کا مجموعہ بوارق العذاب لاعداء الاصحاب کے نام سے تین حصوں میں چھپ چکا ہے اظہار حق کی راہ میں ہرذاتی تعلق کو بالائے طاق رکھ دینے کی یہ بہترین مثال ہے۔۷۲-۱۳۷۱ ؁ھ میں جب تبلیغی جماعت کا زور بڑھا اور کلمہ و نماز کی آڑ میں یہ گمراہ کن تحریک پھیلنے لگی تو آپنے ’’ناسور وہابیت‘‘کے نام سے ایک گرانقدر رسالہ تحریر فرمایااور بہت سارے لوگوں کو گمراہی سے بچالیا۔آپکے ذریعہ لکھے گئے سینکڑوں فتاویٰ کا ایک ضخیم رجسٹر آستانہ کی لائبریری میں آج بھی موجود ہے جو آپکے تبحر علمی اور فنی مہارت کا بین ثبوت ہے ۔

آپ نے اپنے سجادگان،اہل خاندان اور متعلقین کے لئے جو وصیتیں فرمائی ہیں انکی ایک ایک سطر سے اخلاص و للّٰہیت،تقویٰ،تصلب فی الدین کی کرن پھوٹتی ہے حمایت مذہب حق کے عنوان سے یہ پیراگراف پڑھئے:

’’مذہب حقہ اہلسنت والجماعت جسکا معیار اس زمانے میں حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف ہیں۔یہی مسلک میرے قبلۂ عالم کا تھا اور یہی مسلک حضرات پیران عظام سلسلہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کا تھا اور اسی کا میں پابند ہوں ۔اسکی حمایت میں کسی کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی چاہئے اور پابندی مذہب کے لئے الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کا پابند رہنا چاہئے،اس سے ہٹنا بد مذہبی ہے جسکی گنجائش نہ میں اپنے جانشینوں کو دیتا ہوں نہ متوسلین کو۔‘‘۱۳۶۶ ؁ھ مطابق ۱۹۴۶ ؁ء میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے انکے عقائد حقہ کے تحفظ کے لئے آپنے اپنی نگرانی میں پھپھوند شریف میں ایک عظیم الشان سنی کانفرنس کی جس میں اکابر علمائے اہلسنت مثلاً محدث اعظم ہند حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب اشرفی کچھوچھوی علیہ الرحمہ،صدر الشریعۃ حضرت مولانا امجد علی صاحب علیہ الرحمہ،صدرالافاضل حضرت مولانا نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا عبدالحامد صاحب بدایونی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا عارف اللہ صاحب میرٹھی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا فضل الصمد صاحب عرف نانا میاں پیلی بھیتی علیہ الرحمہ،وغیرہ نے شرکت فرمائی۔

حضرت مولانا سید سلیمان اشرف صاحب بہاری علیہ الرحمہ،حضرت مولانا عبد الباری صاحب فرنگی محلی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا عبد القدیر صاحب بدایونی،حضرت مولانا مصطفےٰ رضا خاں صاحب مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ سے آپکے گہرے مراسم تھے۔

۱۱؍رمضان المبارک ۱۳۸۴ ؁ھ بروز جمعہ صبح ۷ بجکر ۴۰ منت پر پھپھوند شریف میں آپ اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔مزار پر انوار آستانہ عالیہ صمدیہ کے ہی احاطہ میں مرجع خواص و عوام ہے۔



Post a Comment

Previous Post Next Post