ساس بہو کے لڑائی جھگڑے کا خاتمہ : ایک عملی واقعی کی روشنی میں Saas Bahu Ke Ladai Jaghde - غلام ربانی فداؔ

Breaking

Sunday, March 14, 2021

ساس بہو کے لڑائی جھگڑے کا خاتمہ : ایک عملی واقعی کی روشنی میں Saas Bahu Ke Ladai Jaghde

ساس بہو کے لڑائی جھگڑے کا خاتمہ : ایک عملی واقعی کی روشنی میں

ہم آپ کے سامنے ساس ،بہو،دیورانی،جیٹھانی،نند،بھاوج، کے ساتھ رہنے اور دینداری نہ ہونے کی وجہ سے گھریلو جھگڑوں کو مثال کے طور پر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ،اللہ کرے ہم اس کوشش میں کامیاب ہوں۔ اگر آپ بہو ہیں تو اس کو پڑھ کو ان غلطیوں ،اور زبان درازیوں سے بچیں،اور ساس کا ادب کریں۔

اگرآپ ساس ہیں تو کبھی بھی دو بہوؤں کو ساتھ نہ رکھیں،اگر مجبوری کی وجہ سے ایک بہو کو بھی رکھناہو تو خود بہت زیادہ ٹک ٹک نہ کریں،باربار باورچی خانہ میں نہ جائیں،اور اگر بہو خوشی سے تین وقت آپ کو روٹی پکا کر دیتی ہے تو باورچہ خانہ اس کے سپرد کردیں ،ہر معاملہ میںبہت زیادہ پوچھ گچھ نہ کریں، اور بہو الگ باورچی خانہ رکھ کر تین وقت آپ کی خدمت کرے تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔آپ دن بھر تلاوت اور ذکر و تسبیح میں گزاریں۔آپ کو تین وقت عزت سے کھانا مل جائے تو اس سے بہتر اور کیا ہے؟.

اگر آپ نند ہیں تو ضرور سمجھا بجھا کر اپنی بھابی کو الگ رکھوائیں ،چاہے چھوٹی سی کوٹھڑی ہی کیوں نہ ہو اور اگر آپ جیٹھانی ہیں اور آپ کی دیورانی الگ ہونا چاہتی ہے یااس کے برعکس صورت ہوتو آپ منع نہ کریں۔اللہ ہمارے گھروں سے یہ جھگڑے ختم فرمائے ۔اب درج  ذیل نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔

٭…افضال احمد: ایک نیا شادی شدہ امیر نوجوان

٭…مریم: افضال احمد کی دلہن

٭…محمد وسیم: افضال احمد کا دوست

٭…زبیدہ: افضال احمد کی چھوٹی بہن

٭…آمنہ مائی: افضال احمد کی امی جان

٭…ماسی: گھر کی ملازمہ

٭…انیس: خادم

شام کا سہانا وقت ہے افضال احمد اپنی دکان سے آرہا ہے راستہ میں اس کا دوست محمد وسیم ملتا ہے ۔

محمد وسیم:السلام علیکم!

افضال احمد:وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

محمد وسیم:کہو بھائی کیسے ہو؟

افضال احمد:

یار کیا بتاؤںآج تو اتنا کام جمع ہوگیا تھا کہ کچھ پوچھو ہی مت‘ دوتین آرڈر کینسل کرنے پڑے اور ایک مصیبت ہڑتالوں پر ہڑتالیں چلی آرہی ہیں۔

محمد وسیم:

ٹھیک ہے ! آج کل کام کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے ،پیمنٹ وصول نہیں ہورہی ،میں بھی نکلنے کی تیاری کررہاتھا کہ عثمان سیٹھ نے حساب کا دفتر لاکر رکھ دیا۔ 

افضال احمد:

اور لطف کی بات یہ ہے کہ دکان سے تھک ہار کر گھر پہنچتے ہیں تو وہاں روز ایک نئی الجھن کا سامنا ہوتاہے۔

محمد وسیم:

ہاں! بھائی انسان دکان کی الجھنوں اور اس کے بکھیڑوں سے نہیں گھبراتا‘ لیکن گھر کی الجھنیں؟خدا کی پناہ … روح اور جان کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔

افضال احمد:

صحیح بات ہے یار!تم نے تو دل کی بات کہی،جب سے شادی کے چکر میں پھنسا ہوں‘ عجیب کشمکش میں مبتلا ہوں۔اب جب گھر پہنچوں گا تو کوئی نئی آفت اور الجھن منہ نکالے کھڑی ہوگی اور خوبی کی بات تو یہ  افضال احمد:

نہیں‘ نہیں‘ہم دونوں ہی نہیںآج تقریباً مسلمانوں کا ہر گھر اس مصیبت میں مبتلا ہے‘ ساس بہو کا ہر گھر دوزخ کا نمونہ بن گیا ہے ‘اس دوزخ میں بد نصیب دلہن کی بد نصیب روح دردناک مصیبتیں برداشت کرتی رہتی ہے۔

ان گھروں کو دوزخ بنا دینے کی پوری ذمہ داری بے دین جیٹھانی اور دین سے دور فسادی اور حسد کرنے والی نند پر ہوتی ہے۔

محمد وسیم:

اور اس کا کوئی حل بھی نظر نہیں آتا؟

افضال احمد:

اس کا حل اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ سے الگ ہوکر دوسرا گھر بسائیں،لیکن پھر بھی دنیا والوں کی انگلیاں ہم پر اٹھیں گی اور ہم کو اورہماری بیویوں ہی کو گنہگار ٹھہرائیں گے ،مزید براں ماں باپ نالائق اور نافرمان کہیں گے ،اور اب تو میں نے یہ فیصلہ ہی کرلیا ہے کہ الگ رہوں گااس لئے کہ ہمارے گھر میں ٹی وی ،وی سی آر سب چلتا ہے ۔بیوی کہتی ہے اگرچہ ہم دیکھتے تو نہیں لیکن ہم اس گناہ میں بھی تو شامل ہوجائیں گے،جہاں اللہ کی لعنت برستی ہو ‘وہاں سے تو فوراً اٹھ جانا چاہئے اور پھر ہمارے بچے ٹی وی کی اس بیماری سے کیسے بچ سکیں گے اور تمہیں پتہ ہوگا اس ٹی وی ہی کی نحوست سے لڑکیاں بغیر نکاح کے حاملہ ہو رہی ہیں ،مار دھار سے بھر پور فلموں اور ڈراموں نے گھر گھر کو مصیبتوں کا اڈہ بنا دیاہے،لہذا میں تو اپنی آنے والی نسل پر رحم کھاتے ہوئے ‘کہیں بھی کرائے کا مکان مل گیا تو الگ ہوجاؤں گا۔

ہاں! لائق اور فرمانبردار اور سمجھدار کہلوانا ہو تو جیسے چلتا ہے چلنے دو۔ اپنی زندگی تباہ ہونے دو اور ساتھ ساتھ اس بے زبان،بے چاری غریب کو بھی تڑپا تڑپا کر مار ڈالو جس کو قسمت نے تمہارے رحم وکرم پر چھوڑا ہے اور اتنا ہونے کے باوجود ساس اماں اور نند کے برتاؤمیں ذرہ بھی فرق نہیںآئے گا اور آنے والی نسل بھی خوف ،عدم اعتماد،اور بزدلی کا شکار رہے گی۔

محمد وسیم:

خیر چھوڑو ان باتوں کو ۔کافی دیر ہوگئی،گھر بھی پہنچنا ہے۔اللہ بہتر کرے۔

افضال احمد:

کیوں نہیں ۔(سلام کرتے ہوئے گھر کی راہ لیتا ہے۔دوسرے صبح گھر میں یہ سین ہے )

……………………………

آمنہ بی بی:

دلہن! او دلہن کیا کر رہی ہو اب تک چائے بھی تیار نہیں کی۔سو بار کہا ہے جلدی جلدی کام کیا کر،اب یہ بیچاری بھی کیا کرے ماں باپ نے کچھ سکھایا بھی ہو تو پھر ہے……!

(مریم چائے لیکر آتی ہے)

آمنہ بی بی:

کیک وہیںرکھ آئی ہو؟!

مریم:

زبیدہ لا رہی ہے امی جان۔

آمنہ بی بی:

تجھ سے نہ ہوسکا؟ہاتھ ٹوٹ گئے تھے کیا؟ایسا ہی تھا تو ماںباپ نے ایک آدھ نوکرانی کیوں نہیں بھیجی تاکہ تجھے کچھ کرنا ہی نہ پڑتا۔

افضال احمد:

یہ کیک کس نے بنائے ہیں ؟

زبیدہ:

مریم بھابی نے ؟

آمنہ بی بی:

درخت جتنی لمبی ہوگئی ہے پھر بھی کچھ نہیں جانتی۔

افضال احمد:

زبیدہ اٹھالے اس چائے کو میں ہوٹل میں پی لوں گا۔

آمنہ بی بی:

کیوں بیٹے…چائے کو کیا ہوگیا ۔

افضال احمد:

ایسی چائے بنائی ہے ۔گرم پانی اور اس میں کیا فرق ہے؟

آمنہ بی بی:

کیا کروں بیٹا۔میرے تو ناک میں دم آگیا ہے،اس عورت سے تو تنگ آچکی ہوں۔

نوکر:

حضور محمد وسیم میں باہر کھڑے ہیں۔

افضال احمد:


امی جان!میں ہوٹل ہی میں چائے پی لوںگا،آٹھ بج گئے ہیں، دیر ہوجائے گی۔(افضال احمد چلا جاتاہے)

آمنہ بی بی:

تیرے جیسی نا بکار اور بیوقوف کوئی عورت نہ ہوگی،چائے بنانا بھی نہیں آتی،ماں باپ نے تجھے کیا سکھایا ہے !ہائے رے میرے بیٹے کو آج چائے بغیر ہی جانا پڑا۔

مریم:

امی جان اس میں میرا کوئی قصور نہیں ۔زبیدہ نے کہا پانی جوش کھا گیا ہے پھر آپ بھی جلدی کر رہی تھیں… 

آمنہ بی بیـ:

واہ! قصور اپنا اور دوسرے کے سر،شرم نہیں آتی۔

مریم:

نہیں امی جان !میں کسی کے سر نہیں تھوپتی ۔

آمنہ بی بی:

چپ ہوجا…بہت منہ پھٹ ہوگئی ہے… منہ چھوٹا اور بڑی بات۔

…………………………

(باہر سے کسی کے کھنکھارنے کی آواز آتی ہے ۔افضال احمد کے ابا سلیمان سیٹھ داخل ہوتے ہیں،مریم اور زبیدہ اندر کمرہ میں چلی جاتی ہیں)

سلمان سیٹھ:

افضال احمد کی ماں کہاں گئی…دیکھا تو بیوی صاحبہ بیٹھی ہوئی تھی ‘ پوچھا: تُو یہاں بیٹھی بیٹھی کیا کر رہی ہے؟

آمنہ بی بی:

میں اپنی قسمت کو رو رہی ہوں۔

سلمان سیٹھ:

کیوں قسمت کو رو رہی ہے،خدا ئے پاک کا دیا ہوا بہت کچھ تو ہے۔ لڑکے،لڑکیاں ،بہوئیں اب کیا چاہئے؟!

آمنہ بی بی:

اور کیا چاہئے… اس موٹی دلہن نے ناک میں دم کر د یا ہے ۔ چائے  بنائی تھی تو گرم پانی جیسی۔ہائے میرا افضال،میرا کلیجہ، چائے کے بغیر ہی چلا گیا۔ 

سلمان سیٹھ:

چائے میں کیا تھا۔

آمنہ بی بی:

یہی کہ پانی کو جوش آنے بھی نہیں دیا اور پتی ڈال دی۔

سلمان سیٹھ:

  تو جلدی تو نے ہی کی ہوگی۔افضال کی امی !تو بھی کچھ کم نہیں ، چھوٹی چھوٹی اور معمولی باتوں میں ہڑ بونگ مچا دیتی ہو،پورا گھر پر اٹھا لیتی ہو ۔ تیری یہ عادت مجھے بالکل پسند نہیں اور اوپر سے قصور دلہن کے سر تھوپ دیتی ہو۔

آمنہ بی بی:

لو،دلہن کا تو کوئی قصور ہی نہیں ۔واہ رے واہ!

سلمان سیٹھ:

اب شاید دلہن کی باری تو ختم ہوئی،میری باری آئی ہے۔دیکھ تو معمولی بات پر طیش میں آگئی ۔کون کہتا ہے کہ بہو کا کوئی قصور ہی نہیں ‘اس کا یہ قصورکیا کم ہے کہ وہ تیری بہو بن کر آئی ۔

آمنہ بی بی:

جاؤ جاؤ! میری جیسی ساس اسے پھر نہ ملے گی،چاہے وہ دوسرا ہی جنم کیوں نہ لے۔

سلمان سیٹھ:

بھلا اس کو دوسرا جنم لینے کی ضرورت کیا ہے ،جبکہ اس جنم میں ہی تو اس کو مل گئی ہے۔

آمنہ بی بی:

ہائے ہائے ! اس نالائق کی طرف داری کرکے جلتے میں تیل نہ ڈالو ۔ میرے تو تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ہائے ہائے ، میرے بچے کو چائے کے بغیر ہی آج جانا پڑا۔

سلمان سیٹھ:

افضال احمد کی ماں !ذرا اپنی زبان پر قابو رکھ۔

آمنہ بی بی:

کیا خاک قابو رکھوں۔

سلمان سیٹھ:


افضال احمد کی چائے کی تجھے بہت فکر ہے ۔تجھے کیا خبر کہ وہ اپنے یار دوستوں کے ساتھ ہوٹلوں میں کتنی چائے انڈیلتا ہوگا۔

آمنہ بی بی:

تم کو تو اولاد سے ذرا بھی پیار محبت نہیں۔

سلمان سیٹھ:

دیکھو بیگم!دوبارہ اس طرح مت بولنا،کون کہتا ہے کہ مجھے اولاد سے محبت نہیں ؟افضال کے ساتھ محبت نہ ہوتی تو میں اس کی دلہن کی طرف داری کیوں کرتا۔

آمنہ بی بی:

رہنے دو تم تو وکیلوں کی طرح بات بات میں دلیل دیتے ہو۔

سلمان سیٹھ:

ارے وکیلوں کی طرح کیا؟میں وکیل تو پہلے تھا ہی،پھر الحمد للہ جھوٹ بولنے سے توبہ کرلی، پھر اللہ تعالی نے اپنے فضل سے وکالت سے نجات دے کر جائز تجارت عطا فرمادی ،اس لئے وکیلوں جیسی باتیں بھی کروں گا اور گھر ہو یا کچہری وکیل آخر وکیل ہے۔

آمنہ بی بی:

یہ سب تمہارا ہی کیا ہوا ہے،میں تو خدیجہ آپا کے پاس سے منگنی لیکر پچھتا رہی ہوں۔

سلمان سیٹھ:

کیوں! اس میں خدیجہ آپا نے کون سا گناہ کردیا۔پڑھی لکھی ، دین دار، اور باپردہ دلہن تیرے گھر لاکر بٹھا دی ہے، پھر کیا ہے؟

آمنہ بی بی:

اونھ!پڑھی لکھی … ارے اس سے تو اَن پڑھ اچھی۔

سلمان سیٹھ:

افضال احمد کی ماں !میں تجھے یہ پوچھتا ہوں کہ تو پورا دن ہاتھ منہ دھو کر اس کے پیچھے کیوں لگی رہتی ہے۔

آمنہ بی بی:

تو یوں کہہ کر میرا دماغ خراب ہوگیا ہے،اس لئے اس کے پیچھے پڑ گئی ہوں۔

سلمان سیٹھ:

سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اتنی کیوں بدل گئی ہو۔تم میں اتنا فرق کیوں آگیا ہے۔

آمنہ بی بی:

کیوں؟ مجھ میں کیا فرق آگیا ہے۔

سلمان سیٹھ:

تو وہ زمانہ بھول گئی جب میری ماں زندہ تھی ، تب مجھے تو بار بار کہا کرتی تھی کہ چلو اپنا الگ گھر لے لیں،مجھے یہاں نہیں رہنا۔مجھے میکے بھیج دو اور یہ سب تو مجھے کیوں کہتی تھی۔ اسی لئے نا کہ تو امی جان کے برتاؤ سے اُکتا گئی تھی۔ کیا تجھ میں کام کرنے کی صلاحیت نہ تھی،یہ سب ہونے کے باوجود اماں جان تجھے ٹوکتی تھی ،تو اس وقت تیرا دل دکھتا نہ تھا…؟

آمنہ بی بی:

نہیں جی، مجھے تو ذرا بھی ناگوار نہ گزرتا تھا۔

سلمان سیٹھ:

اچھا؟ ناگوار نہیں گزرتا تھا تو پھر ماں کے برے برتاؤ کی شکایت مجھ سے کیوں کرتی تھی۔ نہیں نہیں ! تجھے ضرور ناگوار گزرتا تھا لیکن اصل حقیقت تو مجھ سے چھپا رہی ہے ۔ صرف اس لئے کہ آج تو دلہن کے بجائے ساس بنی ہوئی ہے‘ اب ذرا سوچ تو سہی کہ تیری اس ہر گھڑی کی ٹک ٹک اور بات بات میں طعن و تشنیع سے دلہن کا دل دکھتا نہ ہوگا۔کیا وہ افضال احمد سے تیرے اس سخت برتاؤ کی شکایت نہ کرتی ہوگی؟اور کیا اس کے دل میں الگ ہوجانے کا خیال نہ آتا ہوگا؟ تجھے ان سب باتوں کا تجربہ ہے ‘پھر تو اس طرح بچوں جیسی حرکتیں اورچھچورا پن کیوں کرتی ہے؟ مجھے اس بات سے تعجب ہوتاہے کہ عورت جب ساس بنتی ہے تو پھر اس کی عقل چرنے کیوں چلی جاتی ہے اور اس کو اس بات کا خیال کیوں نہیں رہتا کہ وہ بھی ایک دن دلہن تھی… ! فرض کرو کہ اس دلہن کی جگہ تیری زبیدہ ہوتی تو تیرے دل کو کیا ہوتا؟

آمنہ بی بی:

نا،رے، بھئی، میں اپنی لڑکی کی شادی ایسی جگہ ہونے نہ دوں گی جہاں اس کی ساس جلاد جیسی ہو۔

سلمان سیٹھ:

اچھا! اپنی بیٹی کے لئے تو ساس کو بھی برداشت نہیں کرسکتی اور  دوسروں کی بیٹیوں کو تو جان سے مار دو تو بھی کوئی گناہ نہیں…!

آمنہ بی بی:

جان سے کون مار رہا ہے۔

سلمان سیٹھ:

یہ تو جان سے مار ڈالنے سے بھی زیادہ عذاب ہے کہ کسی پر اس کی زندگی اجیرن کردی جائے، اٹھتے بیٹھتے اس کو برا بھلا کہا جائے ،بات بات پر طعنے مارے جائیں ،ہر گھڑی اس پر لعنت برسائی جائے، ایسا کرنا تو تڑپا تڑپا کر مارڈالنے سے بھی زیادہ برا ہے۔ جلاد ساسوں کی ایسی کڑی کسیلی باتوں سے انسانیت سوز سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں واقعات سے لبریز ہیں۔

آمنہ بی بی:

لو، اب چھوڑو بھی ایسی باتیں ، تم تو وعظ کرنے بیٹھ گئے ،چلو اب کھانا کھالو ،دیر ہوگئی۔ارے زبیدہ تو اپنے ابا کے لئے کھانا لے آ۔

سلمان سیٹھ:

نہیں میںاس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے یہ وعدہ نہ کرے کہ آج سے دلہن کو کچھ نہ کہے گی۔

آمنہ بی بی:

اچھا اچھا بھئی!کھانا تو کھالو، میں آج سے افضال احمد کی دلہن کو کچھ نہ کہوں گی ،اب تو خوش ہوگئے نا؟

سلمان سیٹھ:

خوش تو میں اس وقت ہوں گا جب تو اس وعدہ کی پاسداری کرے گی ورنہ میں تم دونوں کو الگ الگ رکھوں گا یہی میرا فیصلہ ہے…!


(ھدیۃ العروس)


No comments:

Post a Comment